’بلاٹر اپنے دفتر میں ہی مرنا چاہتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہAFP
اناسی برس کے سیپ بلاٹر جب جمعے کو فیفا کے صدارتی الیکشن کے لیے فیفا کے اجلاس میں قدم رکھیں گے تو انھیں یہ الیکشن جیتنے کے لیے کسی مخالفت کا سامنا نہیں ہوگا۔
جمعے کو ہونے والا الیکشن فیفا کے حکام کے لیے عمومی طور پر ایک رسمی تقریب ہے نہ کہ ایک جمہوری طریقہ کار۔ لیکن بدھ کو کرپشن کے الزامات پر ہونے والی گرفتاریوں سے یہ الیکشن ماند پڑ گیا ہے۔
اس الیکشن میں فیفا کے 209 ممبران حصہ لیں گے۔ جن میں سے زیادہ تر کا تعلق ان ملکوں سے ہے جو کہ فیفا کہ بظاہر چھوٹے ملکوں کے ممبران ہیں اور جنھیں سیپ بلاٹر عرصہ دراز سے نوازتے رہے ہیں۔
پرتگال کے کپتان اور شہرہ آفاق فٹبالر لوئس فیگو نے جو کہ فیفا کے صدارتی انتخابات میں ایک اہم امیدوار تھے ڈچ فٹبال کلب ایجکس کے سابق ڈائریکٹر مائیکل وین پراگ کے ہمراہ ان انتخابات سے نام واپس لے لیا تھا۔ بلاٹر کو اب اردن کے شہزادے علی بن حسین کی شکل میں صرف ایک ہی امیدوار کا سامنا ہوگا۔
اور عام تاثر یہ ہے کہ علی بن حسین کو بلاٹر کے مقابلے میں ووٹ بہت کم ملیں گے، جس سے بلاٹر کا پانچویں بار دنیائے فٹبال کے منافع بخش ادارے فیفا کی صدارت کا راستے ہموار ہوگیا ہے۔
لیکن وہ کیا چیز ہے جو کہ اسی سالہ بلاٹر کو ہر بار اس اہم عہدے پر واپس آنے کے لیے اکساتی ہے؟
سوئٹزرلینڈ کی پارلیمنٹ کے رکن رولینڈ بچیل، کہتے ہیں کہ بلاٹر خود کو فیفا کی بھاگ دوڑ سنبھالنے والے واحد شخص کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ بلاٹر اپنے دفتر میں ہی مرنا چاہتے ہیں۔

سنہ 1930 کی دہائی میں سوئٹزرلینڈ کے علاقے وسپ میں پیدا ہونے والے بلاٹر کو اپنے مقامی سکول میں ’پلے گراؤنڈ کنگ‘ یعنی کھیل کے میدان کا بادشاہ کہا جاتا تھا۔ وہ وہاں واحد کھلاڑی تھے جن کا کھیل بین الاقوامی معیار کا تھا۔
سکول ختم کرنے کے بعد دیگر سوئس ہم وطنوں کی طرح انھوں نے ملک کی فوج میں ایک لازم اور خاص طویل عرصہ گزارا جہاں وہ کرنل کے عہدے تک پہنچے۔ ان کے اس عہدے کے دوران انھوں نے ایسے تعلقات قائم کیے جن سے ان کو آگے چل کر بہت مدد ملی۔
فوج کے بعد بلاٹر نے سوئٹزرلینڈ کی گھڑیوں کی صنعت اور سپورٹس مینیجمنٹ کے شعبے سے وابستہ رہے اور 1976 میں فیفا کے ٹیکنکل ڈائریکٹر تعینات ہوئے۔
رولینڈ بچیل کو یاد ہے کہ جب 1998 میں بلاٹر پہلی بار فیفا کے صدر منتخب ہوئے تھے تب ان کے آبائی ملک سوئٹزرلینڈ میں جشن کا سماں تھا۔
وہ کہتے ہیں ’ہمیں ایک سوئس شہری کے اتنے اہم بین الاقوامی عہدے پر تعیناتی پر فخر تھا۔‘
ان کے آبائی شہر وسپ میں ان کے سکول کو ان کے نام سے منصوب کردیا گیا ہے۔ سکول میں سالانہ کھیل بھی ان کے نام سے منعقد کیے جاتے ہیں۔ ان کا اب بھی وہاں گرم جوشی سے استقبال کیا جاتا ہے۔
مقامی اخبار والسٹربوٹ کے کھیلوں کے ایڈیٹر ہینس پیٹر کہتے ہیں کہ بلاٹر بہت ہی سادہ طبیعت کے مالک انسان ہیں۔
لیکن بچیل کہتے ہیں کہ جب کرپشن کے الزامات کی بات آتی ہے تو بلاٹر کے پرانے دوست بھی اس سے ناواقف نہیں۔
’سب کو پتہ ہے کہ فیفا کو مسائل کا سامنا ہے۔ لیکن انھیں یہ خیال نہیں ہے کہ سارے مسائل کا ذمہ دار بلاٹر کو ٹہرایا جائے۔‘
بچیل کا خیال ہے کہ بلاٹر کے صدارتی ریکاڈ میں کئی مثبت پہلو بھی ہیں۔ جن میں نئے اور ترقی پزیر ملکوں کی فیفا میں شمولیت اور تاریخ میں پہلی بار افریقہ میں فٹبال ورلڈ کپ کا انعقاد شامل ہیں۔
لیکن بلاٹر کے ناقدین اس بات سے متفق نہیں ہیں۔ سوئس این جی او ٹرانسپیرینسی انٹرنیشنل کی اینٹی کرپشن برانچ کے سربراہ ایرک مارٹن کا کہنا ہے کہ بلاٹر کے پاس فیفا کی انتظامیہ کو بہتر بنانے کے لیے 17 سال کا عرصہ تھا۔ وہ کہتے ہیں ’مجھے نہیں لگتا کہ اب وہ ایسا کچھ کر پائیں گے۔‘
مارٹن کے مطابق اگر سوئٹزرلینڈّ ہر سال ایک نیا صدر منتخب کرسکتا ہے تو فیفا بھی 17 سال بعد ایسا کرسکتا ہے۔
بلاٹر کے بہت سے دوست جہاں انھیں بہت سادہ لوح کہتے ہیں وہیں ان کے ساتھ کام کرنے والے سابق ساتھیوں کا کہنا کہ وہ مخالفت برداشت نہیں کرتے اور ان سے سوال کرنے والے زیادہ عرصہ فیفا میں نہیں رہ پائے۔
بہت سے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ کرپشن کے الزامات اور دیگر بحرانوں کی زد میں اتنا عرصہ بلاٹر کیسے فیفا کے صدر رہے ہیں۔ لیکن اب تک ہونے والی تمام تحقیقات میں بلاٹر کسی بھی قسم کے رشوت کیس میں ملوث نہیں پائے گئے۔
ایک سوئس اخبار نے انھیں مزاقاً ’فٹبال کا سیاح شہزادہ اور گاڈ فادر‘ کہا۔
بچیل کہتے ہیں کہ بلاٹر ان الزامات سے ہمیشہ بچے رہے ہیں۔
’میں آپ کو یقین سے کہ سکتا ہوں کہ وہ رشوت نہیں لیتے۔ پیسا ان کا محرک نہیں ہے۔‘
تاہم تین شادیاں اور 17 سال کے عرصے کے بعد بچیل اور مارٹن کے مطابق بلاٹر کا فیفا کے صدر کی حیثیت سے کام کرتے رہنا فٹبال کی تنظیم کو اب نقصان پہنچا رہا ہے۔
فیفا، سیپ بلاٹر کا کھیل کا میدان ہے۔ اور وہ اس میدان کے بادشاہ ہیں۔ لیکن پھر، بادشاہ کب اتنی آرام سے اپنا تخت چھوڑتے ہیں۔



