ٹی 20 ورلڈ کپ میں پاکستان بمقابلہ سکاٹ لینڈ: مصباح کی ٹی ٹوئنٹی ٹیم کا 'مِسنگ لنک'

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
شاید کسی نے بھی یہ نہیں سوچا تھا کہ شعیب ملک یہ ورلڈ کپ کھیلیں گے۔ اگرچہ نمبر ون ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے لیے مڈل آرڈر میں وہ دو سال تک پاکستان کے لیے ڈھال بنے رہے لیکن حالیہ فارم کے سبب پچھلے سال تو وہ قومی ٹیم کا حصہ بھی نہیں تھے۔
دورۂ زمبابوے پہ جب پاکستان ایک ٹی ٹوئنٹی میچ ہارا تو ملک جذباتی ہو گئے اور سوشل میڈیا پہ اپنے دیرینہ دوست مصباح الحق کی بطور کوچ چوائسز پہ تنقید بھی کر ڈالی۔
شعیب ملک کا غصہ بجا تھا۔
سرفراز احمد کی برخاستگی کے بعد ڈیڑھ سال تک پاکستان نے جتنی ٹی ٹونٹی کرکٹ کھیلی، ساری ایک ہی مسئلے کے گرد گھومتی رہی کہ مڈل آرڈر کا کیا کیا جائے۔ ڈومیسٹک سرکٹ میں دستیاب لگ بھگ سبھی آپشنز آزما کے دیکھ لیے مگر بات بن کے نہ دی۔
سو، جب ٹیم کو ضرورت بھی تھی اور شعیب ملک دستیاب بھی تھے تو اس کے باوجود نظر اندازی کیسی؟
ملک کی فارم بھی ساتھ نہیں دے رہی تھی اور مصباح بھی نئی ٹیم بنانے پہ مصر تھے۔ وہ آسٹریلیا کے ورلڈ کپ کی تیاری کر رہے تھے مگر بیچ میں کورونا آ گیا، شیڈول درہم برہم ہو گئے اور پھر انڈیا کے ورلڈ کپ کے حساب سے تیاری کرنا پڑ گئی۔ تب تک سلیکٹرز بھی بدل چکے تھے اور ملے جلے نتائج کے بیچ ٹیم انتظامیہ کی کنفیوژن بھی بڑھ چکی تھی۔
اور مڈل آرڈر کا مسئلہ برقرار رہا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ورلڈ کپ کے لیے ابتدائی سکواڈ کا اعلان ہوا تو شعیب ملک اس کا بھی حصہ نہیں تھے۔ حالانکہ تب تک تو مصباح بھی مستعفی ہو چکے تھے۔ گویا پی سی بی بطور ادارہ ہی یہ طے کر چکا تھا کہ شعیب ملک ورلڈ کپ کے منصوبوں کے لیے زیرِ غور نہیں لائے جائیں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور پھر رمیز راجہ کا بطور چئیرمین تقرر بھی ملک کے مستقبل کے لیے کوئی اچھی نوید نہیں تھا۔ کیونکہ راجہ کمنٹری باکس میں بیٹھ کر ملک کو ریٹائر ہونے کے مشورے دیتے رہے ہیں اور ملک بھی جواباً سوشل میڈیا پہ اپنی بھڑاس نکالتے رہے ہیں۔
بابر اعظم بھی انہیں ورلڈ کپ ٹیم میں چاہتے تھے لیکن سبھی ستارے شعیب ملک کے مخالف سمت چل رہے تھے۔
پھر نیشنل ٹی ٹوئنٹی کپ آ گیا اور وہاں جس طرح کی فارم نے ملک کا استقبال کیا، شائقین کی حمایت ان کے لیے سوا ہوتی گئی۔ سلیکٹرز پہ بھی دباؤ بڑھنے لگا اور صہیب مقصود کی انجری تو گویا سلیکٹرز کے لیے سہولت کا باعث بن گئی۔
سکاٹ لینڈ اس آخری میچ کو اپنے لیے یادگار بنانا چاہتا تھا۔ جس طرح کی بولنگ پہلے دس اوورز میں ہوئی، پاکستان کا متوقع مجموعہ ڈیڑھ سوکے لگ بھگ نظر آ رہا تھا۔ حمزہ طاہر پاکستانی ٹاپ آرڈر کے لیے معمہ بنے رہے۔
اگرچہ حمزہ طاہر کے خلاف تمام تر دشواری کے باوجود محمد رضوان کیلنڈر ائیر کے کامیاب ترین بلے باز کا ریکارڈ تو لے اڑے لیکن پاکستانی اننگز کو وہ مومینٹم نہ دے پائے جو پچھلے ایک سال میں ان کا خاصہ رہا ہے۔
بابر اعظم کی استقامت اور محمد حفیظ کی برمحل جارحیت کے باوجود پاکستان کا متوقع مجموعہ 165 کے لگ بھگ تھا۔ شارجہ کی وکٹ سست تھی، باؤنس نیچا تھا اور سکاٹش بولر اچھے معیار کی بولنگ کر رہے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
باؤنس اس قدر کم تھا کہ ہنستے کھیلتے چھکے مارنے والے آصف علی بھی دقت میں تھے۔ لیکن دوسرے اینڈ پہ شعیب ملک تھے۔ اگرچہ ان کے انٹرنیشنل کرئیر کا بائیسویں سال میں ہونا ہی ایک نیم معجزہ سا ہے مگر اس اننگز میں انھوں نے بھرپور انداز میں اس معجزے کا ثبوت بھی دیا۔
ٹی ٹوئنٹی میں پاور ہٹنگ ایک تخصص کا شعبہ ہے۔ عضلات میں ایک خاص قسم کی قوت اور ذہن میں بلا کی چستی دستیاب ہو تو بلے باز کسی بھی لائن اور لینتھ کو اپنی مرضی کے زاوئیے سے استعمال کرنے پہ قادر ہو پاتا ہے۔ اور شعیب ملک کے بلے سے نکلی ہر گیند نے یہ ثابت کیا کہ عمر واقعی محض ایک ہندسہ ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
محمد رضوان، بابر اعظم، فخر زمان اور آصف علی جیسوں کے ہوتے بھلا کس نے سوچا تھا کہ ٹی ٹونٹی میں پاکستان کی تیز ترین سینچری 2021 میں وہ بلے باز بنائے گا جس نے 1999 میں ڈیبیو کیا تھا۔
اگرچہ سیمی فائنل میں ہیزل ووڈ، کمنز اور سٹارک کا چیلنج ذرا الگ نوعیت کا ہو گا لیکن ناک آؤٹ راؤنڈ سے پہلے ان کی اس فارم نے پاکستانی ڈریسنگ روم کو یہ اعتماد بہرحال دے دیا ہے کہ ڈیتھ اوورز میں چھکوں کے لیے صرف آصف علی کی طرف نہ دیکھیں۔
اور شعیب ملک کی اس اننگز نے یہ جواب بھی دے دیا کہ ڈیڑھ دو سال، تجرباتی مشکلات میں گِھری رہی، مصباح کی ٹیم کے دائمی مسئلے کا حل کیا تھا۔ یہ اننگز بتاتی ہے کہ مصباح کی ٹی ٹونٹی ٹیم کا 'مسنگ لنک' کیا تھا۔











