پاکستان بنگلہ دیش ٹی ٹوئنٹی سیریز پر سمیع چوہدری کا کالم: یہ شاداب خان کا ’دوسرا جنم‘ ہو سکتا ہے

،تصویر کا ذریعہFrancois Nel
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
جہاں بابر اعظم حالیہ دنوں میں اپنے کرئیر کے عروج پہ دکھائی دیے، وہیں ان کے مقابل بنگلہ دیشی کپتان محمود اللہ کے لیے یہ چند ہفتے کچھ یادگار نہیں رہے۔ ورلڈ کپ کے مین راؤنڈ میں 'ناقابلِ فتح' رہنے کا ریکارڈ کسی بھی کپتان کے لیے نیک شگون نہیں ہوتا۔
حالانکہ اس ورلڈ کپ کی رسوائی سے مہینہ بھر پہلے وہ نہایت کامیاب اور زیرک کپتان سمجھے جا رہے تھے۔ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی ثانوی ٹیموں کو تگڑے مارجن سے ہرا چکے تھے اور کوالیفائنگ راؤنڈ سے عین پہلے یہ سب فتوحات گویا ایک نوید سی تھیں کہ صحیح وقت پہ سارے ستارے ایک ترتیب میں ڈھل رہے ہیں۔
لیکن ورلڈ کپ کوالیفائرز کے آغاز میں ہی شکست ہوئی تو بھلے اگلے راؤنڈ پہنچ بھی گئے، مگر جیتنا گویا بھول ہی گئے تھے۔ ایشیا میں کھیلے جانے والے ایونٹ میں بنگلہ دیش وہ واحد ایشیائی ٹیم تھی جو سپر 12 راؤنڈ کا کوئی بھی میچ جیتنے میں ناکام رہی۔
اور آج دوپہر جب یہ ٹیم جیت کی عادت پھر سے سیکھنے کے لیے میدان میں اترے گی تو اپنے تجربہ کار ترین کھلاڑی مشفق الرحیم کی خدمات سے محروم ہو گی۔ بنگلہ دیشی چیف سلیکٹر منہاج العابدین کے مطابق انھیں آرام دے کر اگلی ٹیسٹ سیریز کے لیے 'تازہ' کیا جا رہا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لیکن مشفق الرحیم اپنے سلیکٹرز کی رائے سے متفق ہرگز نہیں ہیں کہ ان کے بقول یہ 'آرام' نہیں، جبری آرام ہے کیونکہ وہ تو ورلڈ کپ کی بگڑی فارم کو درست کرنے کے لیے اس سیریز کو ایک اہم موقع تصور کر رہے تھے۔
سو، جب تمیم اقبال اور شکیب الحسن جیسے نامی سینئرز کی عدم دستیابی کے بعد مشفق الرحیم جیسے کہنہ مشق کو بھی دیس نکالا دے دیا جائے تو سوچ بھٹک جاتی ہے کہ بالآخر بنگلہ دیشی کرکٹ بورڈ اپنی ٹیم سے چاہتا کیا ہے۔
کیونکہ نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی سیکنڈ چوائس الیون کو سپن کے جال میں پھنسا کر سیریز جیتنا کچھ الگ تھا جبکہ پاکستان جیسی گھاگ ٹیم کو سپن کے چکر میں الجھا کر جیت کی امیدیں باندھنا بالکل ہی الگ معاملہ ہے۔
بہت کم ایسے زبردست مراحل پاکستان کرکٹ میں آتے ہیں جیسا اس وقت چل رہا ہے۔ ڈیڑھ ماہ پہلے، یہ وہ ٹیم تھی جسے انٹرنیشنل ٹیمیں کھیلنے سے انکار کر رہی تھیں اور آئی پی ایل کو زیادہ بہتر میچ پریکٹس تصور کر رہی تھیں۔ لیکن ورلڈ کپ کیا آیا، بابر اعظم کی ٹیم نے لگ بھگ سبھی آئی پی ایل والے لتاڑ چھوڑے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
یہ بھی پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
سیمی فائنل کو اگر منہا کر دیا جائے تو ابھی بھی اس ٹیم کی مشابہت کسی ورلڈ چیمپئن ٹیم سی ہی ہے۔ دو ایک کے سوا اس ٹیم کے سبھی عناصر اپنی اپنی جگہ بالکل درست کام کر رہے ہیں۔ کوئی عدم استحکام نہیں ہے اور لیڈر شپ اور گیم سپرٹ تو آئی سی سی سے بھی مہرِ تصدیق پا چکی ہے۔
جبکہ محموداللہ کی ٹیم وہ ہے جو ورلڈ کپ کے اندوہناک دنوں کی رسوائی کو پیچھے چھوڑ کر نئے چہروں کے ساتھ نئی شناخت بنانے کی تگ و دو کر رہی ہے۔ اور یہاں ان کا بنیادی چیلنج پاکستانی بیٹنگ کی دیوار کو گرانا ہو گا۔
اگرچہ ورلڈ کپ میں پچز کے معیار کے اعتبار سے پاکستانی اوپنرز کا سٹرائیک ریٹ قابلِ بحث تھا مگر بنگلہ دیشی کنڈیشنز میں بابر اعظم اور محمد رضوان کا بیٹنگ سٹائل ہی دونوں ٹیموں میں بنیادی فرق ثابت ہو سکتا ہے۔
پاکستان اپنے گیم ردھم کو برقرار رکھنے کی کوشش میں جارحانہ کرکٹ کھیلے گا اور اس کے جواب میں بنگلہ دیش شاید اپنے آزمودہ کار چہروں کو یاد کرے گا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
میرپور کی پچ رواں سال اپنی سستی میں بے مثال رہی ہے۔ اوسط مجموعے نہایت کم رہے ہیں۔ سپنرز کا کردار اہم ہو گا اور جس طرح سے بنگلہ دیشی پچز ٹرن لیتی ہیں، یہ شاداب خان کے کرئیر کا بھی ٹرننگ پوائنٹ بن سکتا ہے، جو ہفتہ بھر پہلے ورلڈ کپ تاریخ کا بہترین سپیل پھینک کر آ رہے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ لیگ سپن بنگلہ دیشی بلے بازوں کی کمزوری ہے۔











