پی ایس ایل 6 ملتوی: بائیو سکیور ببل کی مبینہ خلاف ورزیوں پر الزامات اور سوالات

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپی ایس ایل 6 کے مقابلے ملتوی کر دیے گئے ہیں
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

پاکستان کرکٹ بورڈ نے مختلف کھلاڑیوں کے کورونا سے متاثر ہونے کے باعث پاکستان سپر لیگ کے چھٹے ایڈیشن کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

پاکستان سپر لیگ ملتوی ہونے کے بعد بنیادی سوال یہی سامنے آیا ہے کہ چھ کھلاڑیوں اور ایک کوچنگ سٹاف ممبر کے کووڈ ٹیسٹ مثبت آنے کے پیچھے کیا عوامل ہوسکتے ہیں اور سب سے بڑھ کر یہ کہ پاکستان سپر لیگ میں جو بائیو سکیور ببل بنایا گیا تھا اس کی خلاف ورزی کس طرح ہوئی؟

گزشتہ ایک سال کے دوران کووڈ۔19 کی صورتحال میں کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں کو یقینی بنانے کے لیے بائیو سکیور ببل کا سہارا لیا گیا ہے۔

عام طور پر لوگ یہ سمجھتے ہوں گے کہ یہ کوئی تہہ ہے لیکن درحقیقت یہ سماجی فاصلہ قائم کرنے کا ایک ایسا مؤثر طریقہ ہے جس میں داخل ہونے والا شخص باقی دنیا سے دور ہو جاتا ہے اور خود کو محفوظ سمجھتا ہے لیکن یہ اتنا آسان بھی نہیں کیونکہ اس میں تمام سٹیک ہولڈرز کی یکساں ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ کس طرح اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ جو بھی اس بائیو سکیور ببل کا حصہ بنا ہے وہ محفوظ رہے۔

تالی دونوں ہاتھ سے بجتی ہے

پاکستان سپر لیگ کے دو بڑے سٹیک ہولڈرز پاکستان کرکٹ بورڈ اور چھ فرنچائز مالکان ہیں۔ پی ایس ایل ملتوی ہونے کے بعد متعدد فرنچائز مالکان ٹی وی سکرینز پر نظر آئے اور انھوں نے پاکستان سپر لیگ کے ملتوی ہونے اور بائیو سکیور ببل کی خلاف ورزی کا ذمہ دار پاکستان کرکٹ بورڈ کو ٹھہرایا۔

دوسری جانب پاکستان کرکٹ بورڈ نے محتاط رویہ اختیار کرتے ہوئے یہ بات واضح کی ہے کہ یہ وقت ایک دوسرے پر الزام تراشی کا نہیں ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان نے اپنی پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ’تالی دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ یہ سب کی اجتماعی ذمہ داری تھی‘۔ انھوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ جو بائیو سکیور ببل میں تھے ان پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی تھی کہ وہ اس پر مکمل عمل کرتے۔

وسیم خان کا کہنا ہے کہ اس بارے میں مکمل تحقیقات ہوں گی کہ بائیو سکیور ببل کی خلاف ورزی کیسے اور کس نے کی؟

وسیم خان کا کہنا ہے کہ انھیں اس بات کی توقع تھی کہ فرنچائز مالکان کی جانب سے یہ ردعمل سامنے آئے گا۔ انھوں نے اسے جذباتیت کا نام دیا۔

بائیوسکیور ببل کی خلاف ورزیوں کے الزامات

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ چھ ٹیمیں جس ہوٹل میں ٹھہری ہوئی تھیں وہاں مبینہ طور پر بائیو سکیور ببل کی مختلف نوعیت کی خلاف ورزیاں عمل میں آئیں۔ ملتان سلطانز کی نمائندگی کرنے والے شاہد آفریدی نے اپنی سالگرہ منائی جس میں مبینہ طور پر کئی کرکٹرز شریک ہوئے۔ مبینہ طور پر ہوٹل میں باہر سے کھانے منگوانے کا سلسلہ جاری رہا حالانکہ اس پر مکمل پابندی تھی لیکن متعدد سینیئر کرکٹرز کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ ’اس بات پر بضد تھے کہ باہر سے کھانا آئے گا‘۔

شریک ٹیموں کو بھی یہ بتایا گیا تھا کہ وہ سیڑھیاں استعمال نہیں کریں گے لیکن ’کئی بار دیکھا گیا کہ کھلاڑی اور آفیشلز سیڑھیاں استعمال کر رہے ہیں‘۔

یہ بھی دیکھا گیا کہ ایک ٹیم جب نیشنل سٹیڈیم میں پریکٹس کر کے پریکٹس ایریا سے باہر نکلی تو وہاں ’شائقین ان کے بہت قریب موجود تھے۔‘

نیشنل سٹیڈیم کا گراؤنڈ سٹاف جو بائیو سکیور ببل کا حصہ نہیں تھا روزانہ ٹیموں کے قریب نظر آتا تھا۔ اسی طرح یہ بات بھی اہم تھی کہ روزانہ مین آف دی میچ کی ٹرافی کن کن ہاتھوں سے ہوتے ہوئے کھلاڑی تک پہنچتی تھی۔

کرس لین کے ساتھ سیلفی

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر وسیم خان کی پریس کانفرنس میں ایک صحافی نے ان کی توجہ اس جانب دلائی کہ مبینہ طور پر ایک فرسٹ کلاس کرکٹر ٹیم ہوٹل گئے جہاں وہ ملتان سلطانز کے آسٹریلوی بیٹسمین کرس لین سے ملے اور ان کے ساتھ سیلفی بھی بنائی۔

وہاب ریاض اور ڈیرن سیمی کی جاوید آفریدی سے ملاقات

پاکستان سپر لیگ میں بائیو سکیو ببل کی خلاف ورزی کا پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض اور ہیڈکوچ ڈیرن سیمی نے اپنی ہی ٹیم کے مالک جاوید آفریدی سے معین خان کرکٹ اکیڈمی گراؤنڈ میں ملاقات کی۔ جاوید آفریدی بائیو سکیور ببل کا حصہ نہیں تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جاوید آفریدی، وہاب ریاض اور ڈیرن سیمی نے اس پر معذرت کی، ان تینوں نے نہ صرف سیلف آئسولیشن کی بلکہ ان کے کووڈ ٹیسٹ منفی آئے جس کے بعد وہاب ریاض اور ڈیرن سیمی کو سکواڈ کا حصہ بننے کی اجازت دی گئی۔

غیرملکی ٹیموں کا دوبارہ اعتماد حاصل کرنا

پاکستان کرکٹ بورڈ کے لیے اب سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وہ غیر ملکی کرکٹرز اور ان کے کرکٹ بورڈز کا وہ اعتماد کس طرح حاصل کرے گا جو کووڈ کے بعد پی ایس ایل ملتوی ہونے کی وجہ سے متزلزل ہوا ہے۔

یاد رہے کہ اس سال انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیموں نے پاکستان کا دورہ کرنا ہے اور پی ایس ایل جس صورتحال میں ملتوی ہوئی ہے ان ٹیموں کے کرکٹ بورڈز یقیناً اس پر نظر رکھے ہوئے ہوں گے اور ان کے ہیلتھ سیفٹی کے بارے میں تحفظات دور کرنے کے لیے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لانا ہوگا۔

پی سی بی کی پریس کانفرنس میں کیا کچھ کہا گیا

پی سی بی کے سی ای او وسیم خان نے پاکستان سپر لیگ 6 کو ملتوی کرنے کے فیصلے کی تصدیق کرتے ہوئے اپنی پریس کانفرنس میں کہا کہ اس وقت ان کی ترجیح انٹرنیشنل کھلاڑیوں کی حفاظت اور انھیں بخیرت ان کے ممالک میں واپس پہنچانا ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان نے یہ بھی کہا کہ ان کی کوشش ہوگی کہ اس سال کے اختتام سے پہلے پی ایس ایل 6 کے باقی میچز کروا کر اس مکمل کیا جائے۔

پی سی بی کے سی ای او وسیم خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

یہ فیصلہ پی ایس ایل میں شریک دو ٹیموں کے سات کھلاڑیوں میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کے بعد کیا گیا ہے۔ پی سی بی اب فوری طور پر تمام چھ ٹیموں کے شرکا کی پی سی آر ٹیسٹنگ، کورونا ویکسین اور آئسولیشن سہولیات کے لیے اقدامات کرے گا۔

وسیم خان کا کہنا تھا کہ بائیو سکیور ببل کا معاملہ اعتماد کا ہے اور جب کھلاڑیوں کا اس پر اعتماد نہ رہے تو کرکٹ کو نقصان پہنچتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس بات کی تفتیش کروائی جائے گی کہ کوتاہی کہاں ہوئی اور یہ تفتیش پی سی بی خود نہیں کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وہ پی سی بی کے چیئرمین سے بات کریں گے اور وہ بورڈ آف گورنرز سے بات کریں گے۔

پی سی بی حکام نے بتایا کہ تمام کھلاڑیوں کو ویکسین کی سہولت فراہم کی جا رہی ہے۔

کھلاڑیوں کے گالف کھیلنے کے بارے میں ایک اس سوال کے جواب وسیم خان کا کہنا تھا کہ جب بھی کسی کھلاڑی کو گالف کھیلنے کی اجازت دی گئی تو بورڈ نے اس بات کو یقینی بنایا کہ وہاں پر کوئی دوسرا شخص نہ ہو اور ایس او پیز کی مکمل پاسداری کی جا رہی ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ کھلاڑیوں کو بھی کوئی آؤٹ لٹ دینا ضروری ہے۔

پاکستان سپر لیگ، وہاب ریاض، شاداب خان

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشنپی ایس ایل کے آغاز پر پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض (دائیں) نے بائیو سکیور ببل کی خلاف ورزی کی تھی

اس سے قبل آسٹریلین کرکٹر ڈین کرسٹین نے ایچ بی ایل پی ایس ایل 6 سے دستبرداری کا فیصلہ کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق کراچی کنگز کے آل راؤنڈر ڈین کرسٹین 12 بجے کی فلائٹ سے دبئی روانہ ہو جائیں گے۔

اس صورتحال پر سابق ٹیسٹ کرکٹر راشد لطیف کا کہنا ہے کہ ’پی ایس ایل ملتوی کیے جانے میں فرنچائز انتے ہی ذمہ دار ہیں جتنا پاکستان کرکٹ بورڈ۔‘

پاکستان میں کورونا کی صورتحال کی نگرانی کرنے والے ادارے نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر (این سی او سی) کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک میں کورونا کے باعث رواں سال کی سب سے زیادہ 75 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔