وراٹ کوہلی: آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں خاموش کرنے والے انڈین کپتان کی خوب سے خوب تر ہونے کی کہانی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, محمد صہیب
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
’مجھے آسٹریلیا کے خلاف کھیلنا اس لیے پسند ہے کیونکہ ان کے لیے پرسکون رہنا بہت مشکل ہے اور مجھے گراؤنڈ میں تکرار پسند ہے اس سے میرے کھیل میں بہتری آتی ہے اور شاید وہ ابھی تک یہ سبق نہیں سیکھ پائے۔‘
یہ آسٹریلیا کے خلاف سنہ 2014 ایڈیلیڈ ٹیسٹ کے تیسرے روز کے آخر میں ہونے والی پریس کانفرنس میں وراٹ کوہلی کے الفاظ تھے۔
کوہلی نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ ’وہ مجھے ایک بگڑا ہوا بچہ پکار رہے تھے اور میں انھیں کہہ رہا تھا کہ ہاں شاید میں ایسا ہی ہوں، مجھے پتا ہے کہ تم لوگ مجھ سے نفرت کرتے ہو لیکن مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔‘
یہ کوہلی کا بطور کپتان پہلا ٹیسٹ میچ تھا اور وہ آسٹریلیا کے پہلی اننگز میں 517 رنز کے جواب میں 115 رنز کی اننگز کھیل چکے تھے تاہم اس روز کی شہ سرخیاں دراصل وراٹ کوہلی اور مچل جانسن کے تکرار کے بارے میں تھیں۔
کوہلی جب کریز پر آئے تو انھوں نے مچل جانسن کی گیند پر ایک سٹریٹ ڈرائیو کھیلی، جو جانسن نے فیلڈ کرنے کے بعد واپس وکٹوں کی جانب پھینکی لیکن یہ وراٹ کو لگ گئی۔
مچل جانسن نے بعد میں کہا کہ انھوں نے رن آؤٹ کرنے کی نیت سے ایسا کیا اور کوہلی کو گیند مارنا ان کا مقصد ہرگز نہیں تھا تاہم کوہلی کو یہ بات بالکل پسند نہیں آئی اور پورے میچ کے دوران ان کی اور جانسن کی تکرار چلتی رہی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’مجھے بہت برا لگا جب اس نے مجھے بال ماری اور میں نے اسے بتا دیا کہ ایسے نہیں چلے گا، اگلی مرتبہ وکٹوں کو مارنے کی کوشش کرنا، میرے جسم کو نہیں۔‘
’میں گراؤنڈ میں کسی کی غیر ضروری باتیں سننے نہیں جاتا، میں کرکٹ کھیلنے جاتا ہوں اور مجھے خود پر پورا اعتماد ہوتا ہے۔ اگر کوئی میری عزت نہ کرے تو میں کسی کی بغیر کسی وجہ کے عزت نہیں کر سکتا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انڈیا کے کسی بھی کپتان نے آسٹریلیا میں جا کر مخصوص آسٹریلوی ’سلیجنگ‘ کا جواب اتنے پرزور انداز میں نہیں دیا تھا اور شاید بطور کرکٹر یہی وراٹ کوہلی کی پہچان بھی ہے: غیر ملکی دوروں پر جا کر وہ کرنا جو ان سے پہلے کسی انڈین کھلاڑی نے نہیں کیا اور بطور کپتان ان کا اوورسیز ریکارڈ اس بات کی گواہی بھی دیتا ہے۔
آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں خاموش کرنے والے کپتان
عام طور پر جتنی بھی ٹیمیں آسٹریلیا جاتی ہیں ان کی شکست کا ایک مخصوص انداز ہوتا ہے یعنی آسٹریلوی بلے باز ایک بڑا ٹوٹل بناتے ہیں اور پھر ان کے بولر شارٹ پچ بولنگ کے ذریعے بلے بازوں کو پریشان کرتے ہیں۔
جو بیٹسمین کچھ دیر ٹک جائے اسے ’سلیج‘ کیا جاتا ہے یعنی مختلف باتوں کے ذریعے اسے ورغلانے کی کوشش کی جاتی ہے اور پھر بھاری مارجن سے فتح حاصل کرنے کے بعد سیریز کے باقی میچوں میں وہ ٹیم سنبھل نہیں پاتی۔
عموماً پاکستانی اور سری لنکن ٹیموں کے ساتھ تو یہی ہوتا آیا ہے لیکن انڈیا کی ٹیم کے بلے باز عموماً اپنی بہتر تکنیک کے باعث آسٹریلیا میں بڑے سکور کرتے آئے ہیں تاہم کسی بھی کپتان یا بلے باز نے آسٹریلوی ٹیم کو گراؤنڈ اور گراؤنڈ سے باہر ایسے جواب نہیں دیا جیسے وراٹ کوہلی نے دیتے آئے ہیں۔
اپنے ایک انٹرویو میں وہ یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ’برصغیر کے ایک کھلاڑی، یا ایک انڈین کھلاڑی کی حیثیت سے عام خیال یہ رہا ہے کہ ہمیں اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے۔ مجھے اس بات کی سمجھ نہیں آتی، اگر ایک ٹیم ذہنی طور پر آپ کو دباؤ میں ڈال رہی ہے تو ہمیں بھی اس کا جواب دینا چاہیے۔‘
لیکن یہی وراٹ کوہلی اس ٹیسٹ میچ سے قبل آسٹریلوی بیٹسمین فلپ ہیوجز کی آخری رسومات میں شرکت کرنے بھی گئے تھے اور سنہ 2019 کے ورلڈ کپ میں جب انڈیا اور آسٹریلیا مدِ مقابل تھے تو انھوں نے گراؤنڈ میں موجود مداحوں کو پابندی سے واپس آنے والے سٹیو سمتھ کے خلاف ہلڑ بازی سے منع کیا تھا اور اس پر سمتھ سے معافی بھی مانگی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
’اگر یہ میرے ساتھ ہوتا تو مجھے بھی برا لگتا اور آپ کبھی بھی کسی کے ساتھ ایسا ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے اس لیے میں نے ان سے معافی مانگی۔‘
آسٹریلیا کو آسٹریلیا میں خاموش کرنے والے وراٹ کوہلی کی کہانی دراصل ایک نوجوان کی اپنے آپ کو بہتر سے بہتر کرنے کی لگن پر مبنی ہے۔
ان کی پہچان صرف ان کی بیٹنگ ہی نہیں بلکہ ان خود اعتمادی بھی ہے جس کی بدولت وہ انڈین کرکٹ کے لیے وہ کچھ کر پائے ہیں جو ان سے پہلے کوئی نہیں کر پایا اور ان کا مزاج ایسا ہے کہ ان سے نفرت کرنے والے بھی ان سے محبت کیے بنا نہیں رہ پاتے۔
’میرے لیے ایک کرکٹ میچ کو مکمل نہ کرنا ایک گناہ جیسا ہے‘
وراٹ کوہلی کی پیدائش انڈیا کے دارالحکومت دہلی میں ہوئی اور انھوں نے آغاز میں اپنی ساری کرکٹ دہلی میں ہی کھیلی اور انڈیا کے یوتھ کرکٹ ڈھانچے میں اپنی پہچان بنائی۔
انٹرنیشنل کرکٹ میں مقبولیت سے پہلے ہی وراٹ کوہلی کا نام مختلف وجوہات کی بنا پر خبروں کی ذینت بنتا رہا۔ ایک وجہ تو ایک نوجوان سٹائلش بلے باز کی رنز بنانے کی بھوک تھی اور انھیں تب سے ہی انڈیا کے مستقبل کا ستارہ قرار دیا جا رہا تھا۔
لیکن دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ دسمبر 2006 میں دہلی کی طرف سے رانجی ٹرافی کے ایک میچ میں اس وقت بیٹنگ کرنے کے لیے گراؤنڈ میں آئے جب گذشتہ روز ان کے والد کی وفات ہو چکی تھی۔
مزید پڑھیے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کوہلی کی ٹیم کو فالو آن کا خطرہ تھا اور انھوں نے اپنی اننگز 40 ناٹ آؤٹ پر دوبارہ شروع کی اور 90 رنز بنا کر آؤٹ ہونے کے فوراً بعد وہ اپنے والد کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے چلے گئے تاہم ان کے اس عمل سے بہت چھوٹی عمر میں ہی ان کی کرکٹ سے محبت، ذہنی پختگی اور ذمہ داری کا احساس عیاں ہو گیا تھا۔
کوہلی کے بقول ’میں نے اپنے کوچ کو کال کی اور کہا کہ میں صبح کھیلنا چاہتا ہوں کیونکہ میرے لیے ایک کرکٹ میچ کو مکمل نہ کرنا ایک گناہ جیسا ہے۔‘
’اس لمحے نے مجھے بطور انسان تبدیل کر دیا۔ میری زندگی میں اس کھیل کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔‘
کوہلی انڈین ڈومیسٹک سیزن میں رنز سکور کرتے رہے اور پھر سنہ 2008 میں جب انڈیا نے انڈر 19 ورلڈ کپ جیتا تو کوہلی ہی اس ٹیم کی کپتانی کر رہے تھے۔
اس کے بعد سے کوہلی نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ ون ڈے، ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی میچوں میں کوہلی کی بیٹنگ اوسط 50 رنز سے اوپر کی ہے۔ وہ اب تک 23 ہزار سے زیادہ انٹرنیشنل رنز بنا چکے ہیں جس میں 70 سنچریاں اور 118 نصف سنچریاں شامل ہیں۔
ان کی عمر اس وقت 33 سال ہے اور ان کی فٹنس لاجواب ہے، اس لیے آنے والے دنوں میں وہ مزید کتنے ریکارڈ توڑیں اس کا اندازہ آپ خود ہی لگا سکتے ہیں لیکن وراٹ کوہلی آج سے نو سال پہلے تک اتنے فٹ نہیں تھے جتنے آج ہیں، ہاں وہ اس وقت بھی ایک بہترین بلے باز تھے لیکن ان کا بلا اتنے تسلسل سے رنز نہیں اگلتا تھا۔ تو پھر سنہ 2012 میں کیا تبدیل ہوا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وراٹ کوہلی کی خوراک اور ورزش میں تبدیلی کی کہانی
سنہ 2012 میں وراٹ کوہلی کی وہ اننگز تو کوئی پاکستانی نہیں بھول پائے گا جب انھوں نے ایشیا کپ کے ایک میچ میں سعید اجمل اور شاہد آفریدی جیسے بولروں کے خلاف بنگلہ دیش میں 330 رنز کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے 183 رنز کی ناقابلِ تسخیر اننگز کھیلی تھی۔
اس سے پہلے کوہلی آسٹریلیا میں ٹیسٹ میچوں میں ایک سنچری بھی سکور کر چکے تھے جب سنجے منجریکر سمیت اکثر ناقدین نے انھیں ٹیسٹ ٹیم سے نکالنے کی بات کی تھی اور شاید وہ میچ بھی کرکٹ کا کوئی مداح نہ بھول پائے جب انڈیا کو کامن ویلتھ بینک سیریز کے فائنل تک پہنچنے کے لیے 40 اووروں میں سری لنکا کے خلاف 321 رنز بنانے تھے اور وراٹ کوہلی کی 86 گیندوں پر 133 رنز کی اننگز کی بدولت انڈیا یہ ہدف 37ویں اوور میں ہی پورا کرنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
ایسے میں کوہلی جب آئی پی ایل کا سیزن کھیلے تو ہر کوئی ان سے بہترین کارکردگی کی امید کر رہا تھا لیکن اس کے برعکس وہ بری طرح ناکام ہوئے۔
کوہلی نے دی کرکٹ منتھلی نامی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’آپ اپنی زندگی میں ایسے مرحلوں سے گزرتے ہیں جب آپ نے یہ فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ کیا آپ معمولی انسان ہی رہنا چاہتے ہیں، کیا آپ بطور کھلاڑی کبھی کبھی ہی پرفارم کرنا چاہتے ہیں، کیا آپ ایک ایورج کرکٹر ہی بننا چاہتے ہیں؟ یا آپ دنیا کے بہترین کھلاڑیوں میں سے ایک بننے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں، تسلسل کے ساتھ رنز کرنا چاہتے ہیں اور اپنے کریئر کو نئی بلندیوں تک لے جانا چاہتے ہیں۔‘
وہ کہتے ہیں کہ ’اس آئی پی ایل کے بعد میں نے اپنے آپ کو آئینے میں دیکھا اور کہا کہ تم اگر ایک انٹرنیشنل کرکٹر ہو تو تم ایسے نہیں دکھ سکتے۔ تمھیں کچھ کرنا ہو گا۔‘
اس آئی پی ایل کے بعد وراٹ کوہلی نے آٹھ ماہ میں 11 کلو وزن کم کیا۔ ’میرا وزن اس وقت 84 کلو تھا، جو کم ہو کر 73 کلو ہوا۔ مجھ میں مزید پھرتی آنے لگی، مجھے بیٹنگ کے دوران زیادہ وقت ملنے لگا اور اس کے بعد سے میرا کھیل مکمل طور پر تبدیل ہو گیا۔‘
فارم میں حالیہ گراوٹ اور تنقید کا سامنا
اس وقت وراٹ کوہلی اپنے کریئر کے اس حصے سے گزر رہے ہیں جو ہر بلے باز پر آتا ہے یعنی ان کی فارم میں گراوٹ واقع ہو چکی ہے لیکن وہ اتنے بہترین بلے باز ہیں کہ جہاں دیگر کھلاڑیوں کے لیے اس بات کا مطلب ان کا رنز سکور کرنے کا فقدان ہوتا ہے وہیں وراٹ کے لیے اس مطلب یہ ہے کہ انھوں نے ایک عرصے سے سنچری سکور نہیں کی۔
اس کے علاوہ وائٹ بال فارمیٹ میں ان کی کپتانی بھی تنقید کی زد میں رہی ہے۔ انڈیا ان کی کپتانی میں 2019 کے ورلڈ کپ کا سیمی فائنل ہاری تھی اور اس ٹورنامنٹ میں بھی انڈیا پہلے ہی راؤنڈ میں باہر ہونے کے قریب ہے۔
ایسے میں بھی وراٹ میڈیا میں ایمانداری سے سچی بات کہنے سے نہیں کترائے۔
انھوں نے حال میں اپنے ساتھی محمد شامی پر مذہب کی بنیاد پر ہونے والی تنقید کی پرزور مذمت کی۔ یہ ایک انڈیا کے موجودہ ماحول کے اعتبار سے ایک انتہائی دلیرانہ بیان تھا اور شاید یہی کوہلی کی پہچان بھی ہے۔











