پی ایس ایل 7 میں ملتان سلطانز کی پہلی شکست، ’جب سے فواد رانا نے سٹیڈیم آنا بند کیا ہے ہمارا لاہور اچھا پرفارم کر رہا ہے‘

لاہور قلندرز

،تصویر کا ذریعہPCB

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ملتان سلطانز کی حریف ٹیموں کا انتظار یہی سوچتے ہوئے طول پکڑتا جا رہا تھا کہ اس ٹیم کا اس ٹورنامنٹ میں خراب دن آخر کب آئے گا اور بالآخر قذافی سٹیڈیم میں موجود شائقین کو یہ منظر دیکھنے کو مل ہی گیا۔

ملتان سلطانز کی ٹیم لاہور قلندرز کے 182 رنز کے ہدف تک پہنچنے میں ناکام رہی اور 130 رنز پر آل آؤٹ ہو کر یہ میچ 52 رنز سے ہار گئی۔ اس طرح لگاتار چھ میچوں کے بعد اسے پہلی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

لاہور قلندرز کی چھ میچز میں یہ چوتھی کامیابی ہے۔

فخرزمان بمقابلہ عمران طاہر

کسی بھی ٹیم کے لیے یہ بہت ہی مایوس کن بات ہوتی ہے کہ پہلے ہی اوور میں اسے وکٹ سے محروم ہونا پڑے اور لاہور قلندرز کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔

عبداللہ شفیق، انور علی کو چوکا مارنے کے بعد اگلی ہی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو گئے لیکن اس کے بعد فخر زمان اور کامران غلام کے درمیان 86 رنز کی قیمتی پارٹنرشپ نے لاہور قلندرز کی پوزیشن کو بہتر بنا دیا۔

ڈومیسٹک کرکٹ کے کامیاب بیٹسمین کامران غلام نے اس ٹورنامنٹ میں ملتان سلطانز کے خلاف دوسری مرتبہ اچھی بیٹنگ کرتے ہوئے چھ چوکوں کی مدد سے 42 رنز بنائے۔ اسی ٹیم کے خلاف انھوں نے کراچی میں 43 رنز سکور کیے تھے۔

فخر زمان

،تصویر کا ذریعہPCB

تاہم لاہور قلندرز کی پوری اننگز فخر زمان کے گرد گھوم رہی تھی جنھوں نے ابتدا ہی سے اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں بیٹنگ شروع کر دی تھی۔ موزارابانی کے پہلے ہی اوور میں دو چوکے رسید کرنے کے بعد انھوں نے عباس آفریدی کے پہلے اوور میں بھی دو چوکوں سے انھیں خوش آمدید کہا۔

فخر زمان اور عمران طاہر کے درمیان مقابلہ شائقین کے لیے دلچسپی کا حامل رہا۔ عمران طاہر کے تیسرے اوور میں فخر زمان نے چھکا مارا اور اسی اوور میں وہ اپنی نصف سنچری مکمل کرنے میں بھی کامیاب ہو گئے جو صرف 30 گیندوں پر مکمل ہوئی۔

عباس آفریدی نے اگرچہ محمد حفیظ کو خاموش رکھا لیکن دوسری جانب فخر زمان نے عمران طاہر کے آخری اوور میں زیادہ سے زیادہ رنز بٹورنے کا سوچ رکھا تھا اور اسی کوشش میں انھوں نے تیسری گیند پر چوکا مارا لیکن آخری گیند پر عمران طاہر نے انھیں ٹریپ کر لیا۔

فخر زمان آف سٹمپ کے باہر کی گیند کو باؤنڈری کے باہر پہنچانے میں کامیاب نہ ہو پائے اور شاہنواز دھانی نے کیچ لے کر عمران طاہر کو بالآخر خوشی منانے کا موقع دے دیا۔

فخرزمان کی 60 رنز کی اس اننگز میں جو 37 گیندوں پر مشتمل تھی چھ چوکے اور دو چھکے شامل تھے۔ اس ٹورنامنٹ میں فخر زمان کے 416 رنز ہو چکے ہیں جن میں ایک سنچری اور چار نصف سنچریاں شامل ہیں۔

لاہور قلندرز کی یہ تیسری وکٹ پندرہویں اوور میں 118 رنز پر گری۔

محمد حفیظ اور فل سالٹ کی شراکت 60 رنز کا اضافہ کرنے میں کامیاب رہی۔ فل سالٹ نے 13 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 26 رنز بنائے جس میں دو چوکے اورایک چھکا شامل تھا۔

محمد حفیظ اس ٹورنامنٹ میں پہلی بار قابل ذکر اننگز کھیلنے میں کامیاب رہے۔ انھوں نے 29 گیندوں پر 43 رنز سکور کیے جن میں تین چھکے اور ایک چوکا شامل تھا۔

عمران طاہر

،تصویر کا ذریعہPCB

فری ہٹ پر امپائر کی انگلی اٹھ گئی

لاہور قلندرز کی اننگز میں اس وقت دلچسپ صورتحال پیدا ہو گئی جب شاہنواز دھانی کی گیند نو بال ہوئی اور امپائر مائیکل گف نے فری ہٹ کا اشارہ کیا۔

اگلی گیند محمد حفیظ کے بیٹ کا کنارہ لیتی ہوئی وکٹ کیپر محمد رضوان کے گلووز میں گئی اور امپائر مائیکل نے انگلی کھڑی کر دی لیکن فوراً ہاتھ نیچے کر دیا۔ انھیں غلطی کا احساس ہو گیا تھا کہ فری ہٹ پر آؤٹ نہیں ہوتا۔

یہ بھی پڑھیے

فخر کے بعد دوسرا زمان

شاہین شاہ آفریدی نے پہلے اوور میں محمد رضوان اور شان مسعود کو خاموش رکھنے کے بعد اپنے دوسرے اوور میں عبداللہ شفیق کے عمدہ کیچ کی بدولت شان مسعود کی قیمتی وکٹ حاصل کر ڈالی جو صرف 8 رنز بنا پائے۔

لاہور قلندرز صہیب مقصود کو بھی ڈگ آؤٹ میں واپس بھیج دیتی اگر ڈیوڈ ویزا کی گیند پر ہیری بروک کیچ ڈراپ نہ کرتے۔

شان مسعود کے جانے کے بعد تمام نظریں ایوارڈ یافتہ بہترین ٹی ٹوئنٹی کرکٹر محمد رضوان پر مرکوز ہو گئی تھیں لیکن راشد خان کا جادو چل گیا۔ انھوں نے 20 رنز بنانے والے رضوان کو انھی کے پسندیدہ سوئپ شاٹ پر بولڈ کیا اور اگلی ہی گیند پر رائلے روسو کو بھی ایل بی ڈبلیو کر دیا۔

راشد خان

،تصویر کا ذریعہPCB

ٹم ڈیوڈ نے راشد خان کو ان کے آخری اوور میں لگاتار گیندوں پر چوکا اور چھکا لگایا لیکن اگلے ہی اوور میں صہیب مقصود نے 29 رنز پر اپنی وکٹ گنوائی۔

حارث رؤف کی گیند پر تھرڈ مین پر زمان خان کا کیچ شائقین کا جوش وخروش بڑھانے کے لیے کافی تھا۔

78 رنز پر چار وکٹیں گرنے کے بعد ہاتھ سے نکلتی بازی کو اپنی گرفت میں کرنے کے لیے ملتان سلطانز ٹم ڈیوڈ اور خوشدل شاہ کی طرف دیکھ رہی تھی لیکن کیچ فخر زمان بولڈ زمان خان کے اشتراک نے ٹم ڈیوڈ کو 24 رنز پر واپسی پر مجبور کر دیا۔

زمان خان نے جس مہارت سے صہیب مقصود کا کیچ لیا تھا اسے دوہرانے میں ناکام رہے اور انور علی کا کیچ نہ لے پائے۔ اس بار بھی بدقسمت بولر ڈیوڈ ویزا تھے۔

انور علی اس چانس سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکے اور پانچ رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے یہ وکٹ بھی دو ʹزمانʹ کے اشتراک کا نتیجہ تھی۔

خوشدل شاہ کی کریز پر موجودگی لاہور قلندرز کے لیے خطرہ نہ بن سکی۔ وہ 16 گیندوں پر 22 رنز بنا کر حارث رؤف کی گیند پر آؤٹ ہوئے تو ملتان سلطانز کی توپیں خاموش ہو چکی تھیں اور محض خانہ پری باقی رہ گئی تھی جس کے اختتام پر زمان خان تین وکٹوں کے ساتھ قابل ذکر رہے۔

لاہور قلندرز کو پی ایس ایل کی سب سے مقبول ٹیم کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ گو کہ گذشتہ چھ سیزنز میں ان کی مجموعی کارکردگی انتہائی ناقص رہی ہے بلکہ وہ اب تک واحد ٹیم ہیں جو پی ایس ایل آج تک نہیں جیتی ہے۔

لیکن شاید بار بار ہارنا، اور پھر ہمت دکھا کہ میدان میں واپس آنا ان کا خاصہ بن چکا ہے اور یہی ان کی مقبولیت کا بھی راز ہے۔ اس پس منظر میں اگر موجودہ سیزن میں قلندرز کو دیکھا جائے تو انھوں نے تو جیسے کایا ہی پلٹ دی ہے۔

ٹورنامنٹ میں اب تک کی ناقبل شکست ملتان سلطانز کو جس آسانی سے انھوں نے قذافی سٹیڈیم میں شکست دی وہ دیکھنے کے لائق تھا۔

حتی کہ اسلام آباد یونائیٹڈ کے سابق اعلی عہدے دار شعیب نوید نے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے ٹویٹ کی کہ 'کیا عالمی کرکٹ یا فرنچائز کرکٹ میں لاہور قلندرز سے بہتر بولنگ اٹیک کسی کے پاس ہے؟'

لیکن صارف زہرہ نے لاہور کے سابق کھیل کو مدنظر رکھتے ہوئے تبصرہ کیا کہ لاہور کو اگر جیتنا ہو تو اس کے لیے انھیں دو سو سے کم رنز بنانے ہوں گے۔

شاید ان کا اشارہ اس بات پر تھا کہ قلندرز واحد ٹیم ہیں جو تین بار دو سو سے زیادہ سکور کر کے میچ ہار چکے ہیں۔

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

ایک اور صارف کے مطابق قلندرز کی جیت کی وجہ بنی ہے فرنچائز کے مالک رانا فواد کا سٹیڈیم نہ آنا۔ وہ لکھتے ہیں: 'جب سے فواد رانا نے سٹیڈیم آنا بند کیا ہے ہمارا لاہور اچھا پرفارم کر رہا ہے۔'

قلندرز کی کارکردگی پر ان کے ایک اور شائق نے لکھا کہ یہ صرف ایک ٹیم نہیں ہے، یہ ایک خاندان کی مانند ہے۔