راولپنڈی ٹیسٹ کا تیسرا روز: آسٹریلوی بلے باز عثمان خواجہ سنچری سے قبل آؤٹ مگر پاکستانی بولرز کے لیے مشکل دن

عثمان خواجہ، بابر اعظم

،تصویر کا ذریعہEPA

    • مصنف, عمیر سلیمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

آسٹریلیا کے خلاف ہوم سیریز کے پہلے ٹیسٹ کے تیسرے روز پاکستان کو مہمان ٹیم پر 205 رنز کی برتری حاصل ہے جبکہ سٹیو سمتھ اور مارنس لبوشین کریز پر موجود ہیں۔

خراب روشنی اور بارش کی بدولت دن کا اختتام قبل از وقت ہوا اور پاکستان کی پہلی اننگز میں 476 رنز کے جواب میں آسٹریلیا نے 73 اوورز کے کھیل میں دو وکٹوں کے نقصان پر 271 رنز بنائے ہیں۔ اس میں اوپنر عثمان خواجہ کی 97 رنز کی شاندار بیٹنگ شامل ہے۔

پاکستانی سپنرز ساجد خان اور نعمان علی کو ایک، ایک وکٹ ملی ہے۔

آسٹریلوی اوپنرز عثمان خواجہ اور ڈیوڈ وارنر کے درمیان 156 کی شراکت اس وقت ٹوٹی جب وارنر نے ساجد خان کی ایک فُل گیند کو کٹ کرنے کی کوشش کی اور وہ بولڈ ہوگئے۔

وارنر نے 12 چوکوں کے ساتھ 68 کا سکور بنایا تھا۔

ساجد خان

،تصویر کا ذریعہPCB

دوسرا نقصان آسٹریلیا کو اس وقت ہوا جب آغاز میں مہنگے ثابت ہونے والے نعمان علی اپنا دوسرا سپیل کرانے پہنچے۔ 15 چوکوں کے ساتھ 97 رنز پر کھیلتے ہوئے عثمان خواجہ نے انھیں ریورس سویپ لگانے کی کوشش کی مگر گیند گلوو پر لگی اور امام الحق نے شارٹ لیگ پر ان کا کیچ تھام لیا۔

اس وقت سٹیو سمتھ اور مارنس لبوشین کے درمیان 68 رنز کی شراکت جاری ہے اور لبوشین نے 69 رنز کی متاثر کن باری کھیلی ہے۔

ان دو کامیابیوں کے علاوہ پاکستانی بولرز کے لیے یہ ایک مشکل دن تھا۔

فلیٹ پچ پر فاسٹ بولرز شاہین شاہ آفریدی اور نسیم شاہ کو کوئی وکٹ نہیں مل سکی۔ تاہم شاہین کی گیند پر فواد عالم نے گلی پوزیشن پر فیلڈنگ کرتے ہوئے خواجہ کا ایک آسان کیچ چھوڑا تھا۔ اس وقت وہ محض 22 رنز پر بیٹنگ کر رہے تھے۔

اظہر علی، امام الحق

،تصویر کا ذریعہEPA

اس سے قبل پاکستان کی اننگز میں کیا ہوا تھا؟

خیال رہے کہ پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ٹیسٹ کے ابتدائی دو روز میں چار وکٹوں کے نقصان پر 476 رنز پر ڈکلیئر کیا تھا۔ ایک طرف اوپنر امام الحق اور اظہر علی کی سنچریوں کو سراہا گیا ہے تو وہیں 162 اوورز کی بیٹنگ میں 2.93 کا قدرے سلو رن ریٹ زیر بحث آیا ہے۔

ڈکلیئر کرنے کے وقت محمد رضوان ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ایک ہزار رنز مکمل کرتے ہوئے 29 اور افتخار احمد 13رنز پر کریز پر موجود تھے۔

دوسرے روز امام الحق اور اظہر علی نے کچھوے کی چال سے اننگز شروع کی اور پہلے سیشن میں کیے گئے 25 اوورز میں صرف 57 رنز کا اضافہ ہوسکا۔ اس محتاط رویے کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ دن کا پہلا چوکا نویں اوور میں اظہر علی نے مارا جبکہ امام الحق نے ایک موقع پر 43 گیندوں پر صرف7 رنز کا اضافہ کیا۔

پہلے سیشن میں رنز کی اس سست رفتار پر سابق فاسٹ بولر شعیب اختر سے بھی نہ رہا گیا اور انھوں نے ٹویٹ کے ذریعے اپنی حیرت اس طرح ظاہر کی ʹکیا پاکستان نے صبح کے پورے سیشن میں57 رنز بنائے۔ʹ

تاہم آسٹریلوی بولنگ نے رن ریٹ کو بڑی حد تک قابو میں کیے رکھا لیکن دو روز کی مسلسل بولنگ پر انڈیا کے سینیئر صحافی ایاز میمن نے دلچسپ ٹوئٹ اسوقت کی جب پاکستان کا سکور تین سو رنز تک پہنچا تھا۔ ʹپاکستان تین سو تین رنز ایک کھلاڑی آؤٹ ʹ آسٹریلوی بولرز چکی پیسنگ اینڈ پیسنگ ان پنڈی۔'

لبوشین

،تصویر کا ذریعہPCB

’مارنس لبوشین سے بچ کر رہیں‘

پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں شائقین کی بڑی تعداد تو ہے ہی مگر اس کے ساتھ سوشل میڈیا پر بھی میچ پر تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔

عثمان خواجہ کی سنچری سے قبل وکٹ پر ان کے فینز نے مایوسی ظاہر کی ہے۔ مظہر ارشد لکھتے ہیں کہ ’عثمان خواجہ تین رن سے رہ گئے ورنہ وہ اسلام آباد میں پیدا ہونے والے پہلے باز باز ہوتے جنھوں نے سنچری بنائی ہے۔‘

صحافی ملینڈا فیرل نے ٹویٹ کیا ہے کہ عثمان خواجہ اپنا خواب پورا کرنے کے بہت قریب تھے۔ ’لیکن اس کے باوجود یہ ایک عمدہ اننگز تھی۔‘

دن کے اختتام پر بات کرتے ہوئے عثمان خواجہ کا کہنا تھا کہ وہ اسلام آباد میں بڑے ہوئے ہیں اس لیے ’پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں سنچری سکور کرنا یادگار ہوتا۔ شائقین آسٹریلوی کھلاڑیوں کے ناموں کے نعرے لگا رہے تھے۔۔۔ پاکستان کے لوگ بہت پیار کرنے والے ہیں۔‘

راولپنڈی ٹیسٹ

،تصویر کا ذریعہTWITTER

پاکستانی سپنر ساجد خان نے بھی پریس سے بات کرتے ہوئے راولپنڈی کے کراؤڈ کی تعریف کی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان اب بھی یہ میچ جیت سکتا ہے۔

ساجد نے اب تک ایک وکٹ حاصل کی ہے مگر ان کے بارے میں صارف فیضان عمران کہتے ہیں کہ ’انھوں نے وارنر کی وکٹ حاصل کی اور آغاز سے وہ سب سے خطرناک بولر لگے ہیں۔‘

سمتھ اور لبوشین کی جوڑی کو پاکستان میں کھیلتا دیکھ بہت سے صارفین نے اپنی خوشی کا بھی اظہار کیا ہے۔ سحرش نے لکھا ہے کہ ’خدا اور اس کے معجزے، میں مارنس لبوشین کو لائیو پنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں دیکھ رہی ہوں۔‘

پاکستان کرکٹ نے سٹیڈیم میں آئے ایک فین کے پوسٹر کی تصویر بھی شیئر کی ہے جس میں وہ کہتے ہیں کہ ’مارنس سے بچ کر رہیں۔ وہ پورے دن ’نو رن‘ کہتے رہیں گے اور سنچری بنا لیں گے۔‘

صہیب چشتی نے اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ ’پانچویں بولر کی عدم موجودگی ہمیں بری طرح متاثر کرے گی۔ شاہین، نسیم اور ساجد نے اچھی بولنگ کی ہے۔۔۔ ہر بولر اچھی بولنگ نہیں کرے گا اور اسی لیے 4 بولرز کی حکمت عملی ہمیشہ خطرناک ہوتی ہے۔‘