’ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کریں گے‘

،تصویر کا ذریعہReuters
فیفا کے صدر سیپ بلاٹر نے جمعرات کو ہونے والےتنظیم کے ہنگامی اجلاس میں صدارت کا عہدہ نہ چھوڑنے اور کل کے صدارتی الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون اور یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا کے صدر مائیکل پلاٹینی نے بلاٹر سے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم ولادیمیر پوتن نے بلاٹر کی حمایت کا اعلان کیا ہے اور ان کے پانچویں بار صدر بننے پر ان کا ساتھ دینے کا بھی کہا ہے۔ جمعرات کو فیفا کے ہنگامی اجلاس میں صدر بلاٹر بدھ کو فیفا کے حکام کی گرفتاریوں کے بعد پہلی بار منظرِ عام پر آئے تھے۔
یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا نے کہا ہے کہ وہ جمعہ کو ہونے والے انتخابات کا بائیکاٹ نہیں کریں گے بالکہ وہ اردن کے شہزارے اور دوسرے واحد امیدوار علی بن حسین کو ووٹ دیں گے۔
یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا کے صدر مائیکل پلاٹینی نے خبردار کیا ہے کہ بلاٹر کی جیت کی صورت میں یورپی فٹبال تنظیم یوئیفا آئندہ ورلڈکپ کا بائیکاٹ بھی کرسکتا ہے۔
اس سے قبل فیفا کے سینیئر افسران پر کرپشن کے الزامات اور ان کی گرفتاری کے باوجود فیفا نے کہا ہے کہ وہ اپنی سالانہ 65ویں کانگریس کا آغاز معمول کے مطابق جمعے کو کرے گی۔ بڑے سپانسرز کوکا کولا، ایڈیڈاس اور ویزا نے موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فیفا کو خبردار کیا ہے کہ وہ فیفا کے ساتھ اپنے تعلقعات پر نظر ثانی کرسکتے ہیں۔
سوئٹزرلینڈ کے شہر زیوریح میں ہونے والے اس اجلاس میں فیفا کی پچھلے سال کی کارکردگی کے علاوہ فیفا کے نئے صدر کا بھی انتخاب کیا جائے گا۔ فیفا کے نئے صدر کی دوڑ میں اردن کے شہزادے علی بن حسین اور موجودہ صدر سیپ بلاٹر شامل ہیں۔
بلاٹر کو، جو کہ 17 سال کے فیفا کے صدر ہیں، ناقدین اور فٹبال ماہرین کی طرف سے شدید تنقید کا سامنا ہے۔
ادھر فیفا کے بڑے سپانسرز نے جن میں کوکا کولا، ایڈیڈاس، میکڈانلڈز، گیس پرام، سونی اور ویزا شامل ہیں، صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فیفا کے سب سے بڑے سپانسر کوکاکولا نے کہا ہے کہ ’موجودہ صورتحال نے فیفا کا نام بدنام کردیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ فیفا اپنے مسائل کو حل کرے‘۔ جبکہ دنیا کے سب سے بڑی فاسٹ فوڈ کمپنی اور سپانسر میک ڈانلڈز نے کہا ہے کہ ’صورتحال انتہائی سنجیدہ ہے اور ہم اس کا بہت باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔‘
ادھر فٹبال کی یورپی تنظیم یوئیفا نے فیفا کے سینیئر افسران پر کرپشن کے الزامات اور ان کی گرفتاری کے بعد پولینڈ کے شہر وارسا میں ہونے والے اپنے ہنگامی اجلاس میں کئی اہم نکات پر بات کی۔ جبکہ یوئیفا کے آج ہونے والے اجلاس میں اس بات کا فیصلہ کیا جائے گا کہ یورپی تنظیم کل ہونے والے صدارتی الیکشن کے بائکاٹ کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔ان کا کہنا ہے کہ حالیہ الزامات اور گرفتاریاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ کرپشن کی جڑیں فیفا کہ اندر کتنی گہری ہیں۔
یوئیفا پہلے ہی صدارتی الیکشن کی سخت الفاظ میں مخالفت کرچکی ہے۔ عام تاثر یہ کہ اس الیکشن میں فیفا کے موجودہ صدر صدر سیپ بلاٹر پانچویں بار صدر منتخب ہوجائیں گے۔ سوئس حکام کے مطابق حالیہ کرپشن کے الزامات کے حوالے سے ہونے والی تحقیقات میں بلاٹر کا نام شامل نہیں ہے۔



