پی ایس ایل 7: لاہور قلندرز نے کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو ہرا دیا، پشاور زلمی کی کراچی کنگز کو شکست

شاہین شاہ آفریدی

،تصویر کا ذریعہPCB

    • مصنف, زبیر اعظم
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

اتوار کے دن لاہور کے قذافی سٹیڈیم میں شائقین کی تعداد میں تو بہتری آئی لیکن پی ایس ایل 7 کے دونوں مقابلے لاہور قلندرز بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور پشاور زلمی بمقابلہ کراچی کنگز بلکل یکطرفہ رہے۔

دونوں ہی میچز میں دوسری اننگز کے درمیان ہی میں میچ کا نتیجہ واضح ہو چکا تھا۔

پہلا میچ پشاور زلمی نے 55 رن سے جیتا تو یہ کراچی کنگز کی ٹورنامنٹ کی مسلسل چھٹی شکست تھی۔

دوسرے میچ میں کوئٹہ اور لاہور کا دلچسپ مقابلہ متوقع تھا لیکن شاہین شاہ آفریدی نے پہلے ہی اوور میں تباہ کن بولنگ کی اور میچ کا انجام واضح کر دیا جس کے اختتام پر لاہور باآسانی آٹھ وکٹ سے جیت گیا۔

’شاہین نے تو انڈیا کے خلاف میچ کی یاد تازہ کر دی‘

لاہور قلندرز اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے درمیان میچ کا ٹاس لاہور کے کپتان شاہین آفریدی نے جیت کر کوئٹہ کو پہلے بیٹنگ کی دعوت دی اور پہلے ہی اوور میں میچ کا پانسہ بدل دیا۔

اپنے پہلے اوور میں وکٹیں لینے کے لیے مشہور شاہین نے ایک اور ایسا اوور کیا جو کافی دیر یاد رکھا جائے گا۔

اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ کوئٹہ کو اپنے اوپنر جیسن روئے کی جارحانہ بلے بازی کی وجہ سے حالیہ میچز میں کافی فائدہ ہوا لیکن دوسری گیند پر وہ شاہین کی گیند پر وکٹ کے پیچھے کیچ آوٹ ہو گئے۔

اب جیمز ونس میدان میں آئے اور شاہین کی اگلی گیند کچھ ویسی ہی تھی جیسی انھوں نے ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کے بلے باز کے ایل راہول کو کی تھی۔ نتیجہ بھی وہی نکلا اور جیمز ونس پہلی ہی گیند پر بولڈ ہو کر پولین واپس لوٹ گئے۔

سوشل میڈیا پر صارف حسن نے لکھا ’شاہین از مائی نیم، پہلے اوور میں تباہی مچانا از مائی گیم۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

پہلے اوور میں دو وکٹیں گرنے کے بعد کپتان سرفراز احمد کریز پر آئے جنھوں نے شاہین کے اگلے اوور میں دو چوکے مارے۔ ان کی دیکھا دیکھی ساتھ کھڑے احسن علی نے بھی ایک چوکا لگا دیا تو شائقین کو لگا کہ کوئٹہ دو وکٹیں گرنے کے باوجود تیز رن ریٹ سے ہی کھیلے گا۔

لیکن اگلے اوور کی پہلی گیند پر کوئٹہ کے کپتان سرفراز احمد ایک رن لینے کی کوشش کرتے ہوئے رن آوٹ ہوئے جس کا اصل سہرا فائن لیگ پر کھڑے کامران غلام کی عمدہ تھرو کو جاتا ہے۔ اب کوئٹہ ٹیم مشکل میں تھی۔

عمر اکمل سے امیدیں

راشد خان نے اگلے اوور میں احسن علی کو بھی آٹھ رن پر بولڈ کر دیا تو کوئٹہ کے چار کھلاڑی 26 رنز پر پولین لوٹ چکے تھے۔

عمر اکمل نے آج کے میچ کا آغاز بھی جارحانہ انداز میں کیا اور زمان خان کے دوسرے اوور میں تین چوکے لگائے۔

عمر اکمل

،تصویر کا ذریعہPCB

سوشل میڈیا صارف احمد نے لکھا کہ سیزن شروع ہونے سے پہلے کسے پتا تھا کہ عمر اکمل سے اتنی امید ہو گی۔

اگلے اوور میں عمر اکمل نے حارث روف کو پہلی گیند پر چھکا لگایا تو ان سے جڑی امیدوں میں اور اضافہ ہو گیا۔

لیکن عمر اکمل ڈیوڈ ویزے کی گیند پر کیچ آوٹ ہو گئے۔ انھوں نے 19 گیندوں پر 25 رن بنائے۔ اب 10 اوور ہو چکے تھے اور کوئٹہ کی آدھی ٹیم 56 رن پر آوٹ ہو چکی تھی۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

’پروفیسر حفیظ، سپرمین‘

ایسے میں افتخار نے کوئٹہ کو سہارا دیا اور حسن خان کے ساتھ 50 رن کی شراکت داری میں سکور 100 سے اوپر پہنچا دیا۔ حسن خان ڈیوڈ ویزے کی ہی گیند پر 17 رن بنا کر اس وقت آوٹ ہوئے جب پروفیسر حفیظ نے نہایت عمدہ کیچ کیا۔

اس کیچ پر سوشل میڈیا صارفین نے دلچسپ تبصرے بھی کیے جن میں زین نے انھیں سپر مین کا خطاب دیا لیکن اس کیچ نے میچ کے دوران لاہور قلندرز کی بہترین فیلڈنگ کا بھی ثبوت دیا جس کا ایک اور عملی مظاہرہ سرفراز کا رن آوٹ بھی تھا۔

افتخار نے عمدہ ففٹی کی جس کے دوران حارث رؤف کے اوور میں ایک چھکا اور چوکا بھی شامل تھا لیکن اسی اوور میں وہ کیچ آوٹ ہو گئے۔ انھوں نے 52 رن بنائے۔

سہیل تنویر اور نور احمد نے کوئٹہ کے سکور کو سات وکٹوں کے نقصان پر 141 پر پہنچا دیا۔ لاہور کی جانب سے شاہین اور ڈیوز ویزے نے دو دو وکٹیں حاصل کیں لیکن راشد خان نے نہایت عمدہ بولنگ کی اور چار اوور میں صرف 13 رن دے کر ایک وکٹ بھی حاصل کی۔

لاہور کی بیٹنگ اور ان فارم فخر

فخر زمان کی فارم کو دیکھتے ہوئے 141رن کا ہدف کچھ زیادہ نہیں تھا لیکن کوئٹہ کے بولر سہیل تنویر اور نسیم شاہ نے عمدہ بولنگ سے آغاز کیا اور بلے بازوں کو زیادہ تیز کھیلنے نہیں دیا۔

پہلے چار اوور میں صرف 26 رن بنے لیکن نور احمد کے اگلے اوور میں عبد اللہ شفیق اور فخر زمان دونوں نے ہی ایک ایک چوکا مارا اور سکور پانچ اوور میں بنا کسی نقصان 35 پر پہنچا دیا۔

عبد اللہ شفیق اگلے اوور میں 20 گیندوں پر 19 رن بنانے کے بعد غلام مدثر کی گیند پر کیچ آوٹ ہوئے تو سکور 41 ہو چکا تھا اور اب لاہور کا ہدف صرف 101 رن تھا جب کہ نو وکٹیں اور 14 اوور باقی تھے۔

ٹورنامنٹ کے اب تک کے ٹاپ سکور کرنے والے فخر زمان آج بھی اچھی فارم میں تھے۔ پہلی وکٹ گرنے اور شروع کے اوور احتیاط سے گزارنے کے بعد انھوں نے نویں اوور میں افتخار احمد کو دو چوکے مارے اور نصف ہدف مکمل کر لیا۔

فخر زمان

،تصویر کا ذریعہPCB

اب لاہور کے لیے باقی رن مکمل کرنا زیادہ مشکل نہیں لگ رہا تھا۔ صرف ساڑھے چھ رن فی اوور کی اوسط درکار تھی جب کہ نو وکٹیں ابھی بھی باقی تھیں۔ فخر اور کامران غلام کو صرف سنگل ہی کرنے تھے۔

فخر زمان کی فارم ہی نہیں، قسمت نے بھی ساتھ دیا

11ویں اوور میں کوئٹہ کی ٹیم کے بولر حسن خان کی گیند پر فخر زمان نے شاٹ مارنے کی کوشش کی تو گیند ہوا میں بلند ہوئی اور دو فیلڈرز کے درمیان گر گئی۔ کچھ بھی کوئٹہ کے حق میں نہیں جا رہا تھا۔ اسی اوور کی چوتھی گیند پر کامران غلام نے پہلا چھکا مارا جس کے بعد لاہور کے لیے ہدف ایک رن فی بال رہ گیا تھا۔

14ویں اوور میں فخر زمان نے ٹورنامنٹ کی پانچویں ففٹی مکمل کی اور اوور کے اختتام تک سکور 113 ہو چکا تھا۔ میچ کا نتیجہ بھی تقریبا واضح تھا۔

سوشل میڈیا صارف اشنا نے فخر زمان کی فارم پر دلچسپ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ آسٹریلیا سے پاکستان کی سیریز ابھی کروا لیں کیوںکہ فخر فارم میں ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

فخر کی صرف فارم ہی نہیں، قسمت بھی اچھی تھی کیوںکہ 15ویں اوور کی آخری بال پر جیسن روئے نے انھیں رن آوٹ کرنے کا ایک آسان موقع گنوا دیا۔ یوں لگ رہا تھا کہ کوئٹہ کی ٹیم بھی ہار قبول کر چکی ہے۔

لیکن اگلے ہی اوور میں فخر زمان نے ایک اور چانس دیا جب انھوں نے نور احمد کو چھکا مارنے کی کوشش میں گیند ہوا میں اچھال دی۔ اس بار افتخار نے کوئی غلطی کیے بنا کیچ پکڑا اور فخر 52 رن بنا کر آوٹ ہو گئے۔

اس وقت لاہور کو 27 گیندوں پر 24 رن درکار تھے۔ اب محمد حفیظ کریز پر آئے جبکہ دوسری جانب کامران غلام بھی مستحکم بیٹنگ کر رہے تھے اور 40 رن بنا چکے تھے۔

17ویں اوور میں غلام کامران نے سہیل تنویر کو دو چوکے مارے اور 36 گیندوں پر ففٹی مکمل کی۔ اس اوور، جس کے اختتام پر لاہور کو صرف نو رن درکار تھے، میں مجموعی طور پر 14 رن بنے۔

اگلے اوور کی چوتھی گیند پر حفیظ نے حسن کی گیند پر چھکا مار کر میچ کا اختتام کر دیا جو ایک کیچ بھی ہو سکتا تھا لیکن گیند فیلڈر کے ہاتھ کو چھوتی ہوئی باونڈری پار کر گئی اور لاہور نے کوئٹہ قلندرز کو آٹھ وکٹوں سے با آسانی شکست دے دی۔ کامران غلام نے ناقابل شکست 55 رن بنائے۔

مین آف دی میچ شاہین شاہ آفریدی رہے۔

لاہور قلندر اور کوئٹہ گلیڈی ایٹرز

،تصویر کا ذریعہPCB

پشاور زلمی بمقابلہ کراچی کنگز

’سٹیڈیم بدل گیا، کنڈیشنز بدل گئیں، نہیں بدلی تو کراچی کنگز کی پرفارمنس نہیں بدلی۔۔۔‘ یہ کہنا تھا ایک سوشل میڈیا صارف کا جو پی ایس ایل 7 میں کراچی کنگز کی مسلسل چھٹی شکست کے بعد کراچی کے چاہنے والوں کے جذبات کی ترجمانی کر رہی تھیں۔

پشاور زلمی اور کراچی کنگز کے درمیان یہ میچ ختم تو آخری گیند پر ہوا لیکن اس کا نتیجہ بہت پہلے سے ہی نظر آ رہا تھا۔

کسی نے کراچی کنگز کی قسمت کو کوسا تو کسی نے بابر اعظم سمیت بلے بازوں کے سست رفتار رن ریٹ کو لیکن 55 رنز کی اس شکست کے بعد کراچی کنگز اور کپتان بابراعظم کو اب ٹورنامنٹ میں واپسی کے لیے کوئی معجزہ ہی درکار ہو گا۔

کراچی نے صرف ٹاس ہی جیتا

بابر اعظم نے میچ کا ٹاس جیت کر جب پشاور زلمی کو بیٹنگ کی دعوت دی تو غالباً ان کے ذہن میں گزشتہ روز کوئٹہ گلیڈی ایٹرز اور اسلام آباد یونائیٹڈ کا میچ ہو گا جس میں کوئٹہ کے کپتان سرفراز احمد نے 200 رنز کا ہدف باآسانی حاصل کیا۔

انھوں نے بھی ٹاس جیت کر پہلے بولنگ کی تھی لیکن کراچی کی قسمت دیکھیے کہ پشاور زلمی کے ڈیبیو کرنے والے بلے باز محمد حارث نے دوسری ہی گیند پر عماد وسیم کو چھکا لگا کر اپنی آمد کا اعلان کر دیا۔

محمد حارث

،تصویر کا ذریعہPCB

،تصویر کا کیپشنمحمد حارث

دوسرے اوور میں کراچی نے اس وقت ایک سنہری موقع ضائع کیا جب عامر یامین کی گیند پر جارحانہ اوپنر بلے باز حضرت اللہ ززئی کا کیچ فرحان نے گلی میں چھوڑ دیا۔

اس کے بعد پشاور زلمی کے بلے بازوں نے کراچی کو زیادہ موقع نہیں دیا۔ ڈیبیو کرنے والے حارث چار چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 27 گیندوں پر 49 رن بنانے کے بعد محمد نبی کی گیند پر بولڈ ہوئے تو 10 اوور ہو چکے تھے اور 97 سکور تھا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

ان کی اس جارحانہ اننگز پر ایک صارف عبداللہ نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو مشورہ دیا کہ حارث کو محمد رضوان کا متبادل رکھ لینا چاہیے۔

حضرت اللہ ززئی ففٹی مکمل کرنے کے بعد پاکستان انڈر نائنٹین کھلاڑی قاسم اکرم کی گیند پر آوٹ ہوئے تو پشاور کی ٹیم ایک بہتر پوزیشن میں آ چکی تھی۔

ان کے بعد شعیب ملک نے 21 گیندوں پر 31 اور بین کٹنگ نے 15 گیندوں پر 26 رن بنائے۔ آخری گیند مکمل ہونے پر پشاور زلمی چھ وکٹوں کے نقصان پر 193 سکور کر چکی تھی۔

کراچی کی جانب سے کرس جارڈن سب سے کامیاب بولر رہے جنھوں نے چار اوورز میں چار وکٹیں حاصل کیں لیکن 41 رن بھی دیے۔

یہ گزشتہ روز کے میچ سے چھ رنز کم کا ہدف تھا لیکن کراچی کے فین پانچ شکستوں کے بعد اس ہدف کو پہاڑ جیسا دیکھ رہے تھے۔

کراچی کنگز، کچھ تو الگ کرو

کراچی کنگز

،تصویر کا ذریعہPCB

کراچی کی بیٹنگ شروع ہوئی تو کپتان بابر اعظم نے شعیب ملک کے پہلے ہی اوور میں دو چوکے جڑ دیے۔ کچھ امیدیں بحال ہوئیں، کچھ نے سوچا آج بابر اعظم اس تنقید کا جواب دیں گے جو ان کی سست رفتار بیٹنگ پر ہوتی رہی ہے۔

لیکن تیز رنز کی امید کا مرکز اوپنر شرجیل خان، بولر محمد عمر کے اگلے اوور میں پانچ گیندوں پر صرف ایک رن بنا پائے تو خدشات نے پھر سر اٹھانا شروع کر دیا۔

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

تین اوورز ختم ہوئے تو نو گیندیں ایسی تھیں جن پر کوئی رن نہیں بنا تھا اور سکور 12 تھا یعنی 10 رن کی اوسط کے جواب میں چار رن کی اوسط کا آغاز۔

چوتھے اوور میں محمد عمر کو ایک چھکا مار کر شرجیل نے کچھ حوصلہ دلایا تو صحیح لیکن پانچویں اوور میں سلمان ارشاد کی گیند پر بین کٹنگ کو کیچ تھما کر پویلین کی جانب چل دیے اور کپتان بابر اعظم کو ایک بار پھر دباؤ میں چھوڑ گئے۔

یہ بھی پڑھیے

شرجیل کے بعد آنے والے جو کلارک بھی کچھ زیادہ پر اعتماد کھیل پیش نہیں کر سکے۔ اب کراچی کے شائقین کے لیے بہت ہو چکا تھا۔ ایک صارف ثاقب نے لکھا کہ کراچی کنگز آپ کے پاس گیارہ نمبر تک بلے باز ہیں، تیزی سے کھیلنا شروع کریں۔

لیکن 10 اوور ختم ہوئے تو سکور مشکل سے 60 پر ہی پہنچا تھا۔ یعنی اگلے 10 اوورز میں جیتنے کے لیے 134 رن کرنا تھے۔

پشاور زلمی

،تصویر کا ذریعہPCB

ایسے میں ایک صارف نے سوال کیا کہ کیا اب کراچی کنگز اکیسویں اوور کا انتظار کر رہی ہے کہ تیز کھیلیں گے؟ کسی نے بابر کو یاد دلایا کہ یہ ٹیسٹ میچ نہیں، صرف 20 اوور کا میچ ہے۔

اس تمام تر تنقید کے جواب میں 13واں اوور مثبت ثابت ہوا جس میں کراچی کو 11 رن ملے لیکن اگے ہی اوور میں جو کلارک آوٹ ہوئے تو میچ کا نتیجہ بھی تقریبا واضح ہو چکا تھا۔

اس کے بعد کراچی کنگز کے لیے واحد خوش خبری بابر اعظم کی ففٹی تھی۔ ہدف بڑھتا جا رہا تھا اور کراچی کے بلے باز باونڈری تلاش کرتے کرتے پولین لوٹنا شروع ہو گئے۔

بابر 59 رن بنا کر ایل بی ڈبلیو ہوئے تو محمد نبی 15 رن پر کیچ آوٹ۔ این کاک بین نے 14 اور عامر یامین نے صرف چھ رن بنائے۔

وہاب ریاض اور سلمان ارشد نے دو دو وکٹیں حاصل کیں اور پشاور نے ایک مکمل فتح حاصل کی جس پر محمد حارث کو مین آف دی میچ کا ایوارڈ ملا۔