’پنڈی بوائز کا گراؤنڈ‘ جس کے کلائیو لائیڈ بھی مداح تھے

پنڈی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, محمد صہیب
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، راولپنڈی

یہ تین دسمبر سنہ 1997 کی بات ہے، ویسٹ انڈیز کے لیجنڈ بلےباز اور سابق کپتان کلائیو لائیڈ راولپنڈی کی پچ کو دیکھ کر نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہہ رہے تھے ’ویری بیڈ‘۔

پاکستان ویسٹ انڈیز کو یہ ٹیسٹ ایک اننگز اور 29 رنز سے ہرا چکا تھا۔

ساتھ ہی کھڑے پچ کیوریٹر محمد اشرف نے گھبرا کر ان کی جانب دیکھا اور پوچھا کہ آپ میری پچ کو برا کیوں کہہ رہے ہیں؟ لائیڈ مسکرائے اور کہنے لگے کہ میں آپ کی پچ کو نہیں اپنی ٹیم کو برا کہہ رہا ہوں جو اتنی اچھی وکٹ کا فائدہ نہیں اٹھا سکی۔

بعد ازاں میڈیا نمائندوں سے بات کرتے ہوئے لائیڈ نے کہا کہ ’میرے تجربے کے مطابق یہ دنیا کی بہترین ٹیسٹ پچوں میں سے ایک ہے۔‘

شومئی قسمت کے اب تک یہ پچ صرف آٹھ ٹیسٹ، اور 21 ایک روزہ میچوں کی میزبانی ہی کر سکی ہے۔

تاہم یہ کفر گذشتہ برس دسمبر کی 11 تاریخ کو اس وقت ٹوٹا جب 15 برس کے بعد اس میدان پر اور ایک دہائی کے بعد پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ کی واپسی ہوئی اور سری لنکا کی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا۔

YouTube پوسٹ نظرانداز کریں
Google YouTube کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

YouTube پوسٹ کا اختتام

اس حوالے سے ہم نے دو ایسے صحافیوں سے بات کی جنھوں نے پنڈی سٹیڈیم میں سارے انٹرنیشنل میچ دیکھے اور ساتھ ہی راولپنڈی سے تعلق رکھنے والے دو کھلاڑیوں سہیل تنویر اور محمد وسیم سے بھی بات کی اور ان سے اس گراؤنڈ سے منسلک یادوں کے بارے میں پوچھا۔

’پنڈی بوائز کا گراؤنڈ‘

جوجی کے نام سے جانے جانے والے صحافی رضوان علی نے اپنے ساتھی عبدالمُحی شاہ کی طرح اس گراؤنڈ پر کھیلے جانے والے تمام میچوں کی کوریج کی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’اس گراؤنڈ پر پنڈی بوائز نے بہت انت مچائی ہے۔‘ گراؤنڈ سے باہر بھی اور میدان میں بھی۔

شعیب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

وہ یاد کرتے ہیں کہ یہاں کھیلے جانے والے ایک میچ کے دوران لوگ چادروں اور کمبلوں کے ذریعے سٹیڈیم میں داخل ہونے کی کوشش کرتے رہے جس پر متعدد افراد پر لاٹھیاں بھی برسائی گئیں اور آنسو گیس کا استعمال بھی کیا گیا۔

دوسری جانب صحافی عبدالمحی شاہ راولپنڈی کے لوگوں کی کرکٹ سے محبت کے گرویدہ ہیں۔

کہتے ہیں کہ ’راولپنڈی میں کرکٹ کی واپسی ایسے ہے جیسے قحط کے بعد بارش آ گئی ہو۔ مجھے یقین ہے کہ راولپنڈی کے لوگ یہاں بڑی تعداد میں میچ دیکھنے آئیں گے۔‘

کھلاڑیوں کی بات کی جائے تو پاکستان کی جانب سے پاکستان کے لیے کھیلنے والے سب سے نامور ’پنڈی بوائے‘ اور راولپنڈی ایکسپریس کا لقب پانے والے شعیب اختر کی وجہ شہرت بھی یہی سٹیڈیم ہے۔

سنہ 1994 میں انھوں نے یہاں نیوزی لینڈ کی انڈر 19 ٹیم کے چاروں شانے چت کرتے ہوئے آٹھ وکٹیں حاصل کیں۔

صحافی محی شاہ بتاتے ہیں کہ وہ اس صبح ایک گھنٹہ دیر سے گراؤنڈ پہنچے۔

’تب تک شعیب آدھی ٹیم کو آؤٹ کر چکا تھا۔ شاید عمران خان کو شعیب کے بارے میں پہلے معلوم ہوتا تو وہ اسے 1992 کے ورلڈکپ میں لے جاتے۔‘

زاہد

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ڈیبیو کرنے والوں کے لیے موزوں گراؤنڈ

اس گراؤنڈ کی خاص بات شاید اس کا ڈیبیو کرنے والے کھلاڑیوں پر مہربان ہونا ہے۔

1994 میں اس گراؤنڈ پر کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میچ میں آسٹریلیا کے فاسٹ بولر ڈیمیئن فلمنگ اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیل رہے تھے۔

انھوں نے اس ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں ہی ہیٹ ٹرک کر ڈالی۔ عامر ملک، انضمام الحق اور 278 رنز بنانے والے سلیم ملک ان کا شکار بنے۔

فلمنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناپنے پہلے ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں ڈیمیئن فلمنگ نے ہیٹرک کر ڈالی، عامر ملک، انضمام الحق اور 278 رنز بنانے والے سلیم ملک ان کا شکار بنے

اسی طرح فاسٹ بولر محمد زاہد اس میدان پر 10 وکٹیں لینے والے واحد بولر ہیں اور انھوں نے بھی یہ اعزاز اپنے ڈیبیو پر ہی حاصل کیا تھا۔

پنڈی سے ہی تعلق رکھنے والے اظہر محمود نے 1997 میں اسی گراؤنڈ پر ڈیبیو کیا اور اس میچ میں سنچری بھی سکور کی۔ اسی میچ میں ایک اور ڈیبیو بھی ہوا اور علی نقوی کا بھی پہلا میچ ان کے لیے سنچری کی صورت میں یادگار بنا۔

’سیالکوٹ کے خلاف پنڈی میں سنچری یادگار تھی

سنہ 2007 میں اپنے کریئر کا آغاز کرنے والے آل راؤنڈر سہیل تنویر کو پاکستان میں تو کرکٹ کھیلنے کا موقع ملا تاہم آج تک اپنے آبائی شہری میں کوئی انٹرنیشنل میچ نہیں کھیل سکے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ’ٹیسٹ کرکٹ واپس آنے کی خوشی تو ہے ہی لیکن یہ میرے آبائی شہر میں ہو رہی ہے تو اس سے بہتر کچھ ہو نہیں سکتا۔‘

دو ٹیسٹ، 62 ون ڈے اور 57 ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنلز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سہیل تنویر راولپنڈی سٹیڈیم میں اپنی کامیابیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے بولنگ کی بجائے بیٹنگ کی کارکردگی کو یاد کرتے ہیں۔

سہیل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنراولپنڈی سٹیڈیم میں اپنی کامیابیوں کے بارے میں بتاتے ہوئے سہیل تنویر نے بولنگ کی بجائے اپنی بیٹنگ کی کارکردگی کو یاد کیا

’گھاس والی پچ پر نمبر آٹھ پر آ کر سیالکوٹ کے خلاف سنچری سکور کرنا یادگار تھا۔‘ وہ کہتے ہیں کہ بولنگ میں تو ان کی یہاں پرفارمنسز ہیں ہی سہی، لیکن یہ سنچری انھیں بہت عزیز ہے۔

راولپنڈی کی پچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے سہیل تنویر کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں سیمرز اور فاسٹ بولرز کو مدد دینے والی پچیں ہوتی ہیں۔ ’خاص کر سردی کے موسم میں یہاں تیز بولرز کو کامیابی ملتی ہے۔‘

وسیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

بال پکر سے پاکستانی ٹیسٹ کرکٹر تک

18 ٹیسٹ اور 25 ون ڈے انٹرنیشنلز میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے اوپنر محمد وسیم کا تعلق بھی راولپنڈی سے ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ انھیں معلوم ہے کے راولپنڈی کے لوگوں کے لیے کرکٹ کی واپسی کتنی اہم ہے۔

’مجھے امید ہے کے لوگ بڑی تعداد میں گراؤنڈ کا رخ کریں گے۔‘

راولپنڈی سٹیڈیم سے وابستہ یادوں کے حوالے سے بات کرتے ہوئے محمد وسیم نے کہا کہ ’ایک وقت تھا کہ میں حسرت سے دیکھتا تھا اس گراؤنڈ کو، آسٹریلیا کی 1994 کی سیریز کے دوران میں بال پکر بنا اور یہاں سے میرے سفر کا آغاز ہوا۔‘

محمد وسیم جو اب ایک سیلیکٹر بھی ہیں، کہتے ہیں کہ ٹیسٹ کرکٹ کی پاکستان میں واپسی خاص طور پر ان کھلاڑیوں کے لیے بہت اہم ہے جنھوں نے پاکستان میں کرکٹ نہیں کھیلی۔

راہل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

ملکہ کی آمد، ڈراوڈ کے 270 اور رانا ٹنگا کا زخمی ہاتھ

راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم کی تاریخ گو مختصر ہے تاہم یہاں دلچسپ میچوں سے لے کر،بیٹنگ اور بولنگ میں بہترین کارکردگیاں اور خوشگوار لمحات شامل ہیں۔

یہاں 1997 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک میچ کے دوران برطانوی ملکہ الزبتھ آئیں اور دونوں ٹیموں سے ملیں۔

یہاں کھیلے گئے دوسرے ٹیسٹ میچ میں ایک موقع پر آسٹریلیا نے پاکستان کی ٹیم کو فالو آن کا شکار کر دیا تھا تاہم سلیم ملک کی بہترین 237 رنز کی اننگز کی بدولت پاکستان یہ میچ ڈرا کرنے میں کامیاب ہو گیا۔

ملکہ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنیہاں 1997 میں جنوبی افریقہ کے خلاف ایک میچ کے دوران برطانوی ملکہ الزبت آئیں اور دونوں ٹیموں سے ملیں

اسی طرح اس میدان میں آخری میچ انڈیا اور پاکستان کے درمیان 2004 میں کھیلا گیا جس میں پاکستان کو اننگز کی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس میچ کا خاصا انڈین بلے باز راہل ڈراوڈ کی 270 رنز کی مایہ ناز اننگز تھی۔

یہاں سب سے دلچسپ میچ بلاشبہ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان سنہ 2000 میں کھیلا گیا جس میں دوسری اننگز کے دوران اس وقت کے سری لنکا کے کپتان ارجنا رانا ٹنگا کو وقار یونس کی گیند ہاتھ پر لگی اور وہ زخمی ہو کر پویلین لوٹ گئے۔

تاہم میچ کے اختتام میں ایک ایسا موقع آیا کہ پاکستان نے سری لنکا کے آٹھ کھلاڑی آؤٹ کر دیے تو رانا ٹنگا زخمی ہاتھ کے ساتھ پچ پر آئے اور چند اہم رنز بنا کر سری لنکا کو فتح سے ہمکنار کیا۔

سٹیڈیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پنڈی کرکٹ سٹیڈیم کی تاریخ

یہ گراؤنڈ اس سے قبل ایک کلب گراؤنڈ تھا جسے 1992 کے آغاز میں ایک ٹیسٹ میچ گراؤنڈ کا درجہ دیا گیا۔ یہ پاکستان کا 14واں ٹیسٹ گراؤنڈ ہے۔

عبدالمحیی شاہ یاد کرتے ہیں کہ یہ ایک تالاب نما میدان ہوا کرتا تھا جس پر گھاس کا نام و نشان بھی نہیں تھا۔ تاہم 1996 کے ورلڈ کپ کو نظر میں رکھتے ہوئے اس سٹیڈیم کی تعمیر کا آغاز کیا گیا۔

اس گراؤنڈ پر پہلا انٹرنیشنل میچ ایک، ایک روزہ میچ تھا جو اتفاق سے پاکستان اور سری لنکا کے مابین ہی کھیلا گیا تھا۔ پاکستان نے اس میچ میں 117 رنز سے کامیابی حاصل کی تھی۔

تاہم یہ گراؤنڈ محض آٹھ ٹیسٹ میچوں کی ہی میزبانی کر سکا ہے جن میں پاکستان کو تین میں کامیابی اور تین میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ دو میچ بے نتیجہ رہے۔

یہاں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میچ کی خاص بات اتوار کے روز میچ کے درمیان ایک آرام کا دن رکھنا تھا۔ یہ پاکستان میں ایسا آخری ٹیسٹ میچ تھا جس میں آرام کا دن رکھا گیا ہو۔