وراٹ کوہلی کا انڈیا کی ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی سے علیحدگی کا اعلان: انوشکا کا اپنے شوہر کے لیے پیار بھرا پیغام اور سوشل میڈیا پر انڈین کرکٹ بورڈ تنقید کی زد میں

    • مصنف, مرزا اے بی بیگ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

انڈین ٹیسٹ کرکٹ کے کامیاب ترین کپتان وراٹ کوہلی نے سنیچر کے روز ٹیم انڈیا کی کپتانی سے علیحدگی کا اعلان کیا تو سوشل میڈیا پر ان کی بے وقت اور بے تقریب رخصتی پر ہونے والے بے لاگ تبصروں نے یہ تاثر چھوڑا کہ انڈین کرکٹ میں سب کچھ ٹھیک نہیں۔

یہ وہی وراٹ کوہلی ہیں جنھیں سنہ 2019 میں آسٹریلیا کو آسٹریلیا ہی میں سیریز میں شکست دینے پر پاکستان کے سابق کپتان اور موجودہ وزیر اعظم عمران نے مبارکباد پیش کی تھی۔

اس کے بعد انڈیا کے سابق کرکٹر اور کمنٹیٹر سنجے منجریکر نے کوہلی کے بارے میں کہا تھا کہ ’نیوزی لینڈ میں کوہلی کی قیادت میں انڈین ٹیم ہمیں عمران خان کی قیادت میں پاکستانی ٹیم کی یاد دلاتی ہے۔ مضبوط اور خود پر یقین رکھنے والی ٹیم۔ عمران کی قیادت میں پاکستان ہارتا ہوا میچ بھی جیتنے کی راہ تلاش کر لیتا تھا۔ یہ اسی وقت ہوتا ہے جب خود اعتمادی مضبوط ہو۔‘

بہرحال جس طرح ہر سفر کا کوئی اختتام ہوتا ہے اسی طرح کوہلی کی کپتانی کا اختتام گذشتہ روز سامنے آیا اور انھوں نے اس بات کا ذکر سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں بھی کیا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے ٹیم کو اپنا 120 فیصد دیا اور کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی۔

انوشکا شرما کا اپنے شوہر کو پیغام

کوہلی کی اہلیہ اور اداکارہ انوشکا شرما نے اپنے انسٹاگرام پر اپنے شوہر کوہلی کے نام پیغام میں لکھا: ’مجھے سنہ 2014 کا وہ دن یاد ہے جب آپ نے مجھے بتایا کہ مہیندر سنگھ دھونی کی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کو کپتان بنایا جا رہا ہے۔‘

مجھے یاد ہے کہ اس دن جب مہیندر سنگھ، آپ اور میں بات چیت کر رہے تھے تو انھوں (دھونی) نے مذاق کرتے ہوئے کہا کہ کیسے آپ کی داڑھی اب جلدی سفید ہونے لگے گی۔ ہم سب اس بارے میں بہت ہنسے تھے لیکن اس دن کے بعد سے میں نے صرف آپ کی داڑھی کو سفید ہوتے نہیں دیکھا۔ میں نے ترقی دیکھی۔ بہت زیادہ ترقی، آپ میں اور آپ کے اردگرد۔ اور ہاں میں انڈین کرکٹ ٹیم کی حیثیت سے آپ کی ترقی اور آپ کی قیادت میں ٹیم کی کامیابیوں پر فخر محسوس کرتی ہوں لیکن میں اس سے بھی زیادہ آپ کے اندر آنے والی بہتری پر فخر محسوس کرتی ہوں۔‘

انوشکا نے مزید لکھا: 'آپ نے ایسے بہت سے چیلنجز کا سامنا کیا جو صرف میدان میں نہیں تھے لیکن یہ زندگی ہے۔ یہ آپ کا ان جگہوں پر امتحان لیتی ہے جہاں آپ کو اس کی توقع نہیں بلکہ زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔ مجھے فخر ہے کہ آپ نے اپنے اچھے ارداوں کی راہ میں کسی چیز کو حائل نہیں ہونے دیا۔‘

’آپ نے آگے بڑھنے کی مثال قائم کی اور میدان میں اپنی تمام تر توانائی اس حد تک صرف کی کہ کچھ شکستوں کے بعد آپ کی آنکھوں میں آنسو تھے اور میں آپ کے ساتھ بیٹھی تھی۔ آپ نے اس وقت بھی یہی سوچا کہ کیا آپ اس سے زیادہ بھی کچھ کر سکتے تھے۔آپ ایسے ہیں اور آپ سب سے یہی توقع کرتے ہیں۔ آپ نے کبھی بھی لالچ نہیں کیا اس عہدے کے لیے بھی نہیں۔ مسلسل کوشش کرتے رہنے کی یہی صفت آپ کو میری اور آپ کے چاہنے والوں کی نظروں میں عمدہ بناتی ہے۔

انوشکا نے یہ بھی لکھا کہ ’ٹیسٹ کپتان کے حیثیت سے ان سات برسوں میں آپ نے جو سیکھا، ہماری بیٹی اس کو دیکھے گی۔ آپ نے بہت اچھا کیا۔‘

گذشتہ سال ستمبر میں ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل وراٹ کوہلی نے اعلان کیا تھا کہ وہ ورلڈ کپ کے بعد اس فارمیٹ کی کپتانی سے دستبردار ہو جائیں گے اور پھر ون ڈے کی کپتانی سے بھی رخصتی کے بعد یہ تو واضح ہو گیا تھا کہ ٹیسٹ میں ان کے دن بھی گنتی کے رہ گئے ہیں۔

ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان کے ہاتھوں شکست کے بعد یہ بات واضح ہو گئی تھی کہ اگر کوہلی جنوبی افریقہ کے دورے سے فاتح لوٹتے ہیں تو ہی ان کی کپتانی بچی رہ سکتی ہے۔

سینیئر سپورٹس صحافی چندرشیکھر لوتھرا نے بی بی سی ہندی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس سیریز کے نتیجے سے پہلے ہی یہ تقریبا طے ہو چکا تھا کہ بی سی سی آئی کوہلی کو باہر کا راستہ دکھا دے گی لیکن اس سے پہلے ہی کوہلی نے سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود ہی استعفی دے دیا۔‘

انھوں نے مزید کہا ’آپ اسے کوہلی بنام بی سی سی آئی کی لڑائی بھی کہہ سکتے ہیں۔ اقتدار کے سامنے کسی فرد واحد کی نہیں چلتی، یہ ایک بار پھر ظاہر ہو گیا۔‘

وراٹ کوہلی کی کپتانی میں انڈین ٹیم نے سب سے زیادہ 40 ٹیسٹ میچ جیتے اور ان کی جیت کی شرح سب سے زیادہ رہی۔ انھوں نے 68 میچوں میں انڈین کرکٹ ٹیم کی قیادت کی۔

ان کے بعد دھونی سب سے کامیاب انڈین کپتان ہیں جنھیں 60 میچوں میں سے 27 میں کامیابی ملی جبکہ سورو گانگولی تیسرے نمبر پر ہیں جنھیں 49 میچز میں سے 21 میں کامیابی نصیب ہوئی۔

محمد اظہرالدین نے 47 ميچز میں سے 14 میں کامیابی حاصل کی تھی اور یہ سارے کپتان اپنے زمانے کے انڈیا کے کامیاب ترین کپتان تھے۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

سوشل میڈیا اور بطور خاص ٹوئٹر پر وراٹ کوہلی کا نام نمبر ایک ٹرینڈ پر رہا اور ان کے ساتھ بی سی سی آئی کے صدر اور سابق کرکٹر سورو گنگولی بھی ٹرینڈ کر رہے ہیں جبکہ بی سی سی آئی کے جنرل سیکرٹری جے شاہ کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

کرکٹ اور کوہلی کے مداحوں نے لکھا ہے کہ ان سے زیادہ رنز کسی کرکٹر کپتان نے نہیں بنائے جبکہ انھوں نے اپنی کپتانی کے دوران صرف گریم سمتھ سے کم سنچری سکور کی ہے۔

انڈین پارلیمنٹ کے رکن اور کرکٹ میں دلچسپی رکھنے والے مصنف ششی تھرور نے کوہلی کے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ’کوئی انڈین کرکٹ فین اس طرح سے شکست کے بعد آپ کو جاتا دیکھنا نہیں چاہتا۔‘

اس کے بعد اپنے ایک مضمون میں انھوں نے لکھا کہ ’ہم جیسے مداحوں اور پرستاروں سے پردے کے پیچھے ہونے والے واقعات ابھی بھی بہت حد تک پوشیدہ ہیں، جن کی وفاداری کی وجہ سے کرکٹ انڈیا برقرار ہے لیکن ان واقعات نے انھیں (کوہلی کو) اس پر قائل کیا کہ وہ اب انڈیا کی قیادت نہیں کر سکتے جیسا کہ وہ سات سال سے کرتے آ رہے ہیں۔ اس طرح صرف دو مہینے میں کوہلی کرکٹ کی تمام فارمیٹ کی کپتانی سے جاتے رہے۔‘

ششی تھرور کا کہنا ہے کہ کچھ نہ کچھ گڑبڑ ہے کیونکہ کوہلی ابھی صرف 33 سال کے ہیں اور وہ اس انوکھی پوزیشن پر ہیں جہاں وہ انڈیا کی نئی نسل کو تیار کرنے میں نمایاں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے

سویڈن میں پیس اینڈ کنفلکٹ سٹدیز کے پروفیسر اشوک سوین نے لکھا کہ ’میں نے کہا تھا نا کہ کوہلی کے دن گنتی کے رہ گئے جب انھوں نے کرکٹ بورڈ کی بات ماننے سے انکار کرتے ہوئے محمد شامی کے حق میں نام نہاد وطن پرست ٹرولرز کے خلاف پریس کانفرنس کی تھی۔‘

اسی طرح شریا نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’جس دن سے انھوں نے شامی کے حق میں بولا اس دن سے ان کے گنتی کے دن رہ گئے۔ میں اس لیے ان کی عزت کرتی ہوں۔‘

بہت سے صارفین نے جے شاہ اور سورو گنگولی کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ بہت سارے صارفین نے طنز کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’انڈین ٹیم کا اگلا کپتان جے شاہ کو ہونا چاہیے‘ جبکہ بہت سے لوگوں نے پوچھا کہ جے شاہ اور گنگولی کب مستعفی ہوں گے؟

سنیم بید نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’مودی جی کی لائق قیادت میں لیجنڈری کرکٹر جے شاہ اور سورو گنگولی (دادا) نے کرکٹ کو سیاست کا میدان بنا دیا۔‘

صحافی سلیل ترپاٹھی نے لکھا کہ ’انڈیا کا اگلا کپتان جے شاہ کو ہونا چاہیے کیونکہ کوئی بھی ٹیم ان کے خلاف جیتنے کی ہمت نہیں کرے گی۔‘

دوسری جانب ویسے سورو گنگولی اور جے شاہ دونوں نے وراٹ کوہلی کو مبارکباد دی۔

گنگولی نے لکھا کہ ’وراٹ کی قیادت میں انڈین کرکٹ نے تمام فارمیٹ میں تیزی سے چھلانگ لگائی۔ ان کا یہ ذاتی فیصلہ ہے اور بی سی سی آئی اس کی بہت قدر کرتی ہے۔‘

انھوں نے مزید لکھا کہ ’وہ مستقبل میں ٹیم کو نئی بلندیوں پر لے جانے والی ٹیم کے رکن ہوں گے۔ ایک شاندار کھلاڑی۔ شاباش۔‘

جے شاہ نے وراٹ کوہلی کے ٹویٹ کے جواب میں لکھا کہ ’ٹیم انڈیا کے کپتان کے شاندار دور پر وراٹ کوہلی کو مبارکباد۔ وراٹ نے ٹیم کو ایک بے رحم فٹ ٹیم میں بدل کر رکھ دیا جس نے انڈیا اور باہر دونوں جگہ قابل ستائش پرفارم کیا۔ آسٹریلیا اور انگلینڈ کے خلاف ٹیسٹ میں کامیاب خاص رہی۔‘

کرکٹ کی دنیا کے شاندار بلے باز سر ویوین رچرڈز نے کوہلی کے ٹویٹ پر جواب دیتے ہوئے لکھا کہ ’انڈین کپتان کی حیثیت سے آپ کی شاندار کارکردگی کے لیے مبارکباد۔ آپ نے جو کچھ کیا اس کے لیے آپ کو فخر ہونا چاہیے۔ یہ طے ہے کہ آپ کا شمار دنیائے کرکٹ کے بہترین کپتانوں میں ہو گا۔‘

انڈین کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سچن تنڈولکر نے کوہلی کے مستقبل کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

کینیڈا میں مقیم پاکستان کے سپورٹس صحافی اور فوٹوگرافر معین الدین حمید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ہر ٹیم میں سیاست ہوتی رہتی ہے وہ پورے نظام کا حصہ ہے لیکن جس طرح سے ان کی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی میں کپتانی گئی وہ پیڑ سے ایک ہاتھ سے ہی لٹکے ہوئے رہ گئے تھے اور اسے کسی نہ کسی دن چھوٹنا ہی تھا۔‘

انھوں نے پاکستان کے معروف شاعر احمد فراز کے دو اشعار سے کوہلی کی صورتحال کو واضح کرتے ہوئے کہا:

اگر چہ زور ہواؤں نے ڈال رکھا ہے/ مگر چراغ نے لو کو سنبھال رکھا ہے۔۔۔

ہم ایسے سادہ دلوں کو وہ دوست ہوں کہ خدا/ سبھی نے وعدہ فردا پہ ٹال رکھا ہے۔۔۔

انھوں نے مزید کہا کہ کوہلی نے جس طرح آخری ٹیسٹ میں امپائر کے فیصلے پر حرکت کی وہ اس بڑے ملک کے عظیم کھلاڑی کو زیب نہیں دیتا۔

بہت سے ناقدین کا کہنا ہے کہ وراٹ کوہلی جس چیز کے لیے جانے جاتے ہیں وہ گذشتہ دو برسوں سے غائب ہے کیونکہ انھوں نے گذشتہ دو برسوں میں کوئی سنچری سکور نہیں کی، اگرچہ آخری میچ میں وہ فارم میں آتے نظر آئے۔