پاکستان کی بنگلہ دیش کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز میں فتح، دوسرا ٹی ٹوئنٹی آٹھ وکٹوں سے جیت لیا

پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش دوسرا ٹی ٹوئنٹی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشن109 رنز کے ہدف کے تعاقب میں پاکستان کی پوزیشن مستحکم

پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان نے اچھی بولنگ کے بعد فخز زمان اور اوپنر محمد رضوان کی نمایاں بلے بازی کی بدولت باآسانی بنگلہ دیش کو آٹھ وکٹوں سے شکست دے کر سیریز دو صفر سے اپنے نام کر لی ہے۔

میچ شروع ہوا تو پاکستانی بولز کی بولنگ نے بنگلہ دیش کو ایک سو آٹھ رنز سے آگے نہ بڑھنے دیا۔ اس آسان ہدف کے تعاقب میں پاکستان نے بیٹنگ شروع کی تو کپتان اور اوپنر بلے باز بابر اعظم صرف ایک ہی رن بنا کر تیسرے اوور میں مستفیض الرحمان کی گیند پر بولڈ ہو گئے۔

بابر کے آوٹ ہونے کے بعد فخز زمان اور محمد رضوان نے نپی تلی بیٹگ کی اور پچاسی رنز کی بہترین شراکت میں پاکستان کو جیت کے قریب پہنچا دیا جس کے بعد محمد رضوان انتالیس رنز بنانے کے بعد سولہویں اوور میں آوٹ ہو گئے۔

فخر زمان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

’ایسا لگ رہا ہے کہ میچ پاکستان میں ہو رہا ہے‘

فخز زمان نے تین چھکوں اور دو چوکوں کی مدد سے ستاون رنز بنائے اور میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

میچ کے بعد فخر زمان نے بنگلہ دیش میں شائقین کے سپورٹ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ’جب آپ اپنے ملک سے باہر میچز کھیل رہے ہوں تو جیتنا اہم ہوتا ہے۔ امید ہے ہم تیسرا میچ بھی جیتیں گے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’مجھے بالکل یقین نہیں رہا۔ میں 2018 میں بھی یہاں آیا تھا اور اتنا کراؤڈ میں نے پاکستان کو سپورٹ کرنے والا نہیں دیکھا تھا۔۔۔ جتنے بھی لوگ آ رہے ہیں ان کا شکریہ۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام

’یقین کریں ایسا لگ رہا ہے جیسے پاکستان میں میچ ہو رہا ہے۔ ہم لوگ بھی اگر کوئی وکٹ لیتے ہیں یا اچھا شاٹ مارتے ہیں تو ہمیں بھی ایسی ہی سپورٹ ملتی ہے جیسے بنگلہ دیش کے کھلاڑیوں کو ملتی ہے۔ حتی کہ ان کا کراؤڈ بھی ہمیں سپورٹ کر رہا ہے۔ تو بہت خوش آئند بات ہے۔‘

فخر زمان کے مطابق کپتان بابر اعظم کے ہونے سے بہت زیادہ فرق پڑ رہا ہے۔ ’انھوں نے فیلڈنگ کا معیار بھی طے کیا ہے۔‘

سیریز جیتنے پر سوشل میڈیا صارفین پاکستان کی کارکردگی پر کھلاڑیوں کو داد دے رہے ہیں۔

فخر زمان کی نصف سنچری پر صارف ارفا فیروز کہتے ہیں کہ فخر زمان اپنی بیٹنگ میں تحمل لائے ہیں اور انھوں نے بہتری دکھائی ہے۔ ’وہ پِچ پر ڈٹے رہے اور انھوں نے مشکل پِچ پر ففٹی بنائی جو اس کا ثبوت ہے۔ وہ ایک میچ ونر ہیں اور اب ان کا کھیل ہر میچ کے ساتھ مزید تکنیکی اور مضبوط ہوتا جا رہا ہے۔‘

اس دوران بعض صارفین نے شاداب کی جانب سے پکڑے گئے ایک عمدہ کیچ کی بھی تعریف کی۔ صارف عامر شہزاد نے پاکستانی بولرز کو سراہا جنھوں نے بنگلہ دیش کو محض 108 رنز تک محدود رکھا۔

شاداب

،تصویر کا ذریعہTWITTER

شاداب اور شاہین کی اچھی بولنگ

اس سے پہلے میزبان ٹیم نے ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا اور سات وکٹ کے نقصان پر ایک سو آٹھ رنز بنائے۔

پچھلے میچ میں ریسٹ کروائے جانے والے فاسٹ بولر شاہین شاہ آفریدی نے اپنے پہلے ہی اوور میں اوپنر سیف الحسن کو آوٹ کیا۔ جب وسیم جونیئر نے بھی دوسرے اوور میں محمد نائم کو آوٹ کر دیا تودونوں بنگلہ دیشی اوپنر زیادہ سکور کیے بنا ہی پولین لوٹ گئے۔

نجم الحسن شانتو اور افیف حسین نے چھیالیس رنز کی شراکت کی جس کے بعد نویں اوور میں شاداب خان نے افیف کو بیس رنز بنانے کے بعد آوٹ کر دیا۔

یہ بھی پڑھیے

نجم الحسن نے اچھی بیٹنگ کرتے ہوئے کپتان محمود اللہ کے ساتھ ایک اور پارٹنر شپ کی اور سکور کو اناسی رنز تک پہنچایا لیکن اس کے بعد پہلے محمود اللہ حارث روف کی گیند پر وکٹ کے پیچھے رضوان کے ہاتھوں کیچ آوٹ ہو گئے اور اگلے ہی اوور میں نجم الحسن کو شاداب خان نے آوٹ کر دیا جنہوں نے پانچ چوکوں کی مدد سے چالیس جب کہ محمود اللہ نے بارہ رنز بنائے۔

پاکستان کی جانب سے نپی تلی بالنگ نے باقی کھلاڑیوں کو جم کر نہیں کھیلنے دیا۔ مہدی حسن تین رنز اور نور الحسن گیارہ رنز بنا سکے۔

پاکستان کی جانب سے شاہین آفریدی اور شاداب خان نے دو دو جب کہ وسیم جونیئر، محمد نواز اور حارث روف نے ایک وکٹ حاصل کی۔

شاہین، شاداب

،تصویر کا ذریعہGetty Images

پاکستان ٹیم مینیجمنٹ نے آج فاسٹ بولر حسن علی کو آرام کراتے ہوئے شاہین شاہ آفریدی کو کھلانے کا فیصلہ کیا جب کہ بنگلہ دیش نے کوئی تبدیلی نہیں کی۔

پاکستانی ٹیم: بابر اعظم، محمد رضوان، فخر زمان، حیدر علی، شعیب ملک، خوش دل شاہ، محمد نواز، شاداب خان، شاہین شاہ آفریدی، حارث رؤف اور محمد وسیم جونیئر۔

بنگلہ دیشی ٹیم: محمد نائم، سیف الحسن، نجم الحسین شانتو، محمود اللہ، افیف حسین، شریف السلام ، تسکین احمد، امین السلام، مہدی حسن، اور مستفیض الرحمان