’معاف کر دیتا ہوں، فراموش نہیں کرتا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے صدر سیپ بلاٹر نے یورپی تنظیموں کے افسران کے رویے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے عالمی تنظیم کے خلاف ’نفرت انگیز‘ مہم قرار دیا ہے۔
پانچویں مرتبہ فیفا کے صدر منتخب ہونے والے سیپ بلاٹر کا کہنا تھا کہ امریکہ میں فیفا کے اہلکاروں کے خلاف بدعنوانی کے الزامات کے بعدگرفتاری کے حوالے سے امریکی تحقیقاتی اداروں کے بیانات سن کر انھیں شدید ’دھچکا‘ پہنچا ہے۔
سوئٹزرلینڈ سے تعلق رکھنے والے 79 سالہ بلاٹر کو جمعے کو زیورخ میں فیفا کانگریس نے ایک مرتبہ پھر تنظیم کا صدر منتخب کیا۔
یاد رہے کہ مبینہ بدعنوانی کے الزامات کے منظر عام پر آنے کے بعد فٹبال کی یورپی تنظیم ’یوئیفا‘ کے صدر مچل پلاٹینی نے سیپ بلاٹر پر زور دیا تھا کہ وہ نئے انتخابات سے پہلے تنظیم کی صدارت سے مستعفیٰ ہو جائیں۔
مسٹر بلاٹر کے مخالف امیدوار، اردن کے پرنس علی بن الحسین نے جمعے کو بلاٹر کو دو تہائی اکثریت سے محروم کر کے انھیں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ پر مجبور کر دیا تھا، لیکن پرنس علی دوسرے مرحلے کی ووٹنگ سے پہلے خود ہی مقابلے سے دستبردار ہو گئے تھے۔
بدھ کو امریکی حکام نے فیفا کے چودہ اہلکاروں اور ان کے معاونین کو گرفتار کر لیا تھا اور اگلی ہی صبح سؤٹزرلینڈ کے شہر زیورخ کے ایک بڑے ہوٹل سے سات دیگر افراد کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔ ان تمام لوگوں پر الزام ہے کہ وہ رشوت، تاجروں سے زبردستی رقمیں بٹورنے اور کالے دھن کو سفید کرنے میں ملوث رہے ہیں اور انھوں نے سنہ 1991 کے بعد سے فیفا میں کروڑوں ڈالر کے گھپلے کیے ہیں۔
دریں اثناء سوئس حکام نے بھی سنہ 2018 اور سنہ 2022 کے فٹبال کے عالمی مقابلے بالترتیب روس اور قطر میں منعقد کرانے کے فیصلوں کی تفتیش کا آغاز کر دیا ہے۔
پانچویں مرتبہ فیفا کے صدر منتخب ہونے کے بعد سیٹ بلاٹر انتہائی پر اعتماد دکھائی دے رہے تھے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ ان کے خیال میں بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے تنظیم کو نقصان نہیں پہنچا، تو انھوں نے الزام لگایا کہ ذرائع ابلاغ اس تنازعے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ فیفا کی عزت پر کوئی حرف نہیں آیا ہے اور خاص طور پر ایشیا اور افریقہ میں تنظیم کا احترام برقرار ہے۔

،تصویر کا ذریعہn
تنظیم کے رہنما کے طور پر ان کی ذات پر ہونے والی تنقید کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے مسٹر بلاٹر نے کہا کہ ’میں ابھی ابھی پانچویں مرتبہ تنظیم کا صدر منتخب ہوا ہوں۔ اس کا مطلب ہے میں اتنا خراب آدمی نہیں ہوں۔‘
لیکن مسٹر بلاٹر کے اس جوش وخروش کے پیچھے یہ حقیقت پنہاں ہے کہ فیفا اور اس کے صدر کو ابھی بہت سے کام کرنا ہیں۔ مسٹر بلاٹر سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے والی یورپی تنظیم ابھی تک ان کے ایک مرتبہ پھر صدر بن جانے پر اپنے ردعمل پر غور کر رہی ہے۔
اور دوسری جانب فیفا اور اس کے افسران کو بدعنوانی اور رشوت کے الزامات کے تحت بین الاقوامی سطح کی دو تحقیقات کا سامنا ہے۔ امریکی اور سوئس حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں مزید گرفتاریاں عمل میں لائی جا سکتی ہیں۔
امریکہ میں فیفا کے خلاف مقدمے کی تفصیلات بتاتے ہوئے امریکہ کی اٹارنی جنرل لوریٹا لِنچ کا کہنا تھا کہ ’ان لوگوں نے اپنے مفادات کے تحفظ اور دولت بنانے کے لیے عالمی سطح پر فٹبال کے کاروبار میں بدعنوانی کی۔‘
سنیچر کو مسٹر بلاٹر کے بیان سے پہلے امریکی محکمۂ ٹیکس کے اہلکار رچرڈ ویبر نے روزنامہ نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ ہم خاصے پراعتماد ہیں کہ ہم اگلے مرحلے میں مزید لوگوں پر فرد جرم عائد کریں گے۔‘
لیکن سوئٹزرلینڈ کے ایک نجی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے مسٹر بلاٹر اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں شک ہے کہ حالیہ گرفتاریوں کا مقصد ایک ایسے وقت میں فٹبال کی عالمی کانگریس کے معاملات میں ٹانگ اڑانا تھا جس وقت کانگریس انھیں ایک مرتبہ پھر صدر منتخب کرنے جا رہی تھی۔’میں یقین سے نہیں کہہ سکتا لیکن مجھے اس سے بدنیتی کی بو آتی سے۔‘
اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے مسٹر بلاٹر نے نشاندھی کی کہ امریکہ 2022 کے ورلڈ کپ کی میزبانی کے لیے قطر سے ہار چکا ہے، اور اسی طرح ان پر تنقید کرنے والا دوسرا بڑا ملک برطانیہ بھی 2018 کے عالمی کپ کی میزبانی روس کے ہاتھ ہار چکا ہے، اور اس کے علاوہ ہمیں یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ صدارت کا انتخاب ہارنے والے پرنس علی کا ’سب سے بڑا حمایتی اور ان کی مالی اعانت کرنے والا ملک‘ بھی امریکہ ہی ہے۔
انٹرویو میں مسٹر بلاٹر نے امریکی اٹارنی جنرل مِس لِنچ اور ایف بی آئی کے دیگر اہلکاروں کے اس بیان بھی شدید مذمت کی جس میں انھوں نے فیفا کو ’فراڈ کا عالمی کپ‘ قرار دیا۔
’صاف ظاہر ہے یہ سن کر مجھے شدید دھچکا پہنچا ہے۔ فیفا کے صدر کی حقیثیت سے میں کسی بھی دوسرے ادارے یا تنظیم کے خلاف اس وقت تک کبھی ایسی بات نہ کروں جب تک مجھے نہ ہو جائے کے کوئی گڑ بڑ ہوئی ہے۔
مسٹر بلاٹر کو افریقہ اور ایشیا میں زبردست حمایت حاصل ہے اور آئندہ عالمی مقابلوں کے میزبان روس نے مسٹر بلاٹر کے ایک مرتبہ پھر صدر منتخب ہونے پر خوشی کا اظہار کیا ہے اور صدر پوتن نے مسٹر بلاٹر کو مبارکباد کا تار بھی بھیجا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty
لیکن یورپ میں فٹبال کی تنظیموں کی اکثریت نے مسٹر بلاٹر کے صدر بن جانے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا ہے۔
یورپی تنظیم ’یوئیفا‘ نے پرنس علی کی حمایت کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ’فیفا میں تبدیلی کی تحریک‘ بن سکتے ہیں۔
’یوئیفا‘ کے صدر مسٹر پلاٹینی کی جانب سے مستعفی ہو جانے کے مطالبے کے حوالے سے مسٹر بلاٹر کا کہنا تھا کہ ’ یہ یوئیفا کے ایک شخص کی نفرت نہیں بلکہ اس تنظیم کی جانب سے میرے خلاف پائی جانے والی نفرت کی عکاسی ہے۔ یوئیفا یہ بات ہضم نہیں کر پا رہی کہ میں پہلی مرتبہ 1998 میں تنظیم کا صدر منتخب ہوا تھا۔‘
جب ان سے پوچھا گیا کہ آیا وہ مسٹر پلاٹینی کو معاف کر سکتے ہیں تو مسٹر بلاٹر نے کہا کہ ’ میں ہر کسی کو معاف کر دیتا ہوں، لیکن بھُولتا نہیں ہوں۔‘



