ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں انڈیا بمقابلہ نیوزی لینڈ میچ پر سمیع چوہدری کا کالم: لیکن یہ ہار کوہلی کی نہیں، گنگولی کی ہو گی

انڈیا بمقابلہ نیوزی لینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

1999 کا ورلڈ کپ جاری تھا اور آسٹریلوی ٹیم ابتدا میں ہی میچز ہار رہی تھی۔ پریس کانفرنس میں کسی نے سوال اٹھایا کہ کیا یہ ٹیم سپر سکس مرحلے تک رسائی بھی حاصل کر پائے گی؟ تو سٹیو وا نے جواب دیا تھا کہ ابھی اس ٹورنامنٹ میں بہت کرکٹ باقی ہے۔

کیوی ٹیم کے ہاتھوں غیر متوقع مارجن کی شکست کے بعد جب انڈین کپتان ویراٹ کوہلی سے میچ کے بعد سوالات ہوئے تو ان کا بھی یہی کہنا تھا کہ ابھی اس ٹورنامنٹ میں بہت کرکٹ باقی ہے۔

گو یہ تو ابھی تک حتمی نہیں کہ اس گروپ سے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کرنے والی دو ٹیمیں کون سی ہوں گی مگر دوڑ ابھی تک ’اوپن‘ ہونے کے باوجود کوہلی کی ٹیم کے امکانات خاصے معدوم ہو چکے ہیں۔

ایسے قریبی مقابلوں میں کوالیفکیشن کا مارجن بہت قلیل ہوتا ہے جہاں فتوحات کی تعداد برابر ہونے کے بعد بات رن ریٹ پر آ ٹھہرتی ہے اور صرف ایک اعشاریہ یا صفر آگے پیچھے ہونے سے تقدیریں بدل جایا کرتی ہیں۔

سنہ 2019 کے ون ڈے ورلڈ کپ کے بعد سرفراز احمد اور مکی آرتھر چیختے رہ گئے کہ ان کی ٹیم نے بری کرکٹ ہرگز نہیں کھیلی۔ ان کے اور کیویز کے پوائنٹس تک برابر تھے مگر رن ریٹ کی بنیاد پر پہلا مرحلہ کلئیر کرنے والی کیوی ٹیم فائنل تک جا پہنچی اور سرفراز و مکی آرتھر دونوں اپنے عہدے گنوا بیٹھے۔

سو کوہلی کا یہ کہنا کہ ابھی بہت کرکٹ باقی ہے، لفظی اعتبار سے غلط ہرگز نہیں اور کوئی ایک آدھ نہایت یکطرفہ مقابلہ رن ریٹ کو بھی شاید اس طرح سے پلٹا ڈالے کہ سبھی اندازوں کو مات دے کر انڈین ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر جائے لیکن اگر ایسا نہیں ہو پاتا تو ذمہ دار صرف اور صرف انڈین کرکٹ بورڈ ہو گا۔

بالآخر یہ انڈین کرکٹ بورڈ ہی ہے جو اپنے کھلاڑیوں کی ذہنی بہبود سے زیادہ توجہ اپنی مالی بہبود پر مرکوز کیے بیٹھا ہے۔

انڈیا بمقابلہ نیوزی لینڈ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

اگرچہ کووڈ کے بعد کی دنیا میں تمام تر منسوخ شدہ کرکٹ کا قرض چکانا کرکٹ بورڈز کی مجبوری بن چکا ہے لیکن ان سبھی اتھارٹیز میں سے بی سی سی آئی یقیناً وہ ممتاز ادارہ ہے جو اگر چند دوطرفہ سیریز کو منسوخ بھی کر چھوڑتا تو کوئی قہر نہ ٹوٹ پڑتا۔

پچھلے تین چار ماہ کا انڈین کرکٹ کیلنڈر ہی دیکھ لیجیے تو واضح نظر آ جاتا ہے کہ ورلڈ کپ میں ایسی اوسط کارکردگی کی وجہ کیا ہوئی۔

یاد رہے کہ انڈین ٹیم کا یہ سیزن اس قدر مصروف تھا کہ سری لنکا سے شیڈول کے تقاضے نبھانے کے لیے راہول ڈریوڈ کی کوچنگ میں ایک ثانوی الیون تشکیل دی گئی تاکہ ’اصل‘ انڈین ٹیم روی شاستری کے ہمراہ انگلش کنڈیشنز سے ہم آہنگ ہو کر پانچ ٹیسٹ میچز کے چیلنج کے لیے تیار ہو سکے۔

سمیع چوہدری کے دیگر کالم بھی پڑھیے

جس طرح کی کرکٹ انڈین ٹیم نے حالیہ دورہ انگلینڈ میں کھیلی، اس سے واضح تھا کہ گزشتہ برس آسٹریلیا میں جیت کوئی ’تُکا‘ نہیں تھا بلکہ یہ ٹیم واقعی ورلڈ کلاس بن چکی تھی۔ ایان چیپل تو یہاں تک کہنے پر مجبور ہو گئے کہ یہ خاصی خوفزدہ کرنے والی بات ہے کہ ایسی ورلڈ کلاس ٹیم ہونے کے باوجود ابھی کوہلی کی ٹیم مزید بہتر ہو سکتی ہے۔

لیکن انڈین کرکٹ بورڈ کی اولین ترجیح اپنی آئی پی ایل کا مستقبل محفوظ کرنا تھا نہ کہ ورلڈ ٹائٹل جیتنا۔ پلئیرز کو اور شائقین کو یہ نظر کا دھوکہ دیا گیا کہ آئی پی ایل کا باقی ماندہ حصہ انڈین ٹیم کے لیے ورلڈ کپ کی تیاری ثابت ہو گا۔

ورلڈ کپ جیسے میگا ایونٹ میں تکنیکی تیاری سے زیادہ نفسیاتی تیاری اور ذہنی تازگی جیسے عوامل اہم ٹھہرتے ہیں۔ انڈین ٹیم کے سبھی کھلاڑی آئی پی ایل میں ملوث رہے ہیں، سو تکنیکی اعتبار سے غالباً وہ اس ٹورنامنٹ کی سب سے تیار ٹیم ہے۔

لیکن جب بات نفسیاتی تیاری اور ذہنی تازگی کی آتی ہے تو یقیناً کوہلی کی الیون دیگر ٹیموں سے بہت پیچھے نظر آ رہی ہے۔

یہ ٹیم پے در پے ٹاپ لیول کرکٹ کھیل کر تھک چکی ہے۔ اگرچہ روہت شرما، راہول، جدیجا وغیرہ بخوبی واقف ہیں کہ آج کل دبئی میں اوسط ’باؤنس‘ کیا چل رہا ہے اور ابوظہبی میں سپن کو کتنے فیصد ’ٹرن‘ مل رہا ہے مگر جب ذھن ہی تروتازہ نہ ہو تو ایسی ’علمیت‘ کون سا اچار ڈالنے کے کام آئے گی؟

اش سوڈھی بلاشبہ ورلڈ کلاس سپنر ہیں مگر ایسے بھی خطرناک نہیں کہ انڈین بلے باز ان کو سمجھ ہی نہ پائیں۔ کیوی بولنگ بلاشبہ بہت نپی تلی اور ایک پلان کے مطابق تھی مگر ایسا بھی کیا قحط کہ اننگز کے بیچ کے نو اووز میں گیند باؤنڈری ہی کراس نہ کر پائے۔

کوہلی کی ٹیم چونکہ اس ٹورنامنٹ کی میزبان بھی ہے اور شروع سے ہی فیورٹ بھی رہی ہے، اس لیے اگر یہ ٹیم ٹاپ فور تک نہیں پہنچ پاتی تو یہ نہ صرف آئی سی سی کے لیے مالی خسارے کا باعث ہو گا بلکہ ناک آؤٹ مرحلے کی کرکٹ کا جوش بھی کچھ ماند پڑ جائے گا۔

لیکن اگر ایسا ہوا تو ذمہ دار ویراٹ کوہلی یا ان کی ٹیم نہیں بلکہ سارو گنگولی اور ان کا کرکٹ بورڈ ہو گا۔