ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں انڈیا کی افغانستان کے خلاف فتح پر سمیع چوہدری کا تجزیہ: لیکن یہ وہ 'افغانستان' نہیں تھا

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

یہ کسی بھی اعتبار سے وہ ’افغانستان‘ نہیں تھا جس کی آمد کا نقارہ ہمیں سکاٹ لینڈ کے خلاف میچ میں سنائی دیا تھا، جس کی جارحیت نمیبیا کو روند گئی اور جس کی مزاحمت نے پاکستان کو آصف علی کے کرشمے پہ انحصار تک لا چھوڑا۔

2019 کے ون ڈے ورلڈ کپ میں جو افغان ٹیم دکھائی دی تھی، وہ کسی بھی طور سے اپنے اجزا کا مجموعہ نہیں تھی۔ ستارے سبھی موجود تھے مگر قیادت ملک کی جغرافیائی سیاست کی نذر ہو چکی تھی۔ اصغر افغان نے اچانک 'استعفیٰ' دے دیا تھا اور ورلڈ کپ جیسے مقابلے میں نئے کپتان گلبدین نائب کا ڈیبیو ہو رہا تھا۔

نئی ٹیموں کے لیے رینکنگ میں جلد ترقی پانا شاید اس قدر مشکل نہ ہو جتنا بڑے ایونٹس میں شرکت سیکھنا۔ یہ اپروچ حاصل کرنے میں خاصا وقت اور تجربہ خرچ ہوتا ہے کہ وہ یہاں صرف بڑی ٹیموں کا رن ریٹ بہتر کرنے نہیں آئے۔

اس اعتبار سے اس ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں افغانستان کی ٹیم بہت پختہ نظر آئی۔ اپروچ بہت مثبت مگر ضرورت پڑنے پہ دفاع کا بھی مضبوط اظہار اور بیٹنگ میں جارحیت ایسی کہ مثال دینے کو صرف ویسٹ انڈین استعارہ ہی ملے۔

لیکن انڈیا کے خلاف اس ٹیم نے اپنی شہرت کا بنا بنایا محل اپنے ہاتھوں مسمار کر دیا۔ یہ وہ 'افغانستان' ہرگز نہیں تھا جو ٹورنامنٹ کے اوائل میں نظر آیا تھا۔ بولنگ یکسر اپنے معیارات کی نفی کر رہی تھی۔ فیلڈنگ مضحکہ خیز حد تک سست تھی اور بیٹنگ اپنے ہی پاؤں پہ کلہاڑی مارنے کو بے تاب۔

حالانکہ اس ٹیم کے پاس ٹورنامنٹ کا بہترین سپن اٹیک ہے۔ راشد خان، محمد نبی اور مجیب زدران جیسے سپنرز کے سامنے متحدہ عرب امارات کی وکٹیں ہیں جو سپنرز کی جنت کہلاتی ہیں۔ زازئی، گرباز اورشہزاد جیسے بلے باز ہیں جو دنیا بھر کی لیگز کا تجربہ رکھتے ہیں اور کسی بھی بولر کے اعصاب پہ سوار ہونا بخوبی جانتے ہیں۔

جس طرح کا آغاز افغانستان نے ٹورنامنٹ میں کیا تھا، یہ توقع ہو چلی تھی کہ اب یہ ٹیم ورلڈ کپ میں بڑی ٹیموں کا سامنا کرنا سیکھ چکی ہو گی اور گروپ کی تین بڑی ٹیموں کے ساتھ میچز میں مقابلے یکطرفہ نہیں ہوں گے۔

افغانستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اور دوسری جانب انڈیا تھا، جو بقا کی جنگ لڑنے اترا تھا اور اس کی بولنگ پچھلے دو میچز کے اعداد و شمار کو بھلانے کی کوشش کر رہی تھی۔ اوپنرز رنز نہیں کر پا رہے تھے۔ مڈل آرڈر کو ترتیب سجھائی نہیں دے رہی تھی اور آل راؤنڈرز زندگی کا بوجھ بنتے جا رہے تھے۔

پہلے دو میچز میں کوہلی صحیح الیون منتخب نہ کر پائے اور نتائج وہی نکلے جو ایسی بے جوڑ سلیکشن سے نکل سکتے ہیں۔ جہاں ورون کو ایشون پہ ترجیح دی جا رہی ہو، وہاں کون یہ گتھی سلجھا سکتا ہے کہ ٹی ٹونٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کا کامیاب ترین سپنر پانی کی بوتلیں کیوں اٹھائے پھرتا ہے۔

انڈین کرکٹ ٹیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اس میچ میں پہلی مثبت چیز یہ رہی کہ کوہلی نے بالکل متوازن اور مسابقتی الیون کو چنا۔ اگرچہ ٹاس جیتنا ایک ایسی خوش قسمتی ہے جو اس ورلڈ کپ میں کوہلی سے گریزاں ہی رہی ہے لیکن محمد نبی کی جانب سے پہلے بیٹنگ کی دعوت کو کے ایل راہول اور روہت شرما نے کھلے بازوؤں سے قبول کیا۔

محمد نبی خائف تھے کہ اوس پڑتے وقت دوسری اننگز میں ان کے سپنرز گیند پہ گرفت برقرار نہ رکھ پائیں گے اور حالات بیٹنگ کے لیے سازگار ہوں گے۔ لیکن یہ خدشہ تو الٹا پڑ گیا، اور ان کے ورلڈ کلاس سپنرز پہلی ہی اننگز میں پھیکے پڑ گئے۔

افغانستان کی بولنگ چینجز خاصی مبہم اور بے مغز نظر آئیں۔ محمد نبی نے پہلا اوور اچھا پھینکا لیکن دوسرے اینڈ سے شرف الدین کو لانے کا 'سرپرائز' سعئ لاحاصل ٹھہرا اور ابتدا میں ہی خطرناک انڈین اوپنرز کو کھل کر کھیلنے کا موقع مل گیا۔ محمد نبی دوبارہ اٹیک میں کیوں نہ آئے، یہ بھی ایک معمہ ہی رہا۔ تجربہ کار کریم جنت سے صرف ایک اوور کیوں کروایا گیا۔

اور جس ارادے کے تحت محمد نبی نے دوسری اننگز میں بیٹنگ کا فیصلہ کیا تھا، اس اعتبار سے ضروری تھا کہ کنڈیشنز بیٹنگ کے لیے سازگار ہونے تک وکٹیں بچائی جائیں۔

ایک محتاط سی پلاننگ کی ضرورت تھی کہ پاور پلے میں بھلے 40 رنز بھی نہ ہوں لیکن وکٹیں بچائی جائیں جس طرح پاکستان نے انڈیا کے خلاف بچائی تھیں۔

یہ بھی پڑھیے

لیکن ایسی کوئی شعوری کوشش بھی ہمیں افغان بلے بازوں کی جانب سے دکھائی نہیں دی۔ وہ جذبات کی رو میں بہتے چلے گئے اور اپنی جبلت کے تحت شروع سے ہی باؤنڈری پار کرنے کی شرطیں باندھتے رہے۔ اسی داؤ پیچ میں الجھے سبھی پویلین لوٹ گئے۔

بعد ازاں اوس بھی پڑی، گیند سنبھالنا مشکل بھی ہوا مگر تب تک افغان بیٹنگ کی لاج رکھنے والے سبھی چنیدہ نام ڈریسنگ روم میں واپس پہنچ چکے تھے۔ پاور پلے میں بمراہ اور بیچ کے اوورز میں ایشون نے افغان اننگز کی کمر ایسے توڑی کہ پھر سنبھلنے کا موقع محال تھا۔

انڈین کرکٹ ٹیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈیا کے لیے یہ فتح پوائنٹس کے اعتبار سے تو ضروری تھی ہی لیکن فتح کے مارجن نے یہ بھی یقینی بنا دیا کہ اگر کیویز اگلا میچ ہار جاتے ہیں تو کم از کم رن ریٹ کے معاملے میں کوہلی کی ٹیم کو اب زیادہ پریشانی نہیں رہے گی۔

اور پھر اہم ترین مرحلے میں رسائی کے امکان کے ساتھ ساتھ انھیں اپنا درست کمبینیشن بھی مل گیا جہاں بروقت ایشون کا تجربہ بھی لوٹ آیا اور شامی نے بھی پاکستان کے خلاف میچ کے بعد برسائے گئے سبھی تیر واپس ناقدین کی جانب پلٹا دیے۔