سمیع چوہدری کا کالم: ’لیگوں‘ کے دور میں ’کچھ الگ‘ سی پی ایس ایل

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
کرکٹ لیگز تو دنیا بھر میں ہو ہی رہی ہیں مگر پی ایس ایل میں کچھ ایسا ہے جو ان سب سے الگ ہے۔ اور ’کچھ الگ‘ ہونا ضروری بھی ہے اگر کسی ایونٹ کو ایک ایسے کیلنڈر میں اپنی جگہ بنانا ہو جہاں سال کے مہینے کم ہیں اور لیگیں زیادہ۔
ایک لمحے کو تو یہ یقین کرنا ہی دشوار ہوتا ہے کہ وہ پی ایس ایل جس کی فائل سالہا سال پی سی بی کی الماریوں میں ’رُلتی‘ رہی، جس کے پاکستان میں کبھی انعقاد کا کوئی امکان ہی نظر نہیں آتا تھا اور جو پہلے تین سیزنز متواتر خسارہ برداشت کرتی رہی، وہی لیگ اب سات برس کی ہو گئی ہے۔
کسی اور لیگ کے لیے شاید اتنے سال ’سروائیو‘ کرنا اس قدر بامعنی نہ ہو جیسا یہ پی ایس ایل کے لیے ہے۔ کیونکہ ایک ایسی مارکیٹ جہاں بی سی سی آئی اور کرکٹ آسٹریلیا جیسے بورڈز کی اجارہ داری تھی، وہاں ایسی بے رنگ و کیف کنڈیشنز میں بھی نہ صرف اپنے قدم جما جانا، بلکہ متواتر افزائش ہی پاتے جانا لگ بھگ کسی معجزے کا سا ہے۔
اور اس کی اہمیت اس امر سے بھی سوا ہے کہ پی سی بی جیسے انتظامی ادارے سے ایسا عزم اور تسلسل شاید کم ہی لوگوں کو متوقع تھا۔ بالآخر یہ وہی کرکٹ بورڈ ہے جس کے ایک چیئرمین صاحب تو آئی سی سی کی میٹنگز میں باقاعدہ قیلولہ فرماتے پائے جاتے رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہ@realpcbmedia/twitter
اور پھر نہ تو اس لیگ کے پاس آئی پی ایل کے جیسا پیسہ تھا کہ بس پھینکتی اور تماشہ دیکھتی جاتی، نہ تو یہاں کریبئین پریمئر لیگ کے جیسا گلیمر تھا اور نہ ہی بگ بیش جیسی ہائی کوالٹی کرکٹ کنڈیشنز میسر تھیں کہ اپنا نام بنا پاتی۔
مگر ان تمام تر نامساعد حالات کے باوجود نہ صرف یہ لیگ پاکستان کرکٹ کو جواں خون کا تحفہ دینے میں کامیاب رہی بلکہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی جیسا ناممکن کام بھی ممکن کر دکھایا۔ اس کا کریڈٹ پی سی بی کے ان سبھی جواں ذہنوں کو جاتا ہے جنھوں نے اس عمارت کی تعمیر میں اپنے اپنے حصے کی اینٹیں جوڑیں۔
اور تحسین کے خصوصی مستحق نجم سیٹھی بھی ہیں جنھوں نے چہار سمت سے تنقید کے باوجود یہ داؤ کھیلنے کا خطرہ مول لیا۔
اب کی بار پی ایس ایل البتہ اپنے روایتی موسمی ’ونڈو‘ سے ہٹ کر ہے اور کیلنڈر میں، متوقع دورۂ آسٹریلیا کی گنجائش پیدا کرنے کے لیے جنوری میں ہی شروع ہو رہی ہے، سو اسے بنگلہ دیش پریمئر لیگ کے کیلنڈر سے بھی ٹکرانا پڑ رہا ہے اور ماضی کے کچھ بڑے نام بھی اسے میسر نہیں ہوں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مگر اس بار دلچسپی کے پہلو کچھ اور ہوں گے۔ پاکستان بھر کے متفقہ فیورٹ بابر اعظم پہلی بار پی ایس ایل میں کپتانی کرتے نظر آئیں گے۔ دوسری طرف شاہین شاہ آفریدی اپنے کرئیر میں پہلی بار کپتانی کا بوجھ اٹھائیں گے۔ اور یہ دیکھنا خوب ہو گا کہ ان دونوں بڑی تبدیلیوں سے متعلقہ فرنچائزز کی قسمت میں کیا بدلاؤ آتا ہے۔
سمیع چوہدری کے کالم پڑھیے
اور اس سے بھی زیادہ دلچسپی کا پہلو ہو گا، انگلش کرکٹرز کا پی ایس ایل پر راج۔ وہی انگلش کرکٹ جس نے چند ماہ پہلے پلئیرز کے تحفظ اور ذہنی صحت کی خاطر دورۂ پاکستان منسوخ کیا تھا، اب اس کے دو درجن کھلاڑی آج سے پاکستان سپر لیگ میں جلوہ گر ہوں گے اور ہر ٹیم کو انگلش کرکٹ کی نمائندگی میسر ہو گی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مالی کامیابی کی اپنی اہمیت ہے مگر ساکھ کے اعتبار سے یہ پی ایس ایل کی زیادہ بڑی کامیابی ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ یہ برانڈ نہ صرف پاکستان کرکٹ بورڈ بلکہ دیگر کرکٹ بورڈز کے لیے بھی ایک نرسری بنتا جا رہا ہے اور اسی حقیقت کا اعتراف ڈیوڈ میلان اور لیوس گریگری بھی کر چکے ہیں۔
امید صرف یہ رکھنی چاہیے کہ گذشتہ دو سیزنز کے برعکس اس سال پی سی بی کے انتظامی معاملات بہتر رہیں اور کووڈ کے ہنگامے میں محفوظ و متواتر کرکٹ کا انعقاد یقینی رہے کیونکہ اگر اب کی بار پی سی بی سے ذرا سی چُوک بھی ہوئی تو سارا ایڈیشن ہی ضائع ہونے کا خدشہ ہے۔













