پی ایس ایل 7 میں کوئٹہ بمقابلہ اسلام آباد: اعظم خان کی سابقہ ٹیم کے خلاف جارحانہ بیٹنگ، ’کوئٹہ کی ٹیم صرف سب کا وقت ضائع کر رہی ہے‘

،تصویر کا ذریعہPCB
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
جس ٹیم کی بیٹنگ لائن کے تین ابتدائی بیٹسمین پال سٹرلنگ، الیکس ہیلز اور کالن منرو ہوں اور پھر ان کے بعد شاداب خان اور اعظم خان بیٹنگ کے لیے آئیں تو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ یہ بیٹنگ لائن حریف بولنگ کا کیا حشر کر سکتی ہے۔
اسلام آباد یونائیٹڈ نے جمعرات کی شب یہی کچھ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ساتھ کیا جس کا نتیجہ 43 رنز کی جیت کی صورت میں سامنے آیا۔
اسلام آباد یونائیٹڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے چار وکٹوں کے نقصان پر 229 رنز بنائے جو اس پی ایس ایل کا سب سے بڑا سکور ہے۔
جواب میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز 186 رنز پر حوصلہ اور میچ ہار بیٹھی۔ یہ چار میچوں میں کوئٹہ کی تیسری شکست ہے جبکہ اسلام آباد کی تین میچوں میں یہ دوسری کامیابی ہے۔
یہ اس پی ایس ایل میں لگاتار چوتھا میچ ہے جس میں جیت پہلے بیٹنگ کرنے والی ٹیم کی ہوئی ہے۔
اننگز میں 15 چھکے اور 17 چوکے
سرفراز احمد نے ٹاس جیت کر اگرچہ اسلام آباد یونائیٹڈ کو پہلے بیٹنگ دی لیکن ان کے بولرز پال سٹرلنگ اور الیکس ہیلز کے طوفان میں بری طرح گھر گئے۔ دونوں نے پہلی وکٹ کی شراکت میں 55 رنز کا اضافہ کیا۔ پاور پلے میں 81 رنز بنے جو اس ٹورنامنٹ میں پاور پلے میں بننے والے سب سے زیادہ رنز ہیں۔
الیکس ہیلز پانچ چوکوں کی مدد سے 22 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے لیکن سٹرلنگ کی جارحیت جاری رہی۔ انھوں نے صرف 28 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 58 رنز کی عمدہ اننگز کھیلی جس میں سات چوکے اور تین چھکے شامل تھے۔
اسلام آباد یونائیٹڈ کے آؤٹ ہونے والے تیسرے بیٹسمین کپتان شاداب خان تھے جو ایک چھکے کی مدد سے 9 رنز بنا کر گئے لیکن اس کے بعد نیشنل سٹیڈیم میں چھکوں کی ایسی لہر چلی جس نے پہلے سے مایوس سرفراز احمد کی مایوسی میں مزید اضافہ کر دیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہPCB
کالن منرو اور اعظم خان نے چوتھی وکٹ کی شراکت میں صرف 52 گیندوں پر 93 رنز کا اضافہ کر ڈالا۔ کالن منرو نے محض 39 گیندوں کا سامنا کیا، وہ پانچ چھکوں اور تین چوکوں کی مدد سے 72 رنز بنا کر ناٹ آؤٹ رہے۔
اعظم خان جو اپنے والد معین خان کی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز چھوڑ کر اسلام آباد یونائیٹڈ میں شامل ہوئے ہیں جب چھکوں کی بارش کر رہے تھے تو داد دینے والوں میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے ڈگ آؤٹ میں بیٹھے معین خان بھی شامل تھے۔
اعظم خان نے 35 گیندوں پر 65 رنز کی زبردست اننگز کھیلی جس میں دو چوکے اور چھ چھکے شامل تھے۔
شاہد آفریدی جو پی ایس ایل میں اپنی چوتھی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں شامل ہونے کے بعد پہلا میچ کھیل رہے تھے، اعظم خان کے رڈار میں آ گئے جنھوں نے اپنی اننگز کے 65 میں سے 38 رنز آفریدی کی صرف 10 گیندوں پر بنائے جن میں ایک چوکا اور پانچ چھکے شامل تھے۔

،تصویر کا ذریعہPCB
سرفراز احمد نے حیران کن طور پر آخری اوور کے لیے شاہد آفریدی کا انتخاب کیا جس میں اعظم خان نے20 رنز بنا ڈالے۔
شاہد آفریدی کے لیے یہ میچ کسی طور بھی یاد رکھنے والا نہیں تھا جس میں انھوں نے اپنے چار اوورز میں اعظم خان کی وکٹ کے عوض 67 رنز دے ڈالے جو پی ایس ایل کی سب سے مہنگی بولنگ ہے۔ اس سے قبل ظفر گوہر نے گذشتہ سال اپنے چار اوورز میں 65 رنز دیے تھے۔
پھر بیٹنگ میں بھی بوم بوم آٹھ گیندوں پر صرف چار رنز بنا سکے اور ایک بار بھی ایسا نہیں لگا کہ نیشنل سٹیڈیم میں شائقین کو پرانے انداز والا آفریدی نظر آئے گا۔
یہ بھی پڑھیے
شاداب ہیڈلائن بوائے
کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے اوپنرز نے اگرچہ پنتیس گیندوں پر 54 رنز کا اضافہ کیا لیکن چار گیندوں پر گرنے والی دو وکٹوں نے کوئٹہ کو بڑا دھچکا پہنچایا۔ پہلے حسن علی نے عبدالواحد بنگلزئی کو 14 رنز پر اعظم خان کے ہاتھوں کیچ کروایا اور پھر وقاص مقصود نے جیمز ونس کی اہم وکٹ صفر پر حاصل کر لی۔
کوئٹہ کی اس مایوسی میں اس وقت اضافہ ہوا جب شاداب خان نے اپنے پہلے ہی اوور میں احسان علی کو بھی پویلین کی راہ دکھا دی۔ احسان علی کی 50 رنز کی اننگز آٹھ چوکوں اور ایک چھکے پر مشتمل تھی۔
71 پر تین وکٹیں گرنے کے بعد صورتحال کپتان سرفراز احمد کے لیے آسان نہ تھی جنھوں نے اپنے سامنے بین ڈکٹ اور افتخار احمد کی وکٹیں گرتے دیکھیں اور پھر خود بھی 11 رنز پر اپنی وکٹ گنوا بیٹھے، ان تینوں کو شاداب خان نے آؤٹ کیا۔

،تصویر کا ذریعہPCB
شاداب خان نے اننگز میں اپنی پانچویں وکٹ شاہد آفریدی کو چار رنز پر آؤٹ کر کے حاصل کی۔ 28 رنز پر پانچ وکٹیں ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں ان کی بہترین بولنگ بھی ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے پی ایس ایل میں اپنی وکٹوں کی نصف سنچری بھی مکمل کرلی۔
محمد نواز اور جیمز فالکنر کی آٹھویں وکٹ کے لیے 76 رنز کی شراکت جیت کے لیے کافی نہ تھی۔ نواز دو چوکے اور پانچ چھکے لگاتے ہوئے47 رنز بنا کر آؤٹ ہوئے۔
محمد وسیم جونیئر نے لگاتار گیندوں پر سہیل تنویر اور نسیم شاہ کو آؤٹ کر کے جیت کو مکمل کر دیا۔
’کوئٹہ بس صرف سب کا وقت ضائع کر رہی ہی‘، سوشل میڈیا پر میچ کے تبصرے
جمعرات کو پاکستانی سوشل میڈیا پر نظر آنے والے ٹرینڈز اور تبصرہ کو دیکھا جائے تو واضح اکثریت صرف پاکستان ڈرامے ’حقیقت‘ کے کلپ کے بارے میں بات کرتی نظر آئی اور ہر جگہ شزا اور فضہ کا چرچا تھا۔
اب تک تین میچوں میں سے دو میں جیت کے بعد اسلام آباد کی ٹیم ملتان سلطانز کے ہمراہ ٹورنامنٹ کی فارم ٹیم ابھر کر سامنے آئی ہے۔ یونائیٹڈ کے سابق چیف آپریٹنگ آفیسر شعیب نوید نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ اسلام آباد کی ٹیم اور دیگر ٹیموں میں (چاہے وہ فارم میں ہی کیوں نہ ہوں) میں فرق صاف ظاہر ہے۔
’ڈرافٹ میں صیحح چناؤ، درست پوزیشن پر صحیح کھلاڑی کو چننا اور ایسا سکواڈ بنانا جو تمام کمزوریوں کو پورا کرتا ہے، لیول ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@MazherArshad
کرکٹ کے اعداد و شمار کے ماہر اور صحافی مظہر ارشد نے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا موقع جانے نہیں دیا اور کوئٹہ کے دو جارحانہ بلے باز، اعظم خان اور پال سٹرلنگ کی تصاویر اسی کیپشن کے ساتھ ٹویٹ کر دیں۔
گذشتہ میچ میں اسلام آباد کے کپتان شاداب خان نے اپنے کرئیر کی بہترین بیٹنگ کی تھی اور 91 رنز بنائے تھے۔ اس میچ میں انھوں نے اپنے آل راؤنڈ کھیل کا مظاہرہ کیا اور کرئیر کی بہترین بولنگ کرتے ہوئے پانچ وکٹیں لیں۔
صارف اسد حسنین نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ شاداب اور آفریدی میں مقابلہ بہت استعاری حیثیت رکھتا ہے۔
’ٹی ٹوئنٹی کا ایک سابق عظیم کھلاڑی نئی نسل کے ایک ابھرتے ہوئے ستارے کے سامنے مشکلات سے دوچار تھا، شاداب کے فن کو سراہا، اور آخر میں اپنے پرانے وقتوں کو دہرانے کی ناکام کوشش۔‘
ادھر کئی صارفین نے کوئٹہ کے کپتان سرفراز احمد کی بے چارگی پر تبصرہ کیا کہ جہاں وہ میچ کے دوران غصہ کرنے کے لیے مشہور ہیں، وہیں آفریدی کی بولنگ کر رنز کی برسات کے باوجود وہ خاموش رہنے پر مجبور تھے۔ ’
ایک صارف لکھتے ہیں سرفراز کے چہرے پر آنے والے تاثرات انمول ہیں، وہ آفریدی کو کچھ بھی نہیں سکتے۔ وہ اپنے سکون کو برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔
لیکن کوئٹہ کی پرفارمنس سے تنگ آئے ہوئے صارف اینٹی فتویٰ نے تو بس کہہ دیا کہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز صرف سب کا وقت ضائع کر رہی ہے۔
صحافی رضوان علی نے اسلام آباد کی دھواں دھار بیٹنگ اور ٹیم کی حکمت عملی دیکھتے ہوئے ٹویٹ کی کہ ان کے پاس کم از کم سات آصف علی ہیں اور وہ دیگر پانچ فرنچائزوں کے لیے خطرے کا نشان ہے۔
اسلام آباد کی ٹیم کی اچھی کارکردگی کے باوجود اگر ٹیم میں کوئی کمزور لنک نظر آیا تو وہ حسن علی کی بولنگ تھی جنھوں نے لگاتار دوسرے میچ میں 50 سے زیادہ رنز کھائے۔ اس پر ایک صارف نے تبصرہ کرتے ہوئے لکھا: ’حسن علی کی اس سال پی ایس ایل میں لگاتار دوسری نصف سنچری۔ دیکھنے میں کیا مزہ ہے!‘
کوئٹہ کے ایک شائق ہشام نے ٹیم کے مالک ندیم عمر اور ٹیم مینیچر نبیل ہاشمی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا کہ کوئٹہ کوئی پاکستان کی کلب کرکٹ ٹیم نہیں ہے اور آپ کو مشکل فیصلے لینے ہوں گے اور سیلیکشن بہتر بنانی ہوگی اور کپتانی پر بھی بہت سوالات ہیں۔
’افتخار اور نواز اتنا نیچے کیوں ہیں؟ نواز کو شاداب کی طرح کیوں استعمال نہیں کر رہے؟ علی عمران کو کھلانا ضروری ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہTwitter/@Arsalansidique1
لیکن صارف ارسلان صدیق نے سرفراز کی حمایت میں ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا کہ وہ لوگ کو مسلسل سرفراز احمد کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں وہ یاد رکھیں کہ گذشتہ دو سیزنز میں برے کھیل کے باوجود سرفراز پی ایس ایل کے سب سے زیادہ کامیاب کپتان ہیں۔
لیکن 40 اوورز میں چار سو سے زیادہ رنز والے میچ کے اختتام پر ایک صارف نے تبصرہ کیا کہ ’آج پی ایس ایل کا میچ کم اور ہانگ کانگ سپر سکسز کا میچ زیادہ لگ رہا تھا۔‘
محمد عامر پی ایس ایل سے باہر
اس پی ایس ایل میں اب تک اپنے تینوں میچوں میں شکست سے دوچار ہونے والی ٹیم کراچی کنگز کے لیے یہ خبر کسی طور اچھی نہیں ہے کہ فاسٹ بولر محمد عامر فٹ نہ ہونے کے سبب پی ایس ایل سے باہر ہو گئے ہیں۔ محمد عامر ابھی تک کسی میچ میں نہیں کھیلے ہیں۔
فاسٹ بولر محمد الیاس بھی کندھا اتر جانے کے سبب ایونٹ سے باہر ہو گئے ہیں۔ وہ پچھلے تینوں میچ کھیلے تھے۔ جو کلارک بھی ان فٹ ہیں اور آئندہ میچوں میں ان کی شرکت یقینی نہیں۔













