پی ایس ایل 7: ملتان سلطانز کو ایک بار پھر کوئی نہ روک سکا، زمان خان نے آخری اوور میں قلندرز کو جتوا دیا

،تصویر کا ذریعہPCB
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
ملتان سلطانز کے لیے سب سے زیادہ خوشی کی بات یہ تھی کہ جیت کے اس تسلسل میں کپتان رضوان دوبارہ فارم میں آ گئے جبکہ ٹم ڈیوڈ کی خوبصورت بیٹنگ نے شائقین کو ویک اینڈ پر بہترین تفریح فراہم کی۔
اس سے قبل لاہور نے اسلام آباد کو ایک دلچسپ مقابلے کے بعد آٹھ رنز سے شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن حاصل کر لی تھی۔ ملتان بدستور اس ٹورنامنٹ میں ناقابلِ تسخیر ہے۔
پہلے بات کر لیتے ہیں ملتان سلطانز کے 57 رنز کی فتح کی جس میں ٹم ڈیوڈ کی جارحانہ بیٹنگ اور محمد رضوان کی ایک اور نصف سنچری نے اہم کردار ادا کیا۔
ملتان سلطانز کی فتح کا احوال
شان مسعود اور محمد رضوان نے ٹیم کو صرف 53 گیندوں پر 85 رنز کا آغاز ٹیم کو دیا۔ شان مسعود ایک اور بڑی اننگز کی جانب بڑھ رہے تھے کہ شعیب ملک انھیں 35 رنز پر ردرفرڈ کے ہاتھوں کیچ کرانے میں کامیاب ہو گئے۔
شان مسعود کے اس پی ایس ایل میں مجموعی رنز 275 ہو چکے ہیں جو فخرزمان کے 286 رنز کے بعد دوسرے نمبر پر ہیں۔
صہیب مقصود کی دو چھکوں اور ایک چوکے کی مدد سے بنائی گئی 25 رنز کی اننگز کے بعد رضوان اور ٹم ڈیوڈ بولنگ پر چھا گئے۔
رضوان نے آٹھ چوکوں اور ایک چھکے کی مدد سے 82 رنز کی اننگز کھیلی لیکن نیشنل سٹیڈیم میں شائقین ٹم ڈیوڈ کی بیٹنگ کے سحر میں کھو گئے۔
ٹم ڈیوڈ نے صرف اٹھارہ گیندوں پر نصف سنچری بنا کر اس پی ایس ایل میں تیز ترین نصف سنچری کا پال سٹرلنگ کا ریکارڈ برابر کردیا۔ انھوں نے اس اننگز میں دو چوکے اور چھ چھکے مارے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
رہی سہی کسر خوشدل شاہ نے پوری کر دی۔ انھوں نے وہاب ریاض کے آخری اوور میں تین چھکے مارتے ہوئے صرف سات گیندوں پر 21 رنز بنائے۔ آخری پانچ اوورز میں 74 رنز کا اضافہ ہوا۔
ملتان سلطانز کے تین وکٹوں پر 222 رنز اس پی ایس ایل میں اس ٹیم کا 200 سے زائد تیسرا سکور ہے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
عمران طاہر پانسہ پلٹنے کے ماہر
ایک بڑے ہدف تک پہنچنے کے لیے ایک بڑی شراکت ضروری ہوتی ہے لیکن پشاور زلمی نے کامران اکمل اور حیدر علی کی وکٹیں پاور پلے میں ہی گنوا دیں۔ ان دونوں کو شاہنواز دھانی نے آؤٹ کیا۔
عمران طاہر کی بولنگ پر سب کو ان کے جشن منانے کے دلچسپ انداز کا انتظار رہتا ہے اور اس میچ میں شائقین نے یہ جشن تین بار دیکھا۔ عمران طاہر نے صرف آٹھ گیندوں پر شعیب ملک، ردرفرد اور ززئی کی وکٹیں حاصل کر کے پشاور زلمی کے لیے ہدف کو دور سے دور کر دیا۔
حضرت اللہ ززئی کو اس پی ایس ایل میں اپنی پہلی نصف سنچری کا ابھی تک انتظار ہی ہے۔
شاہنواز دھانی نے عثمان قادر کو رضوان کے ہاتھوں کیچ کرایا اور اگلی ہی گیند پر محمد عمر کو بھی رضوان کے شاندار کیچ کی صورت میں آؤٹ کرا دیا لیکن ٹی وی امپائر نے اس گیند کو نوبال قرار دے دیا کیونکہ یہ گیند کندھے سے اوپر تھی۔

،تصویر کا ذریعہPCB
بین کٹنگ پانچ چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے باون رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے لیکن پشاور زلمی کی بساط آٹھ وکٹوں پر 165 رنز پر لپیٹ دی گئی جس کا کریڈٹ شاہنواز دھانی اور عمران طاہر کی تین، تین وکٹیں کو جاتا ہے۔ محمد رضوان کی وکٹ کے پیچھے مستعدی کی بھی داد دینا ہو گی جنھوں نے تین کیچز لیے اور ساتھ ساتھ بہترین کپتانی بھی کی۔
عمران طاہر اور شاداب خان دس دس وکٹوں کے ساتھ اس ٹورنامنٹ میں سرفہرست ہو گئے ہیں۔
اس نتیجے کے بعد پشاور زلمی کی ٹیم پوائنٹس ٹیبل پر چوتھے نمبر پر آ گئی ہے اس نے پانچ میں سے دو میچ جیتے ہیں اور تین میں اسے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
ملتان کی مسلسل پانچویں فتح پر سوشل میڈیا پر ردعمل
ملتان سلطان کی مسلسل پانچویں قتح کے نتیجے میں حسبِ توقع شائقین نے ٹوئٹر پر خوب دلچسپ آرا کا اظہار کیا۔ ملتان سلطانز کو مبارکباد اور محمد رضوان کی شاندار بلے بازی اور کپتانی پر لوگوں نے انھیں خوب داد دی۔
ایشل شاہ نامی صارف نے ملتان سلطان کی بہترین فارم کو بالی وڈ کی ایک فلم کے میم سے تشبیہ دی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
منا ہل نامی صارف نے ملطان سلطان کا موازنہ کراچی کنگز سے کیا جنھیں اس ٹونامنٹ میں مشکلات کا سامنا ہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
خلیل نامی صارف نے پشاور زلمی کے مداحوں کی مایوسی کو کچھ یوں میم کی شکل دی۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 3
میاں عمر نامی صارف بظاہر پشاور زلمی کے مداح ہیں اور انھوں نے اپنی ٹیم سے مایوسی کا اٌہار کچھ یوں کیا۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 4

،تصویر کا ذریعہPCB
لاہور قلندرز کی فتح کا احوال
جیسے ہی آپ کو یہ محسوس ہونے لگے کہ لاہور قلندرز یا تو بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کر رہی ہے یا پھر بدترین تو تھوڑا تحمل کا مظاہرہ کریں کیونکہ ’پکچر ابھی باقی ہے۔‘
لاہور قلندرز نے اب تک پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کوئی ٹورنامنٹ تو نہیں جیتا لیکن اگر تفریح کا کوئی پیمانہ ہو تو قلندرز نے اپنے مداحوں کو محظوظ کرنے میں کبھی کوئی کسر بھی نہیں چھوڑی۔
آج بھی ٹورنامنٹ کی اب تک سب سے مضبوط ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف میچ کے دوران بھی انھوں نے ایسے ہی کھیل کا مظاہرہ کیا اور پہلے بیٹنگ میں بہترین آغاز کو ضائع ہونے دیا اور پھر اسلام آباد سے جیت کو آخری لمحات میں چھین لیا۔
یہی وجہ تھی کہ ٹوئٹر پر لاہور قلندرز کی مداح معصومہ شیرازی یہ کہنے پر مجبور ہوئیں کہ ’لاہور قلندرز نے دینی ہائپر ٹینشن ہی ہے، کبھی آؤٹ ہو کر، کبھی آؤٹ کر کے۔‘
لیکن بات ’ہائپر ٹینشن‘ اور ’دل منھ کو آنے‘ تک کیسے پہنچی اس کا احوال کچھ یوں ہے کہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا لیکن پہلے سات اوورز تک ایسا ہی محسوس ہوتا رہا کہ جیسے اسلام آباد کو یہ فیصلہ بھاری پڑنے والا ہے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@SRM_sherazi
لاہور کے دونوں اوپنرز نے اس ٹورنامنٹ میں اپنی بہترین فارم کو جاری رکھا اور 83 رنز کی شراکت جوڑ کر اننگز کا جارحانہ آغاز کیا اور یوں لگتا تھا کہ لاہور ایک بار پھر 200 رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہو سکے گا۔
اس کے بعد اسلام آباد کے کپتان شاداب خان بولنگ میں آئے اور چھا گئے۔ انھوں نے اوپر تلے چار وکٹیں حاصل کر کے لاہور کا سکورنگ ریٹ سست کر دیا اور یوں سارا بوجھ لاہور کے آخری چند بلے بازوں پر آ گیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ایسے میں انگلش بلے باز ہیری بروکس اور ڈیوڈ ویزے کی شراکت نے لاہور کو دفاع کے لیے ایک بہتر ٹوٹل یعنی 174 رنز فراہم کیے۔
ادھر اسلام آباد نے اننگز کا آغاز کیا تو اوپنرز آج تو آغاز میں ہی آؤٹ ہو گئے اور پاور پلے میں دونوں اوپنرز کے نقصان پر 52 رنز ہی بن سکے۔
اس کے بعد کپتان شاداب خان اور بائیں ہاتھ کے کیوی بلے باز کولن منرو کے درمیان 103 رنز کی شراکت بنی تو ایسے لگا کہ اب اسلام آباد یہ میچ نہیں ہار سکتا۔ اس کی وجہ اسلام آباد 10ویں نمبر تک اہل بیٹسمین بھی تھے۔
تاہم جیسے ہی راشد خان کی گیند پر شاداب خان آؤٹ ہوئے تو لاہور قلندرز کے بولرز کو ایک نئی جان مل گئی اور انھوں نے رنز کا بہاؤ مکمل طور پر روک دیا۔
اس کے بعد لاہور کے فاسٹ بولرز نے آخری اوورز میں خوبصورت بولنگ کا منفرد مظاہرہ کیا۔ 17ویں اوور میں حارث رؤف نے صرف اٹھ رنز کے عوض منرو کو پویلین کی راہ دکھائی۔
18ویں اوور میں شاہین آفریدی نے بھی صرف آٹھ رنز ہی دیے۔ 19ویں اوور میں جب 12 گیندوں پر 21 درکار تھے تو حارث رؤف نے چھکا پڑنے کے باوجود اوور میں صرف نو رنز دیے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter@Ahsannagi
آخر میں بات 20 سال کے زمان خان پر آ گئی جنھیں چھ گیندوں پر 12 رنز کا دفاع کرنا تھا اور ان کے سامنے آصف علی اور اعظم خان جیسے جارحانہ بلے باز کھڑے تھے لیکن ان کے مطابق انھوں نے یہ اوور ’انجوائے کرتے ہوئے‘ گزار دیا۔
اس پورے اوور میں میں انھوں نے تین رنز دیے جس میں ایک وائڈ بال بھی شامل تھی اور آصف علی کو آؤٹ کر کے قلندرز کی فتح یقینی بنا دی۔

،تصویر کا ذریعہPCB
سوشل میڈیا پر صارفین جہاں لاہور قلندر کے اس سنسنی خیز مقابلے کو جیتنے کے بعد تعریفیں کر رہے ہیں وہیں 20 سال کے زمان خان کی بھی تعریف ہو رہی ہے اور نوجوان کپتان شاہین شاہ آفریدی کے دباؤ میں پرسکون رویے کو بھی سراہا جا رہا ہے۔
شاہین آفریدی آخری اوور میں زمان خان کی رہنمائی کرتے دکھائی دیے اور خاصے پرسکون اور مسکراتے نظر آئے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’شاہین کو اس پرسکون رویے پر آسکر دے دینا چاہیے۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 5
احسن افتخار ناگی نے لکھا کہ ’ایک تیز باؤنسر اور اس کے بعد ایک سلوئر بال، وہ بھی آصف علی کو۔ آصف علی جیسے بلے باز کے سامنے ایسی گیندیں کروانے کے لیے خاصی جرات اور بہادری چاہیے ہوتی ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Rehan_ulhaq
اسلام آباد یونائیٹڈ کے مینیجر ریحان الحق نے لکھا کہ ’یہ ایک مشکل شکست تھی لیکن کبھی کبھار آپ کو حریف کو سراہنا پڑتا ہے۔ لاہور قلندرز نے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا۔ ان کے پاس بہترین کوالٹی کا بولنگ اٹیک ہے۔ اسلام آباد اپنی غلطیوں پر کام کرے گا اور جلد کم بیک کر گا۔‘













