بلیٹر کے استعفے کے بعد فیفا کا مستقبل کیا؟

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کے حیران کن استعفے نے فٹبال کی دنیا میں تہلکہ مچا دیا ہے۔ ان کے استعفے کے بعد پیدا ہونے والے چند اہم سوالات۔
بلیٹر نے اب کیوں استعفیٰ دیا؟
فیفا کے صدر سیپ بلیٹر اپنی تنظیم کے خلاف بد عنوانی کے الزامات سے بچ گئے ہیں۔
بلیٹر کا استعفیٰ بظاہر امریکی تحقیقات شروع ہونے کے بعد بڑھتے ہوئے دباؤ کے بعد سامنے آیا ہے۔
سیپ بلیٹر کے مستعفی ہونے کے چند گھنٹوں بعد امریکی میڈیا میں خبریں گردش کرنے لگیں کہ ایف بی آئی نے فٹبال کی دنیا میں ہونے والے حالیہ بدعنوانی کے واقعے کی انکوائری کرتے ہوئے فیفا کے صدر سیپ بلیٹر کو بھی شاملِ تفتیش کر لیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے فیفا کانگریس نے79 سالہ بلیٹر کو بھاری اکثریت کے ساتھ پانچویں بار صدر منتخب کیا تھا۔
سیپ بلیٹر نے مستعفی ہونے کے بعد تجویز پیش کی کہ وہ اپنے جانشین کو فیفا کی صدارت دینے سے پہلے فٹبال کے کھیل میں اصلاح لانے چاہتے ہیں۔
شاید یہ باوقار انداز میں رخصت ہونے اور اپنی وراثت کو یقینی بنانے کامنصوبہ تھا، جس کے تحت انھوں نے خود کو ایک ایسے شخص کے روپ میں پیش کیا جس نے فیفا کو بچایا۔
فیفا کا مستقبل کیا ہے؟
فیفا کی آڈٹ اور کمپلائنس کے سربراہ ڈومینکو سکالا نے فٹبال میں بڑی سطح پر اصلاحات لانے کا وعدہ کرتے ہوئے کہا کہ ’سب کچھ میز پر ہو گا۔‘
فیفا میں ہونے والی تمام اصلاحات کی منظوری فیفا کے ارکان کی جانب سے دیے جانے والے ووٹ سے ہوتی ہے جنھوں نے اس سے قبل اس کے خلاف ووٹ دیا تھا۔
تاہم فیفا کے خلاف جاری دو مجرمانہ تحقیقات اور سپانسروں کے دباؤ کی وجہ سے شاید اس بار اس پر توجہ دی جائے۔
ڈومینکو سکالا کی جانب سے لانے والی اصلاحات میں ایک تجویز فیفا کی صدارت کو ایک خاص مدت کے لیے محدود کرنا ہے۔
17 سال تک فیفا کے صدر رہنے والے سیپ بلیٹر درحقیت فیفا کے تیسرے ایسے صدر ہیں جو اتنے لمبے عرصے تک تنظیم کے صدر رہے۔
ڈومینکو سکالا کا مزید کہنا تھا کہ وہ فیفا کے صدر کی تنخواہ کو بھی ظاہر کریں گے جو اس سے پہلے نہیں کی جاتی تھی۔
ان کی یہ بھی خواہش ہے کہ فیفا فٹبال کی علاقائی فیڈریشنوں کی نمائندگی کرنے والے پر نظر رکھے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
موجودہ قوانین کے تحت علاقائی فیڈریشنیں اپنے نمائندگان پر خود نظر رکھتی ہیں۔
روس اور قطر کی بولیاں
فیفا کے نئے صدر کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہو گا کہ آیا وہ امریکی اٹارنی مچل گارسیا کی سنہ 2018 اور 2022 میں ہونے والے فٹبال کے ٹورنامنٹوں کی بولی کی رپورٹ کو شائع کریں گے۔
واضح رہے کہ فیفا نے مچل گارسیا کو ان دونوں ٹورنامنٹوں کی بولی کے حوالے سے تحقیقات کرنے کا ذمہ لیا تھا تاہم انھوں نے فیفا کی جانب سے ان کی مکمل رپورٹ شائع نہ کرنے کے بعد استعفیٰ دے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی رپورٹ صحیح تھی۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق روس کی سنہ 2018 کے فٹبال ٹورنامنٹ کی بولی اب بھی محفوظ ہے۔
دوسری جانب قطر کی جانب سے سنہ 2022 میں دی جانے والی محفوظ نہیں ہے۔
ایف اے چیئرمین گریگ ڈائیک پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ’اگر وہ قطر میں ہوتے تو وہ اتنے پر اعتماد نہ ہوتے۔‘
اگلا کون؟
فیفا کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اس کا اگلا صدر کون ہو گا؟ یہ سوال اس ادارے کا رخ متعین کرے گا۔
اگرچہ اس وقت صورتِ حال کی گرماگرمی میں ایک اصلاح پسند امیدوار مسئلے کا منطقی حل نظر آتا ہے، لیکن یہ واضح نہیں ہے۔
فیفا کی صدارت کے لیے ہونے والے حالیہ انتخاب میں متعدد ممالک نے سیپ بلیٹر کو ووٹ دیا تھا۔ ان کے خیال میں بلیٹر نے فٹبال کی ترتی کے لیے بہت کام کیا ہے لیکن کیا وہ اس طرح کے کسی دوسرے شخص کو ووٹ دیں گے؟



