پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش: ڈرامائی آخری اوور کے بعد پاکستان کی پانچ وکٹ سے جیت، سیریز میں تین صفر سے کامیابی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے بنگلہ دیش کو ڈرامائی آخری اوور کے بعد ہرا کر سیریز کا تیسرا میچ پانچ وکٹوں سے جیت لیا اور اس طرح سیریز میں تین صفر سے کلین سویپ کر دیا۔
125 کے تعاقب میں پاکستان نے پوری اننگز میں قدرے سست انداز اختیار کیا اور جب آخری اوور شروع ہوا تو اس وقت ان کو چھ گیندوں پر آٹھ رنز درکار تھے لیکن ان کی آٹھ وکٹیں باقی تھیں۔
میچ میں اپنا پہلا اوور کرانے بنگلہ دیشی کپتان کپتان محمدود اللہ آئے اور انھوں نے پہلے سرفراز احمد کو گیند مس کرائی اور دوسری گیند پر انھیں کیچ آؤٹ کر وا دیا۔
اوور کی تیسری گیند پر پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ رنز بنانے والے حیدر علی بھی اونچا شاٹ کھیلنے گئے اور وہ بھی 45 کے سکور پر آؤٹ ہو گئے۔
چوتھی گیند پر نئے آنے والے افتخار احمد نے 90 میٹر طویل چھکا لگایا جس کا مطلب تھا کہ پاکستان کو دو گیندوں پر دو رنز چاہیے تھے۔
لیکن پانچویں گیند پر محمود اللہ نے اپنی تیسری وکٹ لے لی اور افتخار احمد بھی پویلین لوٹ گئے۔
اننگز کی آخری گیند پر نئے آنے والے محمد نواز تھے اور محمود اللہ نے گیند پھینکی تو ایک دم آخری لمحے پر وہ کریز پر سے ہٹ گئے اور گیند وکٹوں کو جا لگی۔ امپائر نے ڈیڈ بال کا اشارہ دیا۔ وجہ تھی کہ محمود اللہ نے وہ گیند امپائر کے بھی پیچھے سے کرائی تھی۔
لیکن جب بنگلہ دیشی آخری گیند کرانے میں کامیاب ہوئے تو محمد نواز نے کوورز پر زوردار چوکا مار کر پاکستان کو جیت دلا دی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کے لیے 45 رنز بنانے والے حیدر علی کو میچ کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز ملا جبکہ محمد رضوان کو سیریز کے بہترین کھلاڑی کا اعزاز دیا گیا۔
پاکستانی اننگز کا احوال

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستان نے 125 کے تعاقب میں پراعتماد لیکن سست انداز میں آغاز کیا اور دس اوورز کے بعد ان کا سکور 83 رنز تھا اور ایک وکٹ گر گئی تھی۔
یہ تو اب تک واضح ہو چکا تھا کہ بنگلہ دیش کی وکٹیں بیٹنگ اور سٹروک پلے کے لیے بالکل مناسب نہیں ہے اور اس کی مثال پاکستان کی بیٹنگ میں اب تک دیکھنے میں آئی ہے۔
عمومی طور پر روانی سے کھیلنے والے دونوں پاکستانی اوپنرز کو ٹائمنگ کرنے میں دشواری ہوئی کپتان بابر اعظم سیریز میں تیسری بار نکام ہوئے اور 25 گیندوں پر 19 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
16ویں اوور میں پاکستان کو بڑا دھچکہ اس وقت ملا جب 40 رنز بنا کر محمد رضوان بولڈ ہو گئے۔ آؤٹ ہونے کے بعد ان کی مایوسی عیاں تھی اور انھوں نے غصے کا اظہار کیا۔
البتہ حیدر علی نے اپنی اچھی بیٹنگ جاری رکھی اور پہلے رضوان اور بعد میں سرفراز کے ساتھ اہم شراکت قائم کی اور پاکستان کو جیت کے نزدیک لائے۔
بنگلہ دیش کی اننگز میں کیا ہوا؟
ٹاس جیت کر جب بنگلہ دیش نے اننگز شروع کی تو وہ سست انداز میں کھیلے۔ شاہنواز دھانی نے اپنے پہلے میچ کے پہلے ہی اوور میں ایک وکٹ لے کر بنگلہ دیش کو نقصان پہنچایا اور چار اوورز کا کھیل مکمل ہونے پر بنگلہ دیش نے ایک کھلاڑی کے نقصان پر 23 رنز بنائے۔
اس کے بعد اگلے چھ اوورز میں بھی پاکستانی بولرز کی کارکردگی بڑی عمدہ رہی اور دس اوورز کے بعد سکور 52 تک پہنچ گیا اور دو کھلاڑی آؤٹ تھے۔
اننگز کے 15ویں اوور تک بنگلہ دیش کا سکور 89 تک پہنچ گیا لیکن اسی اوور میں عثمان قادر نے اپنی دوسری وکٹ بھی حاصل کر لی جب عفیف حسین 20 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئے۔
اننگز کے آخری چار اوورز میں پاکستانی بولرز نے صرف 35 رنز دیے جبکہ بنگلہ دیش کی جانب سے اوپنر محمد نعیم نے 47 رنز بنائے۔ اس پوری سیریز میں کسی بھی بنگلہ دیشی بلے باز نے نصف سنچری نہیں بنائی۔
پاکستانی بولرز نے مسلسل عمدہ کارکردگی دکھائی اور مکمل طور پر بنگلہ دیش کے بلے بازوں کو قابو میں رکھا۔ پاکستان کی جانب سے محمد وسیم جونئیر نے بالخصوص شاندار بولنگ کی اور چار اوورز میں صرف 15 رنز کے عوض دو وکٹیں لیں۔
یہ ان کے کرئیر کی پہلی سیریز ہے اور اب تک تینوں میچوں میں محمد وسیم نے عمدہ بولنگ کرائی ہے اور سیریز میں پانچ وکٹ لی ہے۔
اس سیریز میں پاکستان کو دو صفر کی ناقابلِ شکست برتری حاصل ہے۔ تیسرے میچ میں پاکستان کی جانب ایسے کئی کھلاڑیوں کو موقع دیا گیا ہے جو پہلے ورلڈ کپ اور پھر اس سیریز کے لیے سکواڈ کا حصہ تو تھے لیکن ایک بھی میچ نہیں کھیل پائے تھے۔
شعیب ملک اپنے بیٹے کی علالت کی وجہ سے یہ میچ نہیں کھیل رہے اور ان کی جگہ سابق کپتان سرفراز احمد کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ عثمان قادر، افتخار احمد اور شاہنواز دھانی بھی یہ میچ کھیل رہے ہیں۔
یہ شاہنواز دھانی کے انٹرنیشنل کریئر کا پہلا ٹی ٹوئنٹی میچ ہے اور وہ ٹی 20 مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے 95ویں کھلاڑی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بنگلہ دیش نے بھی اپنی ٹیم میں تین تبدیلیاں کی ہیں اور شاہد الاسلام، شمیم حسین اور نسوم احمد کو موقع دیا گیا ہے۔ شاہد الاسلام اس میچ سے اپنا ٹی ٹوئنٹی کریئر شروع کر رہے ہیں۔
اس سیریز کے دوران اب تک پاکستان نے دونوں میچ ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے جیتے ہیں۔ پہلے میچ میں مہمان ٹیم نے ایک کانٹے کے مقابلے کے بعد میزبان ٹیم کو شکست دی تھی تاہم دوسرا میچ نسبتاً یکطرفہ رہا تھا اور پاکستان نے یہ میچ باآسانی آٹھ وکٹوں سے جیت کر سیریز میں ناقابلِ شکست برتری حاصل کر لی تھی۔
حال ہی میں ختم ہونے والے ورلڈ کپ میں شاندار کارکردگی دکھانے والے پاکستانی کپتان بابر اعظم تاحال اس سیریز میں کوئی بڑا سکور کرنے میں ناکام رہے ہیں تاہم محمد رضوان اور فخر زمان کی کارکردگی قابلِ ذکر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے
پاکستانی ٹیم: بابر اعظم، محمد رضوان، حیدر علی، سرفراز احمد، افتخار احمد، خوشدل شاہ، محمد نواز، عثمان قادر، شاہنواز دھانی، حارث رؤف اور محمد وسیم جونیئر۔
بنگلہ دیشی ٹیم: محمد نعیم، نجم الحسین شانتو، عفیف حسین، شمیم حسین، نسوم احمد، محمود اللہ، شاہد الاسلام، تسکین احمد، امین الاسلام، مہدی حسن اور نور الحسن۔












