شاہد آفریدی کی ریکارڈ سنچری: ’ریکارڈز خوش قسمت کرکٹرز کے حصے میں آتے ہیں‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
نوٹ: یہ مضمون بی بی سی اردو پر پہلی بار اکتوبر 2020 میں شائع ہوا تھا۔
ستمبر 1996 میں پاکستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز کے دورے پر تھی۔ یہ دورہ ٹیم کی کارکردگی سے زیادہ اس کے ایک کھلاڑی ذیشان پرویز کے مبینہ طور پر ریپ کے الزام میں گرفتار ہونے اور معاملہ عدالت تک جانے کی وجہ سے شہ سرخیوں میں آچکا تھا۔ اسی دوران ٹیم کے منیجر کو یہ پیغام ملتا ہے کہ لیگ سپنر شاہد آفریدی کو فوراً دورے سے واپس بھیج دیا جائے۔
دراصل پاکستانی کرکٹ ٹیم نیروبی میں جنوبی افریقہ، سری لنکا اور کینیا کے ساتھ چار قومی ون ڈے ٹورنامنٹ کھیل رہی تھی اور تجربہ کار لیگ سپنر مشتاق احمد کی کمی کو پورا کرنے کے لیے ٹیم کو لیگ سپنر کی ضرورت تھی اس لیے قرعہ فال شاہد آفریدی کے نام نکلا۔
شاہد آفریدی ویسٹ انڈیز سے کراچی پہنچے اور پھر فوراً نیروبی روانہ ہو گئے۔ کسے خبر تھی کہ یہ طویل تھکا دینے والا سفر ایک نئی تاریخ رقم کرنے کے لیے ہو رہا تھا۔
شاہد آفریدی نیروبی پہنچنے پر جس ٹیم میں شامل ہوئے اس میں اکثریت سٹار کرکٹرز کی تھی لیکن ان تمام سینئر کھلاڑیوں نے پہلی بار ٹیم میں شامل ہونے والے نوجوان شاہد آفریدی کو خوش آمدید کہا اور انھیں اس ماحول میں ایڈجسٹ ہونے میں دیر نہیں لگی۔
شاہد آفریدی کہتے ہیں ʹپاکستانی ٹیم کی نیٹ پریکٹس میں جب مجھ سے بیٹنگ کے لیے کہا گیا تو مجھے حیرانی ہوئی کہ میں لیگ سپنر کے طور پر یہاں آیا ہوں تو پھر یہ بیٹنگ‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہد آفریدی نے نیٹ میں وسیم اکرم، وقاریونس، ثقلین مشتاق اور اظہر محمود کے خلاف اعتماد سے بیٹنگ کی بلکہ ان کی گیندوں پر کھل کر سٹروکس کھیلے۔ اگلے دن نیٹ پریکٹس میں انھوں نے محسوس کیا کہ وسیم اکرم اور وقار یونس کی گیندوں کی رفتار تیز ہوگئی ہے لیکن ان کی گیندیں جتنی تیزی سے ان کی طرف آتیں اتنی ہی قوت والے شاٹس انھیں دور کا راستہ دکھاتے۔
شاہد آفریدی کہتے ہیں ʹمیں اس نیٹ بیٹنگ سے لطف اندوز ہورہا تھا کہ میرے کانوں میں سینئر کھلاڑیوں کی آوازیں آئیں کہ آفریدی کو اوپنر یا ون ڈاؤن کے طور پر آزمایا جا سکتا ہے۔ ظاہری طور پر میں نے حیرانی دکھائی لیکن میں دل ہی دل میں میں بہت خوش تھا کیونکہ مجھے یہ محسوس ہورہا تھا کہ میں بیٹنگ میں کچھ کرسکتا ہوں۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
آدھی رات کو شاداب کبیر کو جگا دیا
دو اکتوبر کو پاکستان کا مقابلہ کینیا سے تھا جس میں شاہد آفریدی نے اپنے بین الاقوامی کریئر کا آغاز کرنا تھا۔ انھیں اس بات کی اس قدر خوشی تھی کہ وہ رات صحیح طور پر نہ سو سکے۔
وہ خود بتاتے ہیں ʹمیری آنکھ کھلی تو مجھے لگا کہ صبح ہو گئی ہے اور میں نے نہ صرف تیار ہونا شروع کر دیا بلکہ اپنے ساتھی شاداب کبیر کو بھی جگا دیا لیکن مجھے اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب شاداب نے کہا لالہ اس وقت ڈھائی بج رہے ہیں سو جاؤ۔ صبح اٹھنے پر میں نے شاداب کبیر سے کہا کہ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں سنتھ جے سوریا اور مرلی دھرن کو خوب چھکے مار رہا ہوں تو شاداب کبیر نے میرا مذاق اڑاتے ہوئے کہا کہ لالہ تم نے خواب کیسے دیکھ لیا تم تو رات کو سوئے ہی نہیں۔‘
شاہد آفریدی نے کینیا کے خلاف اپنا پہلا میچ کھیلا لیکن اس میچ میں ان کی بیٹنگ نہیں آئی جبکہ بولنگ میں انھوں نے دس اوورز میں بتیس رنز دیے لیکن انھیں کوئی وکٹ نہ مل سکی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ریکارڈ ساز کارکردگی کا دن
4 اکتوبر کو پاکستانی ٹیم ورلڈ چیمپئن سری لنکا کے مقابل تھی۔ نیروبی جم خانہ گراؤنڈ میں تماشائیوں کی اچھی خاصی تعداد موجود تھی لیکن انھیں کیا خبر تھی کہ آج وہ ایک ریکارڈ ساز اننگز دیکھنے والے خوش قسمت شائقین بننے والے ہیں۔
رانا تنگا نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا۔ کپتان سعید انور اور سلیم الہی سکور کو 60 تک لے گئے۔ اس موقع پر سلیم الہی 23 رنز بنا کر دھرما سینا کی گیند پر آؤٹ ہوئے۔ کریز پر آنے والے نئے بیٹسمین شاہد آفریدی تھے۔
یہ بھی پڑھیے
آفریدی نے پہلی گیند روکی لیکن اگلی ہی گیند پر انھوں نے چھکا مار دیا۔ سری لنکن بولرز جن میں چمندا واس، سجیوا ڈی سلوا، سنتھ جے سوریا، دھرما سینا اور متایا مرلی دھرن شامل تھے یہ سوچتے ہی رہ گئے کہ آفریدی کو ایسی کونسی گیند کریں جسے وہ باؤنڈری کا راستہ نہ دکھا سکیں۔
یہ وہ بولرز تھے جنھوں نے سری لنکا کو اسی سال ون ڈے کا عالمی چیمپئن بنوایا تھا لیکن ایک نیا نوجوان بیٹسمین انھیں اپنی مرضی سے کھلا رہا تھا۔
سنتھ جے سوریا کے ایک اوور میں شاہد آفریدی نے تین چھکے اور دو چوکے مارے۔ دو مرتبہ گیند کار پارکنگ میں جا گری۔
مرلی دھرن جیسے بولر نے بھی بے بسی سے گیند کو گراؤنڈ سے باہر جاتے ہوئے دیکھا۔ آفریدی انھیں بھی رعایت دینے کے لیے تیار نہ تھے۔
شاہد آفریدی نے اپنی نصف سنچری 18 گیندوں پر مکمل کی۔ یوں وہ صرف ایک گیند کی کمی سے سنتھ جے سوریا کا 17 گیندوں پر نصف سنچری کا عالمی ریکارڈ برابر نہ کر سکے لیکن ابھی سنچری اور وہ بھی ورلڈ ریکارڈ سنچری مکمل ہونا باقی تھی۔
شاہد آفریدی جس بے رحمی سے ہر گیند کو کھیل رہے تھے ان کے ساتھ کریز پر موجود سعید انور ہر چھکے اور چوکے پر ان کے پاس آ کر حوصلہ افزائی کررہے تھے۔ اس اننگز میں سعید انور نے بھی تین ہندسوں کی خوبصورت اننگز کھیلی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شاہد آفریدی نے مرلی دھرن کی گیند پر لیگ سائیڈ پر چوکا لگا کر اپنی سنچری 37 گیندوں پر مکمل کی جس میں 6 چوکے اور بھرپور قوت والے 11 چھکے شامل تھے۔ وہ چالیس گیندوں پر 102 رن بنا کر آؤٹ ہوئے۔
شاہد آفریدی سے قبل ون ڈے انٹرنیشنل میں تیز ترین سنچری کا ریکارڈ سنتھ جے سوریا کا تھا جنھوں نے نیروبی کے اس ٹورنامنٹ سے چھ ماہ قبل سنگاپور میں پاکستان کے خلاف 48 گیندوں پر سنچری مکمل کی تھی۔
سچن تندولکر کے بیٹ سے بیٹنگ
شاہد آفریدی نے جس بیٹ سے یہ مشہور اننگز کھیلی وہ دراصل انڈین بیٹسمین سچن تندولکر کا تھا جو انھوں نے پاکستان کے فاسٹ بولر وقاریونس کو تحفے میں دیا تھا۔
وقاریونس اس بیٹ کی کہانی یوں بیان کرتے ہیں۔
ʹمجھے یہ بیٹ سچن تندولکر نے دیا تھا۔ اس زمانے میں کرکٹرز سووینئر کے طور پر بیٹ کا تبادلہ کرتے تھے۔ مجھے یہ بیٹ پسند آیا تھا لہذا سچن نے یہ مجھے دیا تھا۔ شاہد آفریدی نے نیٹ پریکٹس کے دوران جس جارحانہ انداز سے بیٹنگ کی تھی تو میں نے میچ میں ان سے کہا کہ آپ اس بیٹ سے کھیل کر دیکھو۔ آفریدی نے اس اننگز میں عالمی ریکارڈ قائم کردیا اور یہ بیٹ پھر انھی کا ہو گیا۔‘
وقاریونس کہتے ہیں ʹآفریدی کی وہ اننگز آج بھی ذہن پر نقش ہے کیونکہ اس دور میں اس طرح کی جارحانہ بیٹنگ کا رواج نہیں تھا۔ صرف سنتھ جے سوریا اس زمانے میں جارحانہ بیٹنگ کے لیے شہرت رکھتے تھے ایسے میں ایک نوجوان بیٹسمین نے انٹرنیشنل کرکٹ میں آ کر جس طرح کی دھواں دھار بیٹنگ کی وہ بہت بڑا کارنامہ تھا۔‘
وقار یونس اس لمحے کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں جب شاہد آفریدی چھکے پر چھکے مار رہے تھے تو ڈریسنگ روم میں سب اس اننگز کو انجوائے کررہے تھے اور جیسے کسی پارٹی کا ماحول بن گیا تھا لیکن سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہم تمام کھلاڑیوں کو یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ ہمیں ایک ایسا کھلاڑی مل گیا ہے جو گیم چینجر ہے۔
بیٹنگ کرنے والا لیگ سپنر آ گیا
لیگ سپنر مشتاق احمد کو اچھی طرح یاد ہے کہ شاہد آفریدی ان کی جگہ ٹیم میں آئے تھے اور ایک یادگار اننگز کھیل کر چھا گئے۔
ʹسہارا کپ ٹورنامنٹ کے دوران میرے گھٹنے میں تکلیف ہو گئی تھی اور ٹورنامنٹ کے بعد میں آپریشن کرا کر پاکستان آیا تھا۔ ایک روز میرے ایک دوست کا فون آیا اور اس نے مجھ سے کہا کہ آپ کی جگہ ٹیم میں شامل ہونے والے شاہد آفریدی نے ون ڈے کی تیز ترین سنچری بنا ڈالی ہے۔ مجھے بہت خوشی ہوئی کہ ایک پاکستانی نوجوان نے یہ عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔‘
مشتاق کہتے ہیں ʹآفریدی کی اس اننگز کے بعد میں ذہنی طور پر تیار ہو گیا تھا کہ اب اگر کسی ایکسٹرا بیٹسمین کو کھلانے کی بات ہو گی جو لیگ سپن بھی کرتا ہو تو یقیناً پہلی ترجیح شاہد آفریدی ہی ہوں گے۔ ہم دونوں ایک ساتھ بھی کھیلے بلکہ اس وقت ثقلین مشتاق بھی ٹیم میں ہوتے تھے اور ہماری سپن بولنگ نے پاکستانی ٹیم کو کئی اہم کامیابیاں دلوائیں۔‘
آفریدی کا ریکارڈ کیسے ٹوٹا؟
شاہد آفریدی کا 37 گیندوں پر سنچری کا عالمی ریکارڈ 17سال تک قائم رہا۔ یکم جنوری 2014 کو نیوزی لینڈ کے کورے اینڈرسن نے ویسٹ انڈیز کے خلاف کوئنز ٹاؤن میں آفریدی سے ایک گیند کم کھیل کر یعنی 36 گیندوں پر سنچری مکمل کی اور شاہد آفریدی کو ان کے ورلڈ ریکارڈ سے محروم کردیا لیکن اٹھارہ جنوری 2015 کو جنوبی افریقہ کے اے بی ڈی ویلیئرز نے ویسٹ انڈیز کے خلاف جوہانسبرگ میں غیرمعمولی کارکردگی دکھاتے ہوئے صرف 31 گیندوں پر سنچری بناڈالی اور ون ڈے انٹرنیشنل میں تیز ترین سنچری کے مالک بن گئے۔
اے بی ڈی ویلیئرز نےاس اننگز میں صرف 44 گیندوں پر149 رنز اسکور کیے تھےجن میں 16 چھکے اور 9 چوکے شامل تھے۔
کون کون سے چھکے یاد ہیں؟
شاہد آفریدی کہتے ہیں ʹریکارڈ کبھی بھی منصوبہ بندی اور سوچ کر نہیں بنائے جاتے یہ خوش قسمت کرکٹرز کے حصے میں آتے ہیں ۔ یہ کسی کارنامے سے کم نہیں ہوتے۔‘
اپنی کینیا والی اننگز کے گیارہ چھکوں کے علاوہ بھی کوئی ایسا چھکا ہے جو آپ کو یاد ہو؟
شاہد آفریدی کہتے ہیں: سنہ ʹ2005 میں آسٹریلیا کے خلاف ہوبارٹ میں کھیلے گئے ون ڈے میں گلین میک گرا کو میں نے دو چھکے اور تین چوکے مارے تھے اسی طرح بریٹ لی کو بھی دو چھکے اور ایک چوکا مارا تھا۔ 26 گیندوں پر 56 رنز کی وہ اننگز یاد رہتی ہے۔‘
’اسی طرح سنہ 2010 کے ایشیا کپ میں 109 رنز کی اننگز میں، میں نے مرلی دھرن کو پانچ چھکے مارے تھے۔ جب آپ کسی بھی ورلڈ کلاس بولر کے خلاف اچھا کھیلتے ہیں تو خوشی ہوتی ہے خاص کر مرلی جیسے بولر کے خلاف جنھیں چھکا مارنا آسان نہیں تھا۔‘









