کامن ویلتھ گیمز 2022: پاکستان کے 68 کھلاڑی شامل مگر تمغے کون جیت سکتا ہے؟

،تصویر کا ذریعہPA Media
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
22ویں کامن ویلتھ گیمز جمعرات کے روز سے انگلینڈ کے شہر برمنگھم میں شروع ہو رہی ہیں جن میں شریک 72 ممالک میں پاکستانی کھلاڑی بھی شامل ہے۔
پاکستان تیرہ کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے اور اس نے 103 رکنی دستہ برمنگھم بھیجا ہے جس میں 68 کھلاڑی شامل ہیں۔ ان میں خواتین کی تعداد 25 ہے۔
پاکستان جن کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے ان میں ایتھلیٹکس، پیرا ایتھلیٹکس، باکسنگ، بیڈمنٹن، ٹیبل ٹینس، سکواش، تیراکی، ویٹ لفٹنگ، ریسلنگ، جوڈو، ہاکی، جمناسٹکس اور خواتین کی کرکٹ شامل ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ پاکستانی دستے میں شریک کھلاڑیوں اور آفیشلز کی تعداد کے سلسلے میں بھی پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور پاکستان سپورٹس بورڈ کے درمیان اختلاف رہا۔ جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دستے میں شامل کھلاڑیوں اور آفیشلز میں کچھ کو پاکستان سپورٹس بورڈ نے سپانسر کیا ہے اور کچھ کے اخراجات پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن اور ان کھیلوں کی قومی فیڈریشنز نے برداشت کیے ہیں۔ خواتین کی کرکٹ ٹیم کو پاکستان کرکٹ بورڈ نے سپانسر کیا ہے۔
پاکستان سپورٹس بورڈ کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اس نے صرف ان ہی کھیلوں کو اپنے طور پر دستے میں شامل کیا ہے جن میں کھلاڑیوں کی طرف سے اچھی کارکردگی یا تمغہ جیتنے کی امید ہے۔

،تصویر کا ذریعہINAM BUTT
ریسلنگ اور ویٹ لفٹنگ پر نظریں
برمنگھم کے مقابلوں میں پاکستانی ویٹ لفٹرز اور پہلوانوں پر سب کی نظریں ہیں۔
چار سال قبل آسٹریلیا کے شہر گولڈ کوسٹ میں منعقد ہونے والے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان نے ایک طلائی اور چار کانسی کے تمغے جیتے تھے اور یہ سب ان ہی دو کھیلوں میں حاصل کیے گئے تھے۔
پہلوان انعام بٹ نے 86 کلوگرام کیٹگری میں طلائی تمغہ جیتا تھا جبکہ طیب رضا اعوان اور محمد بلال نے کانسی کے تمغے حاصل کیے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ویٹ لفٹنگ میں طلحہ طالب اور نوح دستگیر بٹ کے حصے میں کانسی کے تمغے آئے تھے۔
نوجوان ویٹ لفٹر طلحہ طالب بدقسمتی سے ڈوپنگ کی وجہ سے کامن ویلتھ گیمز میں شریک نہیں ہیں لیکن نوح دستگیر بٹ، حیدر علی اور بیس سالہ ہنزلہ دستگیر بٹ اچھی کارکردگی دکھانے کے لیے پُرعزم نظر آتے ہیں۔
ریسلنگ میں پاکستانی سکواڈ انعام بٹ، علی اسد، طیب رضا اعوان، محمد شریف طاہر اور زمان انور پر مشتمل ہے۔
انعام بٹ ایک مرتبہ پھر 86 کلوگرام کیٹگری میں اپنی صلاحیتیں آزمائیں گے۔
وہ پاکستان کے سب سے کامیاب پہلوان ہیں جو 2018 کے علاوہ 2010 کے دہلی کامن ویلتھ گیمز میں بھی گولڈ میڈل جیت چکے ہیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے ورلڈ بیچ ریسلنگ چیمپیئن شپ میں بھی پانچ گولڈ میڈل جیت رکھے ہیں۔
پہلوانی (ریسلنگ) ایک ایسا کھیل ہے جس میں پاکستان نے کامن ویلتھ گیمز میں ہمیشہ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔
پاکستان نے کامن ویلتھ گیمز میں اب تک مجموعی طور پر 25 طلائی، چاندی کے 24 اور کانسی کے 26 تمغے جیتے ہیں جن میں صرف ریسلنگ میں جیتے گئے طلائی تمغوں کی تعداد 21 ہے۔ چاندی کے 11 اور کانسی کے 10 تمغے اس کے علاوہ ہیں۔

سال 1962 میں آسٹریلیا کے شہر پرتھ میں منعقدہ چوتھے کامن ویلتھ گیمز کارکردگی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بہترین گیمز ثابت ہوئے تھے جن میں اس نے آٹھ طلائی تمغے جیتے تھے۔ ان میں سے ایک گولڈ میڈل ایتھلیٹ غلام رازق کا تھا جبکہ سات طلائی تمغے پہلوانوں کی شاندار کارکردگی کا منھ بولتا ثبوت تھے۔
پاکستانی پہلوان محمد نیاز دین، محمد سراج الدین، علاؤالدین، محمد اشرف، محمد بشیر، محمد نیاز اور محمد فیض گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئے تھے۔ صرف ایک پہلوان محمد سعید کو فائنل میں شکست ہوئی تھی اور انھیں چاندی کا تمغہ ملا تھا۔
’تین سال ضائع ہوگئے‘
انعام بٹ نے برمنگھم سے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ چار سال قبل گولڈ کوسٹ میں طلائی تمغہ جیتنے کے بعد صورتحال اُتار چڑھاؤ کا شکار رہی۔
سنہ 2018 میں حکومت کی تبدیلی کے بعد قومی سطح کے تمام تربیتی کیمپ بند کر دیے گئے اور 2020 تک کوئی بھی تربیتی کیمپ نہیں لگا۔ اس کے بعد کووڈ آگیا اور اس کی وجہ سے بھی پورا سال ضائع ہوگیا۔ تمام کھلاڑی گھروں میں بیٹھے رہے۔
انعام بٹ کہتے ہیں کہ ٹوکیو اولمپکس دنیا کے سب سے بڑے مقابلے تھے لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں اس کے لیے بھی کوئی منصوبہ بندی نہیں کی گئی۔
’اس کے برعکس دنیا کے دیگر ممالک نے کووڈ کے باوجود اپنے کھلاڑیوں کے لیے بائیو سکیور ببل قائم کر کے اولمپکس کی تیاری جاری رکھی تھی۔ ان کی ٹریننگ ایک دن بھی نہیں رکی تھی۔‘
یہ بھی پڑھیے
انعام بٹ کا کہنا ہے کہ اس سال سپورٹس کی سرگرمیاں شروع ہوئیں اور پاکستان سپورٹس بورڈ نے پاکستان ریسلنگ فیڈریشن کے ساتھ مل کر کیمپ کا انعقاد کیا جو چار ماہ تک جاری رہا لیکن بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے لیے آپ کو بین الاقوامی ٹریننگ درکار ہوتی ہے، وہ ریسلرز کو نہیں مل سکی۔ ’متعدد بار حکومت کی توجہ اس جانب دلائی گئی لیکن ریسلرز کے لیے بین الاقوامی ٹریننگ کا بندوبست نہیں کیا جاسکا۔‘
انعام بٹ اس بات پر بہت زیادہ خوش ہیں کہ پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر لیفٹنٹ جنرل (ریٹائرڈ) عارف حسن کی کوششوں کے نتیجے میں انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی (آئی او سی) نے پاکستان کے بارہ کھلاڑیوں کو پیرس اولمپکس تک سکالرشپ دینے کا فیصلہ کیا ہے جن میں وہ بھی شامل ہیں۔
ان کے علاوہ دیگر چار کھلاڑی ارشد ندیم، ماہور شہزاد، نوح دستگیر بٹ اور محمد بلال اس وقت کامن ویلتھ گیمز میں شریک ہیں۔ ہر کھلاڑی کو ہر ماہ چھ سو پچیس ڈالرز ملتے ہیں جن سے کھلاڑیوں کو اپنی ٹریننگ میں بڑی مدد ملے گی۔

،تصویر کا ذریعہTwitter
ارشد ندیم سے توقعات
انعام بٹ کے بعد ارشد ندیم وہ دوسرے کھلاڑی ہیں جن سے اچھی کارکردگی کی توقع ہے۔
ارشد ندیم نے 2019 کے ساؤتھ ایشین گیمز میں 86 اعشاریہ 29 میٹرز دور جیولن تھرو کر کے ٹوکیو اولمپکس کے لیے براہ راست کوالیفائی کیا تھا۔
ٹوکیو اولمپکس میں ارشد ندیم پانچویں نمبر پر آئے تھے۔ انھوں نے 84 اعشاریہ 62 میٹرز دور نیزہ پھینکا تھا۔ انڈیا کے نیرج چوپڑا نے ان مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتا تھا۔
امریکہ میں منعقدہ حالیہ ورلڈ ایتھلیٹکس چیمپیئن شپ میں بھی ارشد ندیم کی پوزیشن پانچویں رہی ۔انھوں نے 86 اعشاریہ 16 میٹرز دور جیولن تھرو کی جو اس سیزن میں ان کی سب سے اچھی کارکردگی ہے۔ عالمی مقابلے میں انڈیا کے نیرج چوپڑا چاندی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہوئے۔
ارشد ندیم اگرچہ کامن ویلتھ گیمز میں بلند حوصلے کے ساتھ شریک ہیں لیکن وہ کافی دنوں سے کہنی کی تکلیف میں بھی مبتلا ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ پہلے سے بہتر محسوس کر رہے ہیں تاہم انھیں ان گیمز کے بعد کہنی کے علاج پر بہت زیادہ توجہ دینی ہوگی کیونکہ وہ خود کہہ چکے ہیں آٹھ دس تھرو کے بعد انھیں کہنی اور بازو میں درد شروع ہوجاتا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان انڈیا مدمقابل
کامن ویلتھ گیمز میں یوں تو متعدد ایونٹس میں پاکستان اور انڈیا مدمقابل آئیں گے لیکن کرکٹ کا سب کو انتظار ہے۔
کامن ویلتھ گیمز میں خواتین ٹی ٹوئنٹی کو شامل کیا گیا ہے اور پاکستان اور انڈیا کی کرکٹ ٹیمیں 31 جولائی کو ایجبسٹن میں آمنے سامنے ہوں گی۔
ہاکی میں پاکستان اور انڈیا الگ الگ گروپ میں ہیں لہذا سیمی فائنل اور کلاسیفکیشن میچوں سے قبل دونوں کے آمنے سامنے کا کوئی امکان نہیں ہے۔












