راولپنڈی ٹیسٹ کا دوسرا دن: پاکستان 476 رنز4 آؤٹ ڈکلیئر، امام کے بعد اظہر کی بھی سنچری مگر بابراعظم کے لیے پھر انتظار

SHAHEEN

،تصویر کا ذریعہPCB

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو

پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان راولپنڈی ٹیسٹ شروع ہونے پر شائقین کی سب سے زیادہ دلچسپی اس بات پر تھی کہ کپتان بابراعظم ٹیسٹ میں سنچری نہ بنانے کا جمود کب توڑیں گے لیکن یہ انتظار ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

میچ سے ایک روز قبل پریس کانفرنس میں بھی بابراعظم سے یہی سوال ہوا تھا کہ پی ایس ایل کی مایوس کن کارکردگی کو بھلا کر ٹیسٹ میچ پر فوکس کرنا آپ کے لیے کتنا چیلنجنگ ہوگا ؟ تو ان کا جواب تھا کہ وہ ماضی میں نہیں رہتے اور آگے کے بارے میں سوچتے ہیں۔

راولپنڈی ٹیسٹ کے دو دنوں کے کھیل میں امام الحق اور اظہرعلی کی سنچریاں بن گئیں لیکن بابراعظم 36 رنز بناکر پویلین لوٹ گئے۔ ان کے رن آؤٹ پر مارنس لبوشین کی خوشی قابل دید تھی لیکن سٹیڈیم میں بیٹھے پاکستانی شائقین کے لیے یہ لمحہ کسی طور بھی خوشگوار نہ تھا۔

بابراعظم کی آخری ٹیسٹ سنچری دو سال قبل اسی پنڈی کرکٹ اسٹیڈیم میں بنگلہ دیش کے خلاف بنی تھی لیکن اس کے بعد سے وہ اب تک 19 اننگز بغیر سنچری کے کھیل چکے ہیں اور ان 19 اننگز میں وہ 6 نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب ہوپائے ہیں۔

پاکستان کی اننگز میں کیا ہوا ؟

رضوان

،تصویر کا ذریعہPCB

پاکستان نے دوسرے دن اپنی پہلی اننگز 4 وکٹوں پر 476 رنز بنا کر ڈکلیئر کر دی۔ اس وقت محمد رضوان ٹیسٹ کرکٹ میں اپنے ایک ہزار رنز مکمل کرتے ہوئے 29 اور افتخار احمد 13رنز پر کریز پر موجود تھے۔

آسٹریلوی کرکٹ ٹیم ابھی راڈنی مارش کے سوگ سے نہیں نکل پائی تھی کہ شین وارن کی موت نے ُاسے مزید افسردہ کر دیا۔

دوسرے دن کھیل کے آغاز پر دونوں ٹیموں نے شین وارن اور پشاور کی مسجد میں بم دھماکے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی اور بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں۔

امام الحق اور اظہرعلی نے کچھوے کی چال سے اننگز شروع کی اور پہلے سیشن میں کیے گئے 25 اوورز میں صرف 57 رنز کا اضافہ ہوسکا۔ اس محتاط رویے کا اندازہ اس طرح لگایا جاسکتا ہے کہ دن کا پہلا چوکا نویں اوور میں اظہرعلی نے مارا جبکہ امام الحق نے ایک موقع پر 43 گیندوں پر صرف7 رنز کا اضافہ کیا۔

پہلے سیشن میں رنز کی اس سست رفتار پر سابق فاسٹ بولر شعیب اختر سے بھی نہ رہا گیا اور انھوں نے ٹوئٹ کے ذریعے اپنی حیرت اس طرح ظاہر کی ʹ کیا پاکستان نے صبح کے پورے سیشن میں57 رنز بنائے۔ʹ

ان دونوں کی 208 رنز کی شراکت امام الحق کی وکٹ گرنے پر ختم ہوئی ۔ پیٹ کمنز کی گیند پر امپائر احسن رضا نے ایل بی ڈبلیو دینے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی۔ امام الحق نے ریویو لینے کا فیصلہ کیا لیکن ڈی آر ایس نے احسن رضا کے فیصلے کو درست ثابت کر دکھایا۔

امام الحق نے 16 چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے157 رنز کی اچھی اننگز کھیلی۔ وہ اس لحاظ سے خوش قسمت رہے کہ 143 کے انفرادی سکور پر نیتھن لائن کی گیند بلے کو چھوتی ہوئی وکٹ کیپر کے پاس گئی تھی کھلاڑیوں کی اپیل پر امپائر علیم ڈار نے ناٹ آؤٹ دیا لیکن حیران کن طور پر آسٹریلوی ٹیم نے ریویو نہیں لیا۔

کپتان پیٹ کمنز کو جلد احساس ہوگیا کہ وہ بہت بڑی غلطی کربیٹھے ہیں۔

اظہرعلی نے اپنی 19ویں ٹیسٹ سنچری 257 گیندوں پر 368 منٹ میں مکمل کی جس میں ایک چھکا اور 8 چوکے شامل تھے۔

CRICKET

،تصویر کا ذریعہPCB

امام الحق کے آؤٹ ہونے کے بعد بابراعظم نے چھٹی گیند پر کیمرون گرین کو اسٹریٹ ڈرائیو سے چوکا مارکر اپنی اننگز شروع کی اورگرین ہی کو اسی طرح کا ایک اور خوبصورت چوکا مارا اور پھر نیتھن لائن کو سوئپ کر کے سکور میں ایک اور چوکے کا اضافہ کیا۔

بابراعظم کا نیتھن لائن کی گیند پر سنگل لینا مہنگا پڑگیا۔ لبوشین کی تھرو ان سے زیادہ تیز اور نشانے پر آئی اور پاکستانی کپتان کو واپسی اختیار کرنی پڑگئی۔

محمد رضوان کی خوش قسمتی کہ نیتھن لائن کی گیند پر وکٹ کیپر الیکس کیری کیچ کرنے میں ناکام رہے۔

اظہرعلی 185 کے انفرادی اسکور پر ریورس سوئپ کی کوشش میں مارنس لبوشین کی گیند پر کیمرون گرین کے ہاتھوں کیچ ہوگئے۔ 51 کے سٹرائیک ریٹ سے بیٹنگ کرتے ہوئے انھوں نے 361گیندوں کی اس اننگز میں دو چھکے اور پندرہ چوکے لگائے۔

یہ بھی پڑھیے

آسٹریلوی بولرز چکی پیس رہے ہیں

آسٹریلوی بولنگ نے رن ریٹ کو بڑی حد تک قابو میں کیے رکھا لیکن دو روز کی مسلسل بولنگ پر بھارت کے سینیئر صحافی ایاز میمن نے دلچسپ ٹوئٹ اسوقت کی جب پاکستان کا اسکور تین سو رنز تک پہنچا تھا۔ʹ پاکستان تین سو تین رنز ایک کھلاڑی آؤٹ ʹ آسٹریلوی بولرز چکی پیسنگ اینڈ پیسنگ ان پنڈی۔‘

یہاں یہ بات یاد رکھنے والی ہے کہ آسٹریلوی بولرز نے پاکستان کی اننگز میں 162 اوورز کی طویل بولنگ کی۔

پاکستانی ٹیم کے سلو رن ریٹ کا موازنہ بھارتی ٹیم کے رن ریٹ سے بھی کیا گیا ہے جو اس وقت سری لنکا کے خلاف موہالی میں پہلا ٹیسٹ کھیل رہی ہے۔ پاکستان کے 2 اعشاریہ 93 رن ریٹ کے مقابلے میں بھارت نے اپنی پہلی اننگز میں 4 اعشاریہ 43 فی اوور کے حساب سے رنز بنائے تھے۔

آسٹریلیا کی پہلی اننگز

CRICKET

،تصویر کا ذریعہPCB

ڈیوڈ وارنر اور عثمان خواجہ نے آسٹریلیا کی اننگز کا آغاز کیا لیکن کم روشنی کے سبب تیز بولرز بولنگ کی ابتدا نہ کرسکے اور شاہین آفریدی کو بادل نخواستہ گیند آف سپنر ساجد خان کو تھمانی پڑگئی اور صرف ایک اوور کے بعد ہی امپائرز کو کم روشنی کے سبب کھیل روک دینا پڑا جس کے بعد کھیل دوبارہ شروع نہ ہو سکا۔

آسٹریلوی ٹیم نے اس وقت پانچ رنز بنائے تھے جو عثمان خواجہ کے بیٹ سے بنے تھے۔ ڈیوڈ وارنر صفر پر ناٹ آؤٹ تھے۔ دوسرے دن کا کھیل ختم کرنے کے اعلان کے وقت ابھی پندرہ اوورز باقی رہتے تھے۔