آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’جھوٹی باتوں کو قابلِ یقین بنایا جا رہا ہے‘: وراٹ کوہلی
سوموار کے روز انڈین کرکٹ ٹیم کے کپتان وراٹ کوہلی نے ویسٹ انڈیز کے دورے پر جانے سے پہلے ایک پریس کانفرنس کے دوران کھلاڑیوں کے درمیان کسی قسم کی سرد مہری سے متعلق خبروں کی تردید کر دی ہے۔
ممبئ میں ویسٹ انڈیز کے دورے پر جانے سے قبل میڈیا سے بات کرتے ہوئے کوہلی کا کہنا تھا کہ ٹیم میں تنازعات کے حوالے سے انھوں نے بھی بہت کچھ سنا ہے البتہ ایسی خبروں میں کوئی سچائی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات میری سمجھ سے باہر ہے کہ ایک من گھڑت تنازع کے بارے میں کیا کچھ لکھا جا چکا ہے۔ ایک طرف لوگ ہماری کارکردگی پر شاداں ہے اور دوسری جانب لوگوں کو ہمارے بارے میں جھوٹی اور منفی باتیں بتائی جا رہی ہیں۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’یہ حیران کن ہے، لوگ ایسی باتیں پتا نہیں کہاں سے گھڑ لاتے ہیں۔ آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ کلدیپ یادو اور ایم ایس دھونی سے کیسے بات کی جاتی ہے اور ہمارے ڈریسنگ روم میں کتنا اتفاق اور صحت مند ماحول قائم ہے۔
’جھوٹی باتوں کو قابلِ یقین بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔‘
کوہلی-روہت تنازع ہے کیا؟
انڈیا کے مقامی میڈیا میں یہ خبریں گرم ہیں کہ وراٹ کوہلی اور روہت شرما کے درمیان مبینہ طور پر کپتانی سے متعلق تنازعات پیدا ہو چکے ہیں۔ مقامی میڈیا کے مطابق انڈین کرکٹ بورڈ بی سی سی آئی نے اسی لیے اس پریس کانفرنس کا انعقاد کروایا ہے تاکہ کپتان اور کوچ ان باتوں کی تردید کر سکیں۔
کوہلی اور روہت کے درمیان کپتانی سے متعلق تنازعات کی ایک بڑی وجہ انڈین پریمیئر لیگ کے دوران روہت شرما کی عمدہ کپتانی ہے۔ روہت نے آئی پی ایل کی ٹیم ممبئی انڈینز کی کپتانی کرتے ہوئے اب تک چار آئی پی ایل ٹائٹل جیت لیے ہیں۔
دوسری جانب وراٹ کوہلی رائل چیلنجرز بینگلور کو ایک بھی ٹورنامنٹ جتوانے میں کامیاب نہیں رہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
البتہ کوہلی کا روہت شرما سے متعلق سوال کے جواب میں کہنا تھا کہ ’اگر میں کسی کھلاڑی کے بارے میں اپنی کپتانی کے حوالے سے غیر محفوظ محسوس کروں تو آپ کو میرے چہرے پر صاف نظر آئے گا۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’میں نے ہمیشہ روہت کی تعریف کی ہے کیونکہ وہ ایک بہت اچھے کھلاڑی ہیں۔ مجھے نہیں معلوم یہ جھوٹی باتیں کون گھڑ رہا ہے۔‘
انھوں کا کہنا تھا کہ ’میڈیا کو یہ دیکھنے کی ضرورت ہے کہ وہ جو گھڑ رہے ہیں اس میں کوئی صداقت بھی ہے؟ یہ کرکٹ پر توجہ دینے کا وقت ہے نہ کہ ایسی باتوں کا جن کا سرے سے کوئی وجود ہی نہیں ہے۔‘
اس حوالے سے انڈین ٹیم کے کوچ روی شاستری نے کہا کہ ’ہم جس طریقے سے کھیلتے ہیں یہ بات سب کو باور کراوئی جاتی ہے کہ کوئی بھی کھلاڑی ٹیم سے بڑا نہیں ہے۔‘
سلیکشن کمیٹی کی جانب سے اصولوں کی خلاف ورزی
سوموار کو ویب سائٹ مڈ ڈے ڈاٹ کام میں اپنے کالم میں انڈیا کے سابق کپتان اور مایہ ناز بلے باز سنیل گواسکر نے الزام عائد کیا کہ انڈیا کی سلیکشن کمیٹی نے سلیکشن کے طے شدہ اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
انھوں نے لکھا کہ میرے علم میں یہی تھا کہ وراٹ کوہلی کو 2019 کے ورلڈ کپ تک کپتان مقرر کیا گیا ہے اور اس کے بعد یہ سلیکٹروں کی ذمہ داری تھی کہ وہ پانچ منٹ کے لیے ہی سہی لیکن ملتے ضرور اور ہمیں بتاتے کے وراٹ کوہلی کو دوبارہ بطور کپتان نامزد کیا گیا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ ’آپ ایسے فیصلوں سے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ کیدر یادو اور دنیش کارتھک جیسے کھلاڑیوں کو تو بری کارکردگی پر ٹیم سے نکال دیا گیا لیکن وراٹ کوہلی کو ٹیم کی ناقص کارکردگی پر کپتانی سے نہیں ہٹایا گیا۔‘
انڈیا ویسٹ انڈیز کے خلاف دورے کا پہلا ٹی ٹوئنٹی لاڈرہل میں دو اگست کو کھیلے گی۔ انڈیا کی ٹیم اس دورے میں تین ٹی ٹوئنٹی، تین ایک روزہ میچ اور دو ٹیسٹ کھیلے گی۔