ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں سیمی فائنل کی دوڑ: انڈیا، نیوزی لینڈ اور افغانستان کو سیمی فائنل تک رسائی کے لیے کیا کرنا ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
تھوڑی دیر کے لیے اپنی یادداشت پر زور ڈال کر یہ سوچیں کہ آخری مرتبہ کس آئی سی سی ٹورنامنٹ میں آپ نے پاکستان کرکٹ ٹیم کو بغیر کسی پریشانی کے اگلے راؤنڈ میں رسائی حاصل کرتے دیکھا تھا؟
شاید اس کے لیے آپ کو 10 سال قبل ہونے والے سنہ 2011 کے ون ڈے ورلڈکپ کا خیال آئے جب پاکستان نے گروپ مرحلے میں صرف ایک میچ ہارا تھا اور گروپ میں سرِفہرست رہا تھا اور پھر کوارٹر فائنل میں بھی باآسانی فتح حاصل کر لی تھی۔
ورنہ تو آئی سی سی ٹورنامنٹس کے دوران اکثر پاکستانی مداحوں کا زیادہ تر وقت حساب کتاب میں گزرتا ہے، اور صورتحال اگر مگر تک جا پہنچتی ہے۔ اس کے لیے زیادہ دور نہیں بلکہ سنہ 2019 کے ورلڈ کپ کی ہی مثال لے لیں۔
لیکن یہ سب کچھ اس ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں یکسر تبدیل ہو چکا ہے۔ پاکستان اس ٹورنامنٹ میں اب تک نہ صرف ناقابل تسخیر ہے بلکہ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی بھی کر چکا ہے۔
ایسے میں اکثر مداح یہ پوچھ رہے ہیں کہ بالخصوص انڈیا اور افغانستان اور نیوزی لینڈ کے اس ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک رسائی کے امکانات کتنے روشن ہیں اور اس کے لیے انھیں آنے والے میچوں میں کیا کرنا ہو گا؟

،تصویر کا ذریعہMARK FLETCHER/MI NEWS/NURPHOTO VIA GETTY IMAGES
پاکستان کی مسلسل فتوحات اور گروپ ٹو کی صورتحال
آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے گروپ ٹو میں پاکستان، نیوزی لینڈ، انڈیا، نمیبیا، سکاٹ لینڈ اور افغانستان شامل ہیں۔ پاکستان اب تک اس گروپ میں سب سے زیادہ چار میچ کھیل چکا ہے اور اسے چاروں میں ہی فتوحات حاصل ہوئی ہیں۔
پاکستان کے اس وقت آٹھ پوائنٹس ہیں اور وہ گروپ میں سرفہرست ہونے کے علاوہ ٹورنامنٹ کے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی پہلی ٹیم بن چکا ہے۔ پاکستان کا اب صرف ایک میچ باقی ہے جو سات نومبر کو سکاٹ لینڈ کے خلاف ہے۔
اس ٹورنامنٹ کے مراحل ایسے ہیں کہ دو گروپس میں سرِ فہرست رہنے والی دو ٹیموں کی اگلے مرحلے تک رسائی حاصل ہو گی۔ ایسے میں اس وقت سیمی فائنل کے لیے ایک جگہ ہے جسے حاصل کرنے کے لیے تین ٹیمیں کوشاں ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس گروپ کے حوالے سے اندازے لگانا قدرے آسان اس لیے بھی ہے کیونکہ اس میں دو اسوسی ایٹ ٹیمز شامل ہیں جن کے نیوزی لینڈ، پاکستان اور انڈیا کو اپ سیٹ کرنے کے امکانات انتہائی کم ہیں اور وہ پہلے ہی افغانستان سے شکست کھا چکی ہیں۔
ایسے میں اس ایک جگہ کے لیے کم از کم تین ٹیمیں یعنی انڈیا، نیوزی لینڈ اور افغانستان لڑ رہی ہیں۔
برائے مہربانی انتظار کریں
ان تین ٹیموں کے آپس کے میچوں کے نتائج یہ فیصلہ کریں گے کہ کون سی ٹیم سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرے گی۔
گذشتہ اتوار کو کھیلے جانے والے میچ میں نیوزی لینڈ نے انڈیا کو باآسانی آٹھ وکٹوں سے شکست دی تھی جس کے بعد انڈیا کے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے کے امکانات بہت کم ہو گئے ہیں۔
آج انڈیا اور افغانستان کی ٹیمیں مدِ مقابل ہیں اور انڈیا کے لیے اس میچ میں فتح لازمی ہے۔ ادھر نیوزی لینڈ اب تک صرف پاکستان سے اپنا میچ ہارا ہے اور اس کا سات نومبر کو افغانستان کے ساتھ میچ انتہائی اہم ہو گا اور اکثر تجزیہ کار اسے کوارٹرفائنل کا درجہ دے رہے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAAMIR QURESHI/AFP VIA GETTY IMAGES
انڈیا کو کیا کرنا ہو گا؟
انڈیا کے لیے اس وقت سیمی فائنل مرحلے تک پہنچنے کے امکانات بہت کم ہو چکے ہیں۔ انڈیا نے اپنے ابتدائی میچ میں پاکستان سے جب دوسرے میچ میں نیوزی لینڈ سے شکست کھائی تھی۔
ایسے میں اب اس کے لیے نہ صرف اپنے باقی میچوں میں فتوحات حاصل کرنا انتہائی اہم ہو چکا ہے بلکہ اسے فتوحات بڑے مارجن سے بھی حاصل کرنی ہوں گی۔ لیکن معاملہ صرف یہیں تک نہیں رکے گا، انڈیا کو اب دوسرے نتائج اپنے حق میں آنے کی امید رکھنی ہو گی۔
اگر انڈیا اپنے تمام میچ جیت جاتا ہے تو اس کے چھ پوائنٹ ہو جائیں گے، ایسے میں اسے یہ امید کرنی ہو گی کہ افغانستان نیوزی لینڈ کو شکست دے دے۔ اگر نیوزی لینڈ اپنے باقی میچ جیت جائے تو تین ٹیمیں چھ پوائنٹس پر ہوں گے۔ ایسے میں سیمی فائنل کے لیے ٹیم کا چناؤ نیٹ رن ریٹ پر ہو گا۔
انڈیا یہ چاہے گا کہ نیوزی لینڈ کو سکاٹ لینڈ اور نمیبیا میں سے کوئی ایک ٹیم اپ سیٹ کر دے تاہم اس کے امکانات انتہائی کم ہیں۔
برائے مہربانی انتظار کریں
نیوزی لینڈ کو کیا کرنا ہو گا؟
آسان راستہ تو یہ ہے کہ نیوزی لینڈ اپنے بقیہ میچ جیت جائے، یعنی اس کے آٹھ پوائنٹس ہو جائیں۔ اگر نیوزی لینڈ افغانستان سے ہار بھی جائے، اور اس کا نیٹ رن ریٹ افغانستان اور انڈیا سے بہتر ہو تو نیوزی لینڈ سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کر جائے گا۔
تاہم یہاں ایک بات انتہائی اہم ہو گی، اور وہ یہ کہ افغانستان کا نیٹ رن ریٹ بہت اچھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہMATTHEW LEWIS-ICC/ICC VIA GETTY IMAGES
افغانستان کو کیا کرنا ہو گا؟
اس ٹورنامنٹ میں اگر کوئی ٹیم سب کے دلوں کے بہت قریب ہے تو وہ افغانستان ہے اور اس کی وجہ ان کا کرکٹ کھیلنے کا جارحانہ انداز ہے۔ افغانستان نے اب تک ٹورنامنٹ میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور نمیبیا اور سکاٹ لینڈ کو بڑے مارجن سے ہرانے کے علاوہ پاکستان کو بھی خوب ٹکر دی ہے۔
افغانستان کے اگلے دو میچ انڈیا اور نیوزی لینڈ کے خلاف ہیں، اور یوں یہ دونوں ہی میچ خاصے سخت ہیں۔ افغانستان کو نیوزی لینڈ کے خلاف فتح حاصل کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ نیوزی لینڈ نے اب تک ٹورنامنٹ میں صرف دو میچ کھیلے ہیں جس میں سے ایک اس انڈیا کو ہرایا بھی ہے۔
اس لیے اگر افغانستان نیوزی لینڈ کو شکست نہیں دیتا تو اس کے پاس ٹورنامنٹ میں آٹھ پوائنٹ حاصل کرنے کا موقع ہو گا، اس صورت میں افغانستان چھ پوائنٹس کے ساتھ ٹورنامنٹ سے باہر ہو جائے گا۔
خیال رہے کہ یہ حساب کتاب یہ فرض کرتے ہوئے لگایا گیا ہے کہ سکاٹ لینڈ، نمیبیا ان ٹیموں کے خلاف کوئی اپ سیٹ نہیں کریں گی۔ اگر ایسا ہوتا ہے، تو پھر مذکورہ ٹیم کی سیمی فائنل تک رسائی انتہائی مشکل ہو جائے گی۔
یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ افغانستان کی ٹیم نے اس ٹورنامنٹ میں اب تک عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور گروپ کی اب تک کی بہترین ٹیم پاکستان کو بھی خوب ٹکر دی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ سکاٹ لینڈ اور نیمبیا کو بڑے فرق سے شکست دینے کے باعث ان کا نیٹ رن ریٹ بھی گروپ میں سب سے اچھا ہے۔










