ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کی افغانستان کو 66 رنز سے شکست: ’یہی کام آپ نے گذشتہ دو میچز میں کیا ہوتا تو سب کا کتنا بھلا ہوتا‘

انڈیا، افغانستان میچ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

انڈین کرکٹ ٹیم نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں مسلسل دو میچ ہارنے کے بعد آخر کار آج اپنا پہلا میچ باآسانی جیت لیا ہے، جس کے بعد انڈیا میں کرکٹ فینز پھولے نہیں سما رہے۔

ابوظہبی میں افغانستان کے خلاف کھیلے گئے اس میچ میں افغانستان نے ٹاس جیت کر پہلے انڈیا کو بیٹنگ کی دعوت دی تو انڈیا نے مقررہ 20 اوورز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 210 رنز بنائے۔

اس سے پہلے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈیا کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے خلاف کھیلے گئے دونوں میچز میں شکست ہوئی تھی، جس کے بعد انڈیا کے سوشل میڈیا صارفین نہ صرف اپنی ٹیم سے ناراض نظر آئے بلکہ ان کی پرفارمنس پر کھل کر تنقید بھی کی لیکن افغانستان کے خلاف انڈیا کی شاندار جیت نے شاید اب روٹھے شائقین کے زخموں پر کچھ مرہم رکھ دیا ہے۔

انڈیا کے سابق کرکٹر وسیم جعفر نے انڈین بلے بازوں کی متاثر کن کارکردگی پر ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’انڈین بلے بازوں کو ویلکم بیک۔‘

مفدل ووہرا نے لکھا: ’انڈیا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2021 میں 200 رنز سکور کرنے والی پہلی ٹیم بن گئی۔‘

کئی صارفین روہت شرما کے گن گاتے بھی نظر آئے۔ ایک صارف نے لکھا: ’راشد خان کو ایک کے بعد ایک چھکا۔ یہ کبھی نہیں بھلایا جا سکتا۔ شکریہ روہت شرما۔‘

واضح رہے کہ روہت شرما نے اس میچ میں تین چھکوں اور آٹھ چوکوں کی مدد سے 47 گیندوں پر 74 رنز بنائے ہیں۔

انڈیا، افغانستان میچ

،تصویر کا ذریعہTwitter

سورابھ گورو نے روہت شرما کو ’ہٹ مین‘ مخاطب کرتے ہوئے لکھا: ’ہٹ مین نے آج رات اپنی کلاس دکھا دی۔ خاص طور پر راشد خان کے خلاف جارحانہ بیٹنگ کا مظاہرہ کیا۔‘

ایک اور صارف نے انڈیا کی جیت پر طنزیہ انداز میں لکھا: ’یہی کام آپ نے گذشتہ دو میچز میں کیا ہوتا تو سب کا کتنا بھلا ہوتا۔‘

بہر حال بعض انڈین گذشتہ دو میچز میں ٹیم کی خراب کارکردگی پر غصہ اور ناراضگی کا اظہار کرتے رہے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو اس سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔ انڈین ٹیم کی کارکردگی نے پاکستانی شائقین کو بھی تفریح ​​کا موقع فراہم کیا ہے۔

انڈیا، افغانستان میچ

،تصویر کا ذریعہTwitter

آٹھ نومبر کو نمیبیا کے خلاف ہونے والے انڈیا کے میچ کا حوالہ دیتے ہوئے ریڈ مرکری 97 نامی ایک ٹوئٹر صارف لکھتے ہیں کہ ’پاکستان نمیبیا کو انڈیا کے ساتھ آنے والے میچ کے لیے تیار کر رہا تھا۔‘

انڈیا اور پاکستان کے درمیان کرکٹ کے موضوع پر اکثر اسی طرح کا شدید ردعمل نظر آتا ہے جیسا کہ دونوں ممالک کے درمیان سیاست میں نظر آتا رہا ہے۔

عام طور پر یہ دونوں ممالک کے رشتوں میں تلخی کا باعث ہوتا ہے لیکن بعض اوقات یہ تفریح اور ذہنی بالیدگی کا بھی ثبوت فراہم کرتا ہے جس کی مثال دونوں ٹیموں کے شائقین کے درمیان سوشل میڈیا پر ہونے والے ردعمل کی صورت میں نظر آرہا ہے۔

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

ابھی تک کی انڈیا کی کاکردگی پر نظر ڈالیں تو انڈیا کا سیمی فائنل میں پہنچنا کافی مشکل نظر آرہا ہے۔

ندیم پراچہ لکھتے ہیں کہ ’اگر انڈیا ورلڈ کپ سے باہر ہو جاتا ہے تو ان کے کھلاڑیوں کو پاکستان آ جانا چاہیے۔ وہ انڈیا کے مقابلے میں یہاں زیادہ محفوظ ہوں گے۔‘

یہ بھی پڑھیے

اگرچہ پاکستان اور دوسرے ممالک کے شائقین انڈیا کی شکست پر پُرمزاح تبصرے کر رہے ہیں وہیں مایوسیوں کے درمیان بہت سے انڈین کرکٹ ٹیم کے حامییوں نے بھی ٹیم کی ہار پر مزاح کو جانے نہیں دیا۔

ڈاکٹر وویک چوکسی نے لکھا کہ اس طرح ’انڈیا اپنی ویکسین کی دونوں خوراکیں لے چکا ہے، پہلی پاکستان اور دوسری نیوزی لینڈ کے ہاتھوں۔ اگر وہ افغان کی طرف سے بوسٹر شاٹ کا انتظار نہیں کر رہے ہیں تو اب وہ انڈیا واپس آنے کے لیے مکمل طور پر ویکسین لے چکے ہیں۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter

کرکٹ کے حوالے سے دونوں ملکوں کے درمیان نوک جھونک اکثر دونوں ملکوں کے سیاسی تعلقات کی عکاسی کرتی ہے۔ بہت سے لوگ ان دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا موازنہ آسٹریلیا اور انگلینڈ کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان ایشز سے متعلق دشمنی سے کرتے ہیں۔

لیکن اس بار اس دشمنی کے برعکس پاکستان سے زیادہ انڈین ٹیم پر انڈیا مداحوں کا غصہ نظر آیا۔

وراٹ کوہلی کو انڈیا کے قوم پرست سخت گیروں نے ٹرول کیا۔ یہاں تک کہ ایک صارف نے اپنا نام بدل کر آمینہ رکھ کر اور پروفائل میں پاکستانی جھنڈے کا استعمال کرتے ہوئے کوہلی کی چند ماہ کی بیٹی کے ساتھ عصمت دری کی دھمکی دی۔

اس غم و غصے کی عکاسی کرتے ہوئے رسیٹ لین نامی ایک صارف لکھتے ہیں کہ ’کیا آپ کو یاد ہے جب پاکستان انڈیا سے ہارا تھا تب انھوں نے اسے مزاح میں بدل دیا تھا۔ میری نظر میں ان کے ٹویٹس سب سے دلچسپ تھے۔ انھوں نے اپنی ٹیم کا مذاق اڑایا لیکن کہیں کوئی گالی گلوچ نہیں کی تھی۔ ان سنگھیوں اور جعلی قوم پرستوں کی وجہ سے انڈین کرکٹ کے شائقین قابل نفرت احمق نظر آرہے ہیں۔‘

ٹویٹ

،تصویر کا ذریعہTwitter