پاکستان سپر لیگ 7: دفاعی چیمپیئن ملتان سلطانز کا ٹورنامنٹ کا فاتحانہ آغاز، کراچی کو سات وکٹوں سے شکست

محمد رضوان

،تصویر کا ذریعہPCB

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

یہ میلہ محمد رضوان کے نام رہا جنھوں نے 125 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 52 رنز کی اننگز کھیل کر ملتان سلطانز کی سات وکٹوں کی جیت کو آسان بنا دیا تاہم یہ بازی پلٹنے والے لیگ سپنر عمران طاہر تھے جنھوں نے کراچی کنگز کی تین وکٹیں حاصل کر کے اسے بڑا سکور نہیں کرنے دیا تھا۔

بابراعظم اور محمد رضوان آئی سی سی ایوارڈز کی شکل میں تازہ تازہ بین الاقوامی سند ملنے کے بعد پہلی بار میدان میں اترے تھے۔

بابر اعظم کو پہلی بار کراچی کنگز کی کپتانی سپرد کی گئی ہے جبکہ محمد رضوان کی قیادت میں ملتان سلطانز گذشتہ سال پہلی بار پی ایس ایل کی چیمپئن بنی تھی۔

کراچی کنگز کی اننگز میں کیا ہوا؟

ٹاس کے معاملے میں قسمت محمد رضوان پر مہربان رہی۔ اس فیصلے کے پیچھے ان کی یہ سوچ واضح تھی کہ وہ کنڈیشنز کو پہلے دیکھنا چاہتے ہیں۔ انھیں اس بات کا بخوبی اندازہ تھا کہ گذشتہ ایونٹ میں ان کی ٹیم نیشنل سٹیڈیم میں اچھی کارکردگی نہیں دکھا سکی تھی۔

کراچی کنگز کواپنے دو تجربہ کار کھلاڑیوں محمد عامر اور عماد وسیم کے بغیر پی ایس ایل کا آغاز کرنا پڑا۔ عماد وسیم قرنطینہ میں ہیں جبکہ محمد عامر فٹ نہ ہونے کی وجہ سے ٹیم میں جگہ نہیں بنا سکے۔

پرسکون بابراعظم کے ساتھ اننگز کا آغاز کرنے والے شرجیل خان کا انداز جارحانہ رہا۔

انھوں نے ڈیوڈ ولی کے دوسرے اوور میں ایک چوکا اور ایک چھکا لگایا اور پھر شاہنواز دھانی کے دوسرے اوور میں ایک چوکا لگاتے ہوئے کراچی کنگز کا اسکور پاور پلے کے چھ اوورز میں 41 تک پہنچا دیا۔

بابر اعظم

،تصویر کا ذریعہPCB

سنگاپور کے ٹم ڈیوڈ کی آف اسپن شرجیل خان کو مرعوب نہ کرسکی لیکن عمران طاہر کی لیگ اسپن انہیں قابو کرنے میں کامیاب ہو گئی اور انھیں تین چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے بنائے گئے 43 رنز بناکر پویلین کی راہ لینی پڑ گئی۔

بابراعظم کی وکٹ کراچی کنگز پر بجلی بن کر گری جو 29 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے23 رنز بناسکے۔ گزشتہ سال جب دونوں ٹیمیں دو مرتبہ پی ایس ایل میں مدمقابل آئی تھیں تو ان دونوں میچوں میں بابراعظم کے بیٹ سے 90 اور 85 کی دو شاندار اننگز تخلیق ہوئی تھیں۔

ان دو بڑی وکٹوں کے گرنے کے بعد کراچی کنگز باؤنڈریز کے لیے ترس گئی اور 36 گیندیں باؤنڈریز کے بغیر چلی گئیں لیکن عمران طاہر کے وار ابھی ختم نہیں ہوئے تھے۔

انھوں نے اپنے چوتھے اور آخری اوور میں پہلے محمد نبی کو اپنی ہی گیند پر کیچ کیا اور پھر ٹم لیمنبائی کو بولڈ کر دیا۔

کراچی کنگز کی ٹیم بیس اوورز کھیل کر پانچ وکٹوں پر 124رنز ہی بنانے میں کامیاب ہو سکی جس کی ایک وجہ کمنٹیٹرز سلو وکٹ بیان کر رہے تھے۔

رضوان کی نصف سنچری

بہترین ٹی ٹوئنٹی کرکٹر کے آئی سی سی ایوارڈ یافتہ محمد رضوان اور شان مسعود کو اندازہ تھا کہ محمد عامر اور عماد وسیم کے بغیر بے ضرر بولنگ اٹیک کے خلاف جلد بازی کا مظاہرہ کرنے کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔عامر یامین اور محمد عمران کی گیندیں دونوں اوپنرز پر اثر دکھانے میں ناکام رہیں لیکن محمد الیاس شان مسعود کو 26 رنز پر آؤٹ کرکے یہ شراکت توڑنے میں کامیاب ہو گئے۔

ملتان سلطانز نے پاور پلے کا اختتام 44 رنز ایک وکٹ پر کیا۔

رضوان اور صہیب مقصود اسکور کو 101 تک لے گئے لیکن محمد نبی نے بھی عمران طاہر کی طرح ایک ہی اوور میں دو جھٹکے حریف ٹیم کو دے ڈالے۔انہوں نے پہلے صہیب مقصود کو 30 رنز پر جو کلارک کے ہاتھوں اسٹمپڈ کرایا اور پھر رائلے روسو کو دو رنز پر جو کلارک ہی کے ہاتھوں کیچ کروا دیا۔

یہ بھی پڑھیے

دوسرے اینڈ پر اعتماد سے کھیلنے والے محمد رضوان نے پی ایس ایل میں اپنی مجموعی طور پر چھٹی نصف سنچری پانچ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے مکمل کرلی۔ جب ملتان سلطانز نے 19ویں اوور میں مطلوبہ اسکور تین وکٹوں پر پورا کیا تو وہ 52 رنز پر ناٹ آؤٹ تھے۔

دو دوستوں کی جوڑی چاہے ایک ساتھ کھیلے یا یہ دونوں ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں دنیا کی توجہ بھلا ان سے کیسے ہٹ سکتی ہے۔ کراچی کنگز اور ملتان سلطانز کے درمیان پاکستان سپر لیگ کے افتتاحی میچ میں بھی سب کی نظریں بابراعظم اور محمد رضوان پر مرکوز تھیں۔

سوشل میڈیا پر درعمل

پی ایس ایل کے پہلے ہی میچ میں کامیابی اور اپنی شاندار اننگز کی بدولت سوشل میڈیا پر ہر کوئی محمد رضوان کی تعریف کرتا نظر آیا۔

صحافی شاہد ہاشمی نے لکھا: ’محمد رضوان نے وہاں سے نئے برس کا آغاز کیا ہے جہاں انھوں نے گذشتہ برس کو چھوڑا۔ پی ایس ایل 7 کی پہلی نصف سنچری۔ وہ جو بھی کھیلتے ہیں وہ رنز میں تبدیل ہو جاتا ہے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@hashmi_shahid

کرکٹ تجزیہ کار ساج صادق نے لکھا: ’کراچی کنگز شاید رضوان کو ٹیم میں نہ رکھنے پر پچھتا رہے ہوں گے۔‘

صحافی وجاہت کاظمی نے لکھا: ’رضوان کی نصف سنچری۔ یہ شخص کسی اور ہی لیول پر ہے۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@KazmiWajahat

ایک اور صارف نے لکھا: ’صرف سال بدلا ہے محمد رضوان نہیں۔‘

دوسری جانب بہت سے صارفین اور خاص کر کے ملتان سلطانز کے فینز لیگ سپنر عمران طاہر کے گن گاتے بھی نظر تھے جنھوں نے کراچی کنگز کی تین وکٹیں حاصل کر کے اسے بڑا سکور نہیں کرنے دیا۔

علی حسن نے لکھا: ’عمران طاہر جادوئی سپن بولر۔‘

ایک اور صارف نے لکھا: ’42 برس کی عمر میں بھی عمران طاہر ایک کلاس رکھتے ہیں۔ پی ایس ایل 7 کے پہلے میچ میں چار اوورز میں صرف 16 رن دے کر تین وکٹیں حاصل کی۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter/@SajSadiqCricket

کووڈ سے کھلاڑی غیرمحفوظ۔

بتیس ہزار تماشائیوں کی گنجائش والے نیشنل سٹیڈیم کراچی میں اس بار کووڈ کی صورتحال نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو صرف پچیس فیصد یعنی آٹھ ہزار تماشائیوں کو اجازت دیے پر مجبور کر دیا۔

کھلاڑی بھی کووڈ سے محفوظ نہیں رہ سکے ہیں۔ اس سلسلے میں تازہ ترین شکار آل راؤنڈر شاہد آفریدی بنے ہیں جو اپنے کریئر کی الوداعی جھلک کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے دکھانے کے خواہش مند ہیں لیکن کورونا کے مثبت ٹیسٹ کے سبب انہیں قرنطینہ پر مجبور ہونا پڑا ہے۔

شاہد آفریدی کے علاوہ پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض ۔ بیٹسمین حیدر علی۔ وکٹ کیپر کامران اکمل ۔ فاسٹ بولر ارشد اقبال۔ کراچی کنگز کے صدر وسیم اکرم ۔ عماد وسیم اور جورڈن تھامسن کووڈ کی زد میں آچکے ہیں۔

تقریب

،تصویر کا ذریعہPCB

افتتاحی تقریب میں نئی بات کیا تھی؟

پی ایس ایل کے آغاز پر ہمیشہ اس کی افتتاحی تقریب کا سب کو بے چینی سے انتظار رہتا تھا اور پھر کافی عرصے تک اس کی بازگشت سنائی دیتی تھی تاہم اس بار کووڈ کی وجہ سے مختصر اور قدرے غیرمتاثرکن افتتاحی تقریب دیکھنے کو ملی جس کا آغاز نیشنل اسٹیڈیم کے باہر اکیڈمی گراؤنڈ میں پیراگلائیڈر کی آمد اور آتش بازی سے ہوا۔

عاطف اسلم اور آئمہ بیگ کی لائیو پرفارمنس بھی اس لیے رنگ نہ جماسکی کیونکہ یہ گانا ریلیز ہونے پر سب پہلے ہی دیکھ چکے تھے۔

کووڈ کی وجہ سے پی ایس ایل کی یہ پہلی افتتاحی تقریب تھی جس میں کوئی تقریر نہیں تھی اور نہ کوئی مہمان سٹیج پر موجود تھا البتہ وزیراعظم عمران خان اور پی سی بی چیرمین رمیز راجہ کی وڈیو اور وزیراعظم کا پی ایس ایل شروع کرنے کا اعلان حاضرین اور ناظرین کو دکھایا گیا لیکن افتتاحی تقریب سے پہلے اس آئٹم کو بھی ریلیز کرکے اس بارے میں بھی تجسس کو ختم کردیا گیا تھا۔ سب سے اہم بات یہ کہ ایک سال بعد ہونے والی اس پی ایس ایل کے لیے کسی اوریجنل تخلیق کے بجائے اسے ُاس وڈیو کی کاپی کرکے پیش کیا گیا جو لندن اولمپکس کے موقع پر ملکہ برطانیہ اور جیمزبونڈ پر بنائی گئی تھی۔

اب تک اس ٹورنامنٹ میں لاہور قلندرز کو فتح حاصل نہیں ہو سکی ہے جبکہ اس کے علاوہ تمام ہی ٹیمیں ایک ایک مرتبہ جبکہ اسلام آباد یونائیٹڈ دو مرتبہ یہ ٹورنامنٹ جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے۔

گذشتہ دو برسوں سے پی ایس ایل کورونا وائرس کے باعث تعطل کا شکار رہا ہے۔