پاکستان سپر لیگ 7: کراچی کنگز کو آٹھویں میچ میں بھی شکست، سلطانز نے سات وکٹوں سے میچ جیت لیا

،تصویر کا ذریعہPCB
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
کراچی کنگز کے لیے ہر میچ میں کہانی ایک جیسی رہی ہے۔ اتار چڑھاؤ آ بھی جائے تب بھی اختتام دکھ بھرا ہی ہوتا ہے۔ ملتان سلطانز کے خلاف میچ میں اسے سات وکٹوں سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ کراچی کنگز کے 174 رنز کے ہدف کو ملتان سلطانز نے آخری اوور کی تیسری گیند پر عبور کر لیا۔
یہ پاکستان سپر لیگ میں کراچی کنگز کی مسلسل آٹھویں شکست ہے جبکہ دوسری جانب ملتان سلطانز نے آٹھ میچوں میں یہ ساتویں فتح حاصل کی ہے۔
دونوں ٹیمیں پی ایس ایل کے افتتاحی میچ میں مد مقابل آئی تھیں اور اس میچ میں بھی ملتان سلطانز سات وکٹوں سے جیتی تھی۔
ٹاپ آرڈر بیٹنگ پھر ناکام
بابر اعظم نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ ضرور کی لیکن آؤٹ ہونے والے پہلے بیٹسمین بھی وہی تھے۔ میچ کے دوسرے اوور میں رومان رئیس نے انھیں صرف 2 رنز پر ایل بی ڈبلیو کردیا ۔ ڈی آر ایس نے بھی ایمپائر آصف یعقوب کا فیصلہ درست قرار دے دیا۔
شرجیل خان اور جو کلارک کی موجودگی میں کراچی کنگز پاور پلے میں 40 رنز بنا پائی۔ دونوں کو جب بھی موقع ملا انھوں نے چوکے اور چھکے بھی لگائے لیکن یہ دونوں سپن کے جال میں پھنس گئے۔
جو کلارک تین چوکوں اور دو چھکوں کی مدد سے 29 گیندوں پر 40 رنز بنا کر عمران طاہر کی گیند پر شان مسعود کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
شرجیل خان ʹسرپرائز بولرʹ خوشدل شاہ کے رڈار میں آ گئے جن کے پہلے ہی اوور میں وہ دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے 36 رنز بنا کر نئے کھلاڑی عامر عظمت کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔
نوجوان بیٹسمین قاسم اکرم کا ٹیلنٹ شاہنواز دھانی کو ایک چھکا مارنے کے بعد انھی کے قابو میں آ گیا۔ انھوں نے پچھلے میچ میں نصف سنچری بنائی تھی لیکن اس بار ان کے نام کے آگے صرف 13 رنز درج ہو سکے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روحیل نذیر نے موزا رابانی کو لگاتار دو چوکے لگائے لیکن وہ 21 رنز بنا کر اسی اوور میں شان مسعود کو آسان سا کیچ تھما گئے۔ اس مرحلے پر کراچی کنگز کی آدھی ٹیم صرف 118 رنز پر ڈگ آؤٹ میں جا بیٹھی تھی۔
ملتان کو عماد وسیم اور محمد نبی کی شراکت ختم کرنے کا موقع دو بار ملا لیکن دونوں بار محمد نبی کے کیچز فیلڈرز کے ہاتھوں سے نکل گئے۔
دونوں بار بدقسمت بولر موزا رابانی تھے بالآخر اننگز کے آخری اوور میں شاہنواز دھانی محمد نبی کو ٹم ڈیوڈ کے ہاتھوں کیچ کرانے میں کامیاب ہو گئے اور اس اوور میں 16 رنز بھی بنے۔
محمد نبی نے ایک چوکے اور ایک چھکے کی مدد سے 21 رنز بنائے اور عماد وسیم کے ساتھ چھٹی وکٹ کے لیے 48 رنز کا اضافہ بھی کیا۔
عماد وسیم نے پچھلے میچ کی طرح اس بار بھی عمدہ بیٹنگ کرتے ہوئے صرف 16 گیندوں پر 32 رنز ناٹ آؤٹ کی اننگز کھیلی جس میں ایک چھکا اور پانچ چوکے شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
خوشدل شاہ نے کام کر دکھایا
175 رنز کے ہدف کو اپنی گرفت میں کرنے کے لیے ملتان سلطانز کو ایک اچھی شراکت کی ضرورت تھی جو اسے قابل اعتماد اوپنرز شان مسعود اور محمد رضوان کے ذریعے مل گئی۔ دونوں نے 100 رنز کا اضافہ کیا۔
یہ اس ٹورنامنٹ میں ان دونوں کی دوسری سنچری شراکت ہے اس کے علاوہ یہ دونوں دو نصف سنچری پارٹنر شپ بھی بنا چکے ہیں۔
دونوں بیٹسمینوں کی ذہنی ہم آہنگی کا اندازہ وکٹوں کے درمیان رننگ سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جس میں وہ ایک رن کو دو میں آسانی سے تبدیل کرتے رہے اور فیلڈنگ سائیڈ کو سیٹ نہیں ہونے دے رہے تھے حالانکہ محمد رضوان کریمپ پڑ جانے کی وجہ سے دوڑنے میں تکلیف محسوس کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
ان دونوں کے اعتماد سے بیٹنگ کے باوجود بڑھتے ہوئے رن ریٹ کو نیچے لانے کے لیے چھکوں کی ضرورت محسوس کی جارہی تھی اور حیران کن بات یہ ہے کہ ملتان سلطانز کے 100 رنز کسی چھکے کے بغیر پندرہویں اوور کی پہلی گیند پر مکمل ہوئے تھے لیکن اگلی ہی گیند پر شان مسعود میر حمزہ کی گیند پر باؤنڈری پر محمد نبی کے ہاتھوں کیچ ہوئے۔
انھوں نے چھ چوکوں کی مدد سے45 رنز سکور کیے اور پی ایس ایل میں اپنے ایک ہزار مجموعی رنز بھی مکمل کر لیے۔
محمد رضوان نے اس ٹورنامنٹ میں اپنی چوتھی نصف سنچری مکمل کرنے کے لیے 45 گیندیں کھیلیں اور تین چوکے لگائے لیکن نصف سنچری مکمل کرنے کے بعد انھوں نے صورتحال کو بھانپ لیا اور عمید آصف کو ایک ہی اوور میں چار چوکے لگا دیے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
میچ کا اہم موڑ سترہویں اوور میں آیا جب رضوان نے کرس جارڈن کو چوکا لگایا لیکن اسی اوور میں وہ 76 رنز بنا کر ڈیپ کور میں قاسم اکرم کے ہاتھوں کیچ ہو گئے۔ اس اوور کی آخری دو گیندوں پر ٹم ڈیوڈ نے دو چوکے لگا دیے۔
رضوان کے آؤٹ ہونے کے بعد ٹم ڈیوڈ ملتان سلطانز کی آخری امید تھے جو اس پی ایس ایل میں سب سے زیادہ چھکے لگانے والے بیٹسمین ہیں لیکن وہ اس میچ میں نہ چھکا لگا سکے اور نہ ٹیم کو منزل تک پہنچا سکے۔
میر حمزہ نے ان کی 13 رنز کی مختصر اننگز کا خاتمہ جو کلارک کے کیچ کے ذریعے کر دیا۔ ملتان سلطانز کی یہ تیسری وکٹ 141 رنز پر گری۔
ملتان سلطانز کو آخری بارہ گیندوں پر جیت کے لیے 29 رنز درکار تھے لیکن خوشدل شاہ نے کرس جارڈن کے آخری اوور میں دو چھکے اور ایک چوکے سے کراچی کنگز کے سکون میں خلل ڈال دیا۔
ملتان سلطانز کو آخری اوور میں جیتنے کے لیے نو رنز بنانے تھے۔
عمید آصف نے وائیڈ کے ساتھ اوور شروع کیا۔ اگلی گیند پرخوشدل شاہ نے ایک رن بنایا۔ دوسری گیند پر رائلے روسو نے دو رنز لیے اور پھر تیسری گیند پر انھوں نے مڈ وکٹ پر چھکا لگا کر کراچی کنگز کی مایوسی کو انتہا پر پہنچا دیا۔
خوشدل شاہ بولنگ کے بعد بیٹنگ میں اپنا کام دکھا گئے۔ انھوں نے صرف نو گیندوں پر ناقابل شکست 21 رنز بنا ڈالے جس میں ایک چوکا اور دو چھکے شامل تھے۔
کراچی کنگز کی مایوسی انتہا پر
کراچی کنگز کی اس ٹورنامنٹ میں بار بار شکست اس لیے بھی تکلیف دہ ہے کہ اس کے کپتان بابر اعظم ہیں جو حال ہی میں آئی سی سی کے بہترین ون ڈے کرکٹر کا ایوارڈ لینے کے ساتھ ساتھ آئی سی سی کی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کی علامتی ٹیموں کے کپتان بھی بنے ہیں لیکن اس پی ایس ایل میں وہ صرف دو نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب ہو پائے ہیں۔
کراچی کنگز کی یہ کارکردگی اس لیے بھی تکلیف دہ ہے کہ اس کے ِتھنک ٹینک میں کھیل کی تکنیکی باریکیاں سمجھنے والے وسیم اکرم شامل ہیں۔
کراچی کنگز کی یہ کارکردگی اس لیے بھی تکلیف دہ ہے کہ اس نے اس سیزن کے لیے انگلینڈ کے پیٹر ُمورس کی ہیڈ کوچ کے طور پر خدمات حاصل کی ہیں۔
تجزیہ کاروں کے خیال میں کراچی کنگز کا سب سے بڑا مسئلہ ڈرافٹ میں اچھے کھلاڑیوں کو نہ لینا ہے۔
یہ بات بھی خاص طور پر محسوس کی گئی کہ وہ کھلاڑی جو ماضی میں کراچی کنگز کا حصہ تھے انھیں برقرار نہیں رکھا گیا جن میں سب سے بڑی مثال انگلینڈ کے الیکس ہیلز کی ہے جو سنہ 2020 میں کنگز میں شامل تھے۔
ان کے علاوہ فاسٹ بولر وقاص مقصود اور ارشد اقبال بھی جو گذشتہ سیزن میں اچھی بولنگ کر رہے تھے، اب کراچی کنگز میں شامل نہیں۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@hazharoon
کراچی کنگز کی اس تسلسل کے ساتھ شکست کے بعد اکثر صارفین ان پر تنقید کر رہے ہیں اور طنز کے تیر بھی داغ رہے ہیں۔ اس میچ میں بھی کراچی ایک موقع پر جیتنے کی پوزیشن میں آ گیا تھا لیکن پھر کرس جارڈن کا برا اوور، ان کی ہار کا سبب بن گیا۔
اننگز کے آخری اوور میں باؤنڈری پر موجود کپتان بابر اعظم سے بات کرتے ہوئے کوچ وسیم اکرم خاصے غصے میں دکھائی دیے۔ اس دوران دونوں کے درمیان کیا بات ہوئی یہ تو معلوم نہیں ہے لیکن سوشل میڈیا پر صارفین کو یہ مناظر پسند نہیں آئے اور انھوں نے وسیم اکرم کو تنقید کا نشانہ بنایا۔
تاہم ارسلان صدیقی نامی صارف نے صرف کچھ مناظر کو دیکھتے ہوئے تبصرے کرنے سے اجتناب کرنے کا کہا۔ انھوں نے لکھا کہ ’وسیم اکرم بابر کو کیوں ڈانٹیں گے جب ان کا جارڈن کی بری بولنگ سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔ وہ ان کے بہترین بولر ہیں اور انھیں اوور تو دینا ہی تھا۔ صرف ایک تصویر دیکھ کر لوگ بلاوجہ باتیں گھڑ رہے ہیں۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@MrODGibson
ملتان سلطانز کے کوچ اوٹس گبسن نے میچ کے بعد ٹویٹ کیا کہ ’کبھی کبھار آپ بہترین کرکٹ نہ بھی کھیلیں اور پھر بھی آپ جیت جاتے ہیں۔ اس سے ملتان سلطانز کے کھلاڑیوں کے کردار کی مضبوطی اور گہرائی کا پتا چلتا ہے۔ یہ ہمارے کسی لمحے پر شکست نہ ماننے کے رویے کو بھی عیاں کرتا ہے۔
ملتان سلطانز کی فتوحات میں خوشدل شاہ کا بھی بہت ہاتھ ہے اور سوشل میڈیا پر ان کی بھی تعریف کی جا رہی ہے۔ انھوں نے ٹورنامنٹ میں نہ بیٹنگ میں اپنے ٹیلنٹ اور پاور ہٹنگ کا بھرپور مظاہرہ کیا بلکہ اچھی بولنگ بھی کروائی ہے اور صرف چھ کے اکانومی ریٹ کے ساتھ 13 وکٹیں حاصل کی ہیں۔
ایک صارف نے کراچی کنگز کی ہار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ’کراچی کنگز کسی بھی صورتحال سے میچ ہارنے کا طریقہ ڈھونڈ لیتی ہے، آپ کو انھیں اس بات کا کریڈٹ دینا ہو گا۔‘













