راولپنڈی ٹیسٹ کا دوسرا دن: 'یہ سمتھ اور لبوشین کا امتحان ہو گا'

سٹیو سمتھ پاکستان میں ٹریننگ کے دوران

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

اگر ایک طرف پاکستان کو آسٹریلیا میں کوئی ٹیسٹ میچ جیتے ہوئے برسوں بیت چکے ہیں تو دوسری طرف آسٹریلیا کو بھی ایشیا میں کچھ ویسی ہی مشکلات کا سامنا رہا ہے اور پچھلے پندرہ برس میں وہ ایشیائی کنڈیشنز میں محض تین ٹیسٹ میچز ہی جیت پائے ہیں۔

یہ بجا ہے کہ کسی بھی کرکٹر کے لیے اپنے گھر سے باہر نامانوس کنڈیشنز میں کارکردگی دکھانا خاصا دشوار ہوتا ہے مگر آسٹریلیا نے جو ٹیم اس میچ کے لیے چنی، یہ چناؤ خاصا ناقابلِ فہم ہے۔

بلاشبہ اگر دستیاب ڈیٹا محدود ہو تو تزویراتی فیصلے کرنا مشکل ہوتا ہے مگر آسٹریلوی تھنک ٹینک نے محدود سے ڈیٹا کو بھی اس قدر ترجیح دے چھوڑی کہ وکٹ پہ نگاہ دوڑانا ہی بھول گئے۔ انہیں صرف یہ یاد رہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف پاکستان نے اس پچ پہ کچھ گھاس چھوڑی تھی اور حسن علی کی پیس نے دس وکٹیں بٹوری تھیں۔

مگر جب کھیل شروع ہوا تو یہ کھلا کہ راولپنڈی کرکٹ سٹیڈیم میں شاید لاہور کی پچ بچھا دی گئی ہے۔ باؤنس ہرگز ویسا نہیں تھا کہ جیسا راولپنڈی کا خاصہ رہا ہے اور گھاس اگر تھی بھی تو ایسی پژمردہ کہ سیم پہ کوئی گرفت نہ دے پائے۔

ایسے میں کمنز کا یہ فیصلہ خاصا عجیب محسوس ہوا کہ انھوں نے نیتھن لیون کے ہمراہ کوئی دوسرا سپنر ہی نہ چنا۔ حالانکہ پچ نے پہلے سات اوورز میں ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ یہاں سٹارک کی سوئنگ اور ہیزل ووڈ کی درستی چلنے کی نہیں۔

لیکن اس تزویراتی حماقت کے بعد بھی یہ ممکن تو تھا کہ فاسٹ بولرز ہی صحیح لینتھ پہ بولنگ کرتے۔ مگر یہاں پھر آسٹریلوی پیس اٹیک بے وجہ فُل لینتھ سے سر ٹکراتا نظر آیا۔ اور جب لینتھ کھینچی بھی تو شارٹ پچ پہ اتر آئے، گویا پنڈی نہ ہوا، پرتھ ہو گیا۔

CRICKET

،تصویر کا ذریعہPCB

اس وکٹ پہ فاسٹ بولرز کے لیے کامیابی کی واحد کلید ہی 'گڈ لینتھ' تھی جو بلے باز کو تشکیک میں ڈال سکے کہ وہ کریز سے باہر نکلے یا پیچھے ہٹے۔

اور پھر اگر لیون اس قدر 'بریک' کرنے کے باوجود وکٹیں حاصل نہیں کر پا رہے تھے تو کیمرون گرین کو شروع میں کیوں نہ آزمایا گیا۔ ٹریوس ہیڈ سے شروع میں ہی اوورز کروانے کا نقصان یوں ابھر کر سامنے آیا کہ 41 گیندوں پہ صرف سات رنز حاصل کر پانے والے امام الحق کا بلا بھی کھل گیا۔

اور اگر امام الحق کسی وکٹ کی چال سے ہم آہنگ ہو جائیں تو فیلڈنگ کپتان کے لیے دردِ سر بھی بن جاتے ہیں۔ یہاں امام الحق نے طویل غیر حاضری کے بعد ٹیسٹ کرکٹ میں اپنی واپسی کو اپنی پہلی سینچری سے یادگار بنایا۔

یہ بھی پڑھیے

اور ان سے بھی ایک قدم آگے نکلے اظہر علی کہ جنھوں نے ایک طویل مدت کے بعد ایسی بامعنی اننگز کھیلی کہ میچ کا رخ ہی متعین کر چھوڑا۔ گو اظہر نے ٹرپل سینچری بھی بنا رکھی ہے اور بھلے وقتوں میں کئی ایک فیصلہ کن اننگز کھیل چکے ہیں لیکن وہ سبھی اننگز کہیں نہ کہیں مصباح و یونس کی تائید کے سیاق و سباق میں تھیں۔ یہ اننگز اُس دور کے بعد ان کی یادگار ترین اننگز ہے۔

CRICKET

،تصویر کا ذریعہPCB

اگرچہ پاکستان کا ڈکلیئر کرنے کا فیصلہ خاصا حیران کن تھا مگر موسم کی پیشگوئی کو مدِنظر رکھتے ہوئے یہ ایک مثبت فیصلہ ہے۔ اس پچ پہ نئے بلے بازوں کے لیے قدم جمانا مشکل ہوتا جا رہا ہے اور سپن ڈیپارٹمنٹ میں پاکستان کو جیسے وسائل میسر ہیں، یہ میچ خاصا دلچسپ ثابت ہو سکتا ہے۔

یہاں آسٹریلیا کو محض یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کی بیٹنگ بھی ان کی بولنگ کی طرح یکسر بے اثر نہیں ہو گی۔ کیونکہ نعمان علی، ساجد خان اور افتخار احمد کی سپن آسٹریلوی مڈل آرڈر کے لیے تر نوالہ نہیں ہو گی۔ اور اگر ٹاپ آرڈر ہی شاہین آفریدی و نسیم شاہ کی یلغار نہ سہہ پایا تو نمبرون ٹیسٹ ٹیم کے لیے یہ ٹور بے مزہ بھی ہو سکتا ہے۔

حالیہ فارم سے قطع نظر سٹیو سمتھ ایک مستند بلے باز ہیں اور یہاں ان کے ساتھ ساتھ نمبرون بلے باز مارنس لبوشین کا بھی خوب امتحان ہو گا کہ وہ ایشیائی کنڈیشنز سے کیسے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ کیونکہ ان دونوں کی اننگز ہی آسٹریلوی بیٹنگ کا مقدر طے کرے گی۔