فیفا نے سیپ بلاٹر کو صدر منتخب کر لیا

سیپ بلاٹر کے حریف اردن کے علی ابن الحسین نے ووٹنگ کے دوسرے مرحلے سے دستبردار ہو گئے

،تصویر کا ذریعہReuters

،تصویر کا کیپشنسیپ بلاٹر کے حریف اردن کے علی ابن الحسین نے ووٹنگ کے دوسرے مرحلے سے دستبردار ہو گئے

بدعنوانی کے الزامات میں گھری فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا نے سیپ بلاٹر کو پانچویں بار تنظیم کا صدر منتخب کر لیا ہے۔

سیپ بلاٹر کے حریف اردن کے علی ابن الحسین نے ووٹنگ کے دوسرے مرحلے سے دستبردار ہو گئے۔

سیپ بلاٹر کو مطلوبہ دو تہائی ووٹوں میں صرف سات ووٹوں کی کمی کا سامنا تھا لیکن پرنس علی نے مذید مقابلہ نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔

سیپ بلاٹر نے اپنی فتح کے بعد ان تمام افراد کا شکریہ ادا کیا جنھوں نے انھیں اور ان کے مدِ مقابل علی ابن الحسین کو ووٹ دیے۔

ان کا کہنا تھا ’ میں پرفیکٹ نہیں ہوں، کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہے تاہم مجھے یقین ہے کہ ہم ساتھ مل کر اچھا کام کریں گے۔‘

اس سے پہلے فیفا کے کل 209 ارکان میں سے 133 نے موجودہ صدر سیپ بلیٹر پر ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں اعتماد کا اظہار کیا۔

سوئٹزرلینڈ کے شہر زیورخ میں جمعے کو ہونے والے تنظیم کے انتخابات کے پہلے مرحلے میں دونوں امیدواروں میں سے کوئی بھی دو تہائی اکثریت حاصل نہیں کر سکا جس کی بنا پر دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کی گئی۔

سیپ بلیٹر کا کہنا تھا کہ فٹبال اور فیفا کی ساکھ کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

،تصویر کا ذریعہGetty

،تصویر کا کیپشنسیپ بلیٹر کا کہنا تھا کہ فٹبال اور فیفا کی ساکھ کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی

یہ انتخاب ایک ایسے موقعے پر ہوا جب دو دن قبل زیورخ سے ہی فیفا کے دو نائب صدور سمیت سات عہدیداروں کو امریکہ میں جاری فراڈ اور بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا۔

امریکی حکام نے اب تک اس سلسلے میں 14 افراد پر منی لانڈرنگ، دھوکہ دہی اور کمیشن لینے کے الزامات کے تحت فردِ جرم عائد کی ہے۔

ان گرفتاریوں کے بعد اس انتخاب میں فیورٹ قرار دیے جانے والے امیدوار اور تنظیم کے موجودہ صدر سیپ بلیٹر کے استعفے کے مطالبات بھی سامنے آئے لیکن انھوں نے کہا ہے کہ وہ اس سکینڈل کے لیے ذمہ دار نہیں ہیں۔

جمعے کو ووٹنگ سے قبل دونوں امیدواروں کو ووٹ دینے والے رکن ممالک کے نمائندوں سے خطاب کے لیے 15 منٹ کا وقت دیا گیا۔

جمعرات کو فیفا کے دو روزہ سالانہ اجلاس کے پہلے دن اپنے خطاب میں سیپ بلیٹر نے کھیل کو ’شرمسار اور بدنام‘ کرنے والے ’انفرادی اعمال‘ کی مذمت کی تھی۔

 فیفا کے دو نائب صدور سمیت سات عہدیداروں کو امریکہ میں جاری فراڈ اور بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن فیفا کے دو نائب صدور سمیت سات عہدیداروں کو امریکہ میں جاری فراڈ اور بدعنوانی کی تحقیقات کے سلسلے میں حراست میں لیا گیا ہے

تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگرچہ انھیں فٹبال میں ہونے والی اس کرپشن کا ’قطعی طور پر ذمہ دار‘ قرار دیا جا رہا ہے تاہم وہ ’ہر وقت اور ہر کسی کی نگرانی نہیں کر سکتے۔‘

اپنی تقریر میں سیپ بلیٹر کا کہنا تھا کہ گذشتہ ہفتے رونما ہونے والے واقعات کے فٹبال کے کھیل پر گہرے اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ کچھ افراد کے انفرادی اعمال کی وجہ سے فٹبال کا کھیل بدنام ہوا۔ انھوں نے ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنے اور انھیں ان کے عہدوں سے ہٹانے کا مطالبہ کیا۔

سیپ بلیٹر کا کہنا تھا کہ ہم فٹبال اور فیفا کی ساکھ کو خراب کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے اور اب اسے روکنا ہو گا۔

انھوں نے اس بات کو تسلیم کیا کہ ’آنے والے چند مہینے آسان نہیں ہوں گے اور مجھے یقین ہے کہ ابھی مزید بری خبریں آئیں گی۔‘

اس سے پہلے برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا کے صدر میشل پلاٹینی نے بلیٹر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔