انڈر 19 افغان کرکٹ ٹیم: جس ٹیم کی ورلڈ کپ میں شرکت مشکوک تھی وہ آج سیمی فائنل کھیلے گی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
افغانستان کی انڈر 19 کرکٹ ٹیم ویسٹ انڈیز میں ہونے والے انڈر 19 ورلڈ کپ کے سیمی فائنل میں آج (منگل) انگلینڈ کے مدِمقابل ہو گی۔
سیمی فائنل میں پہنچنے والی اس افغان ٹیم کی عالمی ایونٹ میں شرکت غیریقینی دکھائی دے رہی تھی اور اس حوالے سے خدشات موجود تھے کہ نوجوان افغان کرکٹرز ویسٹ انڈیز پہنچ بھی پائیں گے یا نہیں۔
اس غیر یقینی صورتحال کی وجہ ویزے کے مسائل تھے جو افغان ٹیم کو درپیش تھے۔ ویزے کے حصول میں تاخیر کی وجہ سے افغانستان کی ٹیم کے انگلینڈ اور متحدہ عرب امارات کے خلاف وارم اپ میچ منسوخ کرنے پڑے تھے اور پھر ٹورنامنٹ میں قرنطینہ کے قواعد و ضوابط کے سبب انڈر 19 ورلڈ کپ میں گروپ سی کے میچوں کا شیڈول بھی تبدیل کرنا پڑ گیا تھا۔
ان نوجوان افغان کرکٹرز کی اس وقت خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا جب ویزے ملنے پر وہ ویسٹ انڈیز پہنچے تھے اور بالآخر میدان میں اترے۔
اعصاب پر قابو پا کر جیت
افغانستان کی ٹیم انڈر 19 ورلڈ کپ میں پاکستان، زمبابوے اور پاپوا نیوگنی کے ساتھ گروپ سی میں تھی۔ انھوں نے زمبابوے اور پاپوا نیوگنی کو واضح فرق سے شکست دی تاہم پاکستان کے خلاف اسے 24 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا، یوں ان کا کوارٹر فائنل سری لنکا سے ہونا طے پایا۔
لیکن یہ کوارٹر فائنل درحقیقت اعصاب کی جنگ تھی جس میں افغانستان نے صرف چار رنز سے کامیابی حاصل کی۔
یہ جیت اس لیے یادگار اور اہمیت کی حامل ہے کہ انھوں نے صرف 134 رنز بنانے کے باوجود اس قلیل سکور کا کامیابی سے دفاع کیا اور اپنی شاندار فیلڈنگ سے چار رن آؤٹ کر کے بازی اپنے حق میں پلٹ دی۔
اس جیت میں ان کے بولر نوید زدران نے بھی بڑا اہم کردار ادا کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو Google YouTube کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے Google YouTube ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
YouTube پوسٹ کا اختتام
افغانستان کی ٹیم ساتویں مرتبہ انڈر 19 ورلڈ کپ میں حصہ لے رہی ہے اور وہ دوسری مرتبہ سیمی فائنل میں پہنچی ہے۔
اس سے قبل انھوں نے 2018 میں نیوزی لینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ کا سیمی فائنل کھیلا تھا جہاں سیمی فائنل میں انھیں آسٹریلیا نے چھ وکٹوں سے شکست دی تھی۔ اس ٹورنامنٹ کے کوارٹر فائنل میں انھوں نے میزبان نیوزی لینڈ کو صرف 107 رنز پر آؤٹ کر کے میچ جیتا تھا۔
انڈر 19 سے انٹرنیشنل کرکٹ کا سفر
افغانستان نے جس متاثر کُن انداز سے بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی اہمیت تسلیم کرائی ہے اس میں ان کرکٹرز کا کردار اہم رہا ہے جو انڈر 19 کرکٹ سے اوپر آئے ہیں۔
عصر حاضر کے بہترین لیگ سپنر راشد خان بھی اپنے ملک کی طرف سے سنہ 2016 میں انڈر 19 کرکٹ کھیل چکے ہیں۔
جادوگر سپنر مجیب الرحمن نے بھی اپنی پہلی جھلک صرف سولہ سال میں دکھائی تھی اور ون ڈے انٹرنیشنل میچ میں پانچ وکٹیں لینے والے دنیا کے کم عمر ترین بولر بنے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان نے سنہ 2018 کے انڈر 19 ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کے خلاف جو تاریخی جیت حاصل کی تھی اس میں 17 سالہ مجیب الرحمن کی چار وکٹوں کی شاندار کارکردگی فیصلہ کن ثابت ہوئی تھی اور اس کے دو روز بعد ہی انھیں آئی پی ایل میں کنگز الیون پنجاب نے چار کروڑ انڈین روپے کے عوض حاصل کر لیا تھا۔
حشمت اللہ شاہدی ٹیسٹ کرکٹ میں ڈبل سنچری سکور کرنے والے واحد افغان بیٹسمین ہیں اور وہ بھی انڈر 19 کرکٹ سے ابھر کر سامنے آئے ہیں۔
کریم جنت کو زیادہ تر لوگ اس بولر کے طور پر جانتے ہوں گے جن کے ایک ہی اوور میں پاکستان کے آصف علی نے چار چھکے لگا کر ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے میچ میں پاکستانی ٹیم کو جیت سے ہمکنار کیا تھا۔
تاہم بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہو گا کہ کریم جنت انڈر 19 ون ڈے میں افغانستان کی طرف سے 156 رنز کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کھیلنے والے بیٹسمین ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
افغانستان کی نئی پود میں رحمن اللہ گُرباز سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں اور وہ بھی انڈر 19 کی پراڈکٹ ہیں۔ رحمن اللہ گُرباز کو اپنے اولین ون ڈے انٹرنیشنل میں سنچری بنانے والے واحد افغان بیٹسمین ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
ان کے علاوہ کئی دوسرے کرکٹرز بھی جنھوں نے انٹرنیشنل کرکٹ میں افغانستان کی نمائندگی کی ہے وہ انڈر 19 سے نکل کر اس مقام تک پہنچے ہیں۔ ان میں قیس احمد، نجیب اللہ زدران، جاوید احمدی اور نوین الحق کے نام نمایاں ہیں۔
یہاں پر قارئین کو مزید یہ بتاتے چلیں کہ پانچ برس قبل 2017 کے انڈر 19 ایشیا کپ میں افغانستان کی نوجوان ٹیم نے فائنل تک رسائی حاصل کی تو ان کا سامنا پاکستان سے تھا جسے انھوں نے 185 رنز سے بھاری شکست سے ہمکنار کیا۔












