کوہلی کا ٹی 20 کی کپتانی چھوڑنے کا فیصلہ، نیا کپتان کون ہوگا؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کچھ دنوں سے ایسی افواہیں سامنے آ رہی تھیں کہ وراٹ کوہلی انڈین کرکٹ ٹیم کی کپتانی چھوڑ رہے ہیں۔ جمعرات کو کوہلی نے خود ہی ان افواہوں کو سوشل میڈیا کے ذریعے ایک پیغام سے ختم کر ڈالا۔ ٹیم انڈیا کے کپتان نے ایک ٹویٹ میں بتایا کہ وہ کپتانی چھوڑ رہے ہیں لیکن صرف ٹی 20 کے فارمیٹ کی، باقی دو فارمیٹ یعنی ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں وہ کپتان رہیں گے۔
انھوں نے مزید کہا کہ وہ ٹیسٹ اور ایک روزہ کرکٹ پر توجہ مرکوز کرنا چاہتے ہیں۔
انھوں نے ٹوئٹر پر اپنی ایک لمبی پوسٹ میں لکھا کہ ’مجھے نہ صرف انڈین ٹیم کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہے بلکہ میں نے ٹیم کی اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے رہنمائی بھی کی ہے۔ وہ تمام لوگ جنھوں نے بطور انڈین ٹیم کے کپتان کے میرے سفر کے دوران میرا ساتھ دیا، میں ان کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ میں ان لوگوں کے بغیر یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ میری ٹیم کے ساتھی، سپورٹ سٹاف، سلیکشن کمیٹی، میرے کوچ اور ہر کوئی انڈین جس نے ہماری جیت کے لیے دعا کی۔‘
اپنی ٹویٹ میں وراٹ نے کام کے بوجھ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے طویل عرصے سے ٹیم کی نمائندگی اور قیادت کی ہے۔
انھوں نے لکھا کہ ’کام کے بوجھ کو سمجھنا بہت ضروری ہے اور پچھلے 8،9 سالوں سے مسلسل تینوں فارمیٹ میں کھیلنے کے بہت زیادہ ورک لوڈ کو مدِ نظر رکھتے ہوئے اور 5،6 سال تک مسلسل کپتانی کرنے کے بعد، میں محسوس کرتا ہوں کہ مجھے اپنے آپ کو ٹیسٹ اور ایک روزہ میچوں میں انڈین ٹیم کی کپتانی کے لیے تیار کرنے کے لیے مکمل جگہ دینی چاہیے۔ میں نے ٹی 20 کے کپتان کی حیثیت سے ٹیم کو سب کچھ دیا ہے اور میں ٹی 20 ٹیم کو بطور ایک بلے باز آگے بھی یہ سب دیتا رہوں گا۔‘
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 1
وراٹ کوہلی نے کہا کہ انھوں نے یہ فیصلہ اپنی ٹیم کے ساتھیوں، بشمول کوچ روی شاستری اور روہت شرما سے مشورے کے بعد کیا ہے۔
انھوں نے لکھا کہ ’یقینی طور پر ایسے فیصلے پر پہنچنے میں بہت وقت لگا ہے۔ بہت سوچ بچار اور قریبی ساتھیوں، روی بھائی اور روہت، سے بات چیت کے بعد، جو میرے لیڈرشپ گروپ کا اہم حصہ رہے ہیں، میں نے فیصلہ کیا کہ ہے کہ میں اکتوبر میں دبئی میں کھیلے جانے والے ٹی 20 ورلڈ کپ کے بعد ٹی 20 کی کپتانی چھوڑ دوں گا۔ میں نے اس مسئلے پر سیکرٹری جے شاہ اور بی سی سی آئی کے صدر سورو گنگولی اور تمام سلیکٹرز سے بھی بات کی ہے۔ میں اپنی بہترین صلاحیت کے مطابق انڈین کرکٹ اور انڈین ٹیم کے لیے خدمات جاری رکھوں گا۔‘
وراٹ نے کام کے بوجھ کا حوالہ دیا ہے اور پچھلے کچھ دنوں سے یہ ان کی بیٹنگ میں بھی واضح طور پر نظر آرہا ہے۔ کورونا وبائی مرض کے بعد سے ان کا بیٹ کم و بیش خاموش ہی ہے۔ انھوں نے آخری سنچری 2019 میں بنائی تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
وراٹ بطور کپتان
کافی عرصے سے ایسی قیاس آرائیاں ہو رہی تھیں کہ وراٹ کوہلی کپتانی چھوڑ رہے ہیں۔ حالانکہ اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ وہ ٹیسٹ فارمیٹ میں کپتان رہیں گے کیونکہ اعداد و شمار کے مطابق وہ ٹیسٹ کرکٹ میں انڈیا کے سب سے کامیاب کپتان ہیں۔
وراٹ نے 65 ٹیسٹ میچوں میں انڈیا کی کپتانی کی ہے اور یہ نمبر ہی کسی دوسرے کپتان سے زیادہ ہے۔ ٹیسٹ میچوں میں کامیابی کے حوالے سے بھی وہ سب سے آگے ہے۔ بھارت نے ان کی قیادت میں 38 ٹیسٹ جیتے ہیں۔ دوسرے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان مہندر سنگھ دھونی ہیں جنھوں نے 60 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کرتے ہوئے 27 جیتے ہیں۔
لیکن دھونی کی کپتانی کے بعد ٹیم انڈیا نے ویراٹ کی کپتانی میں اب تک ون ڈے اور ٹی 20 میں آئی سی سی کا ایک بھی ٹورنامنٹ نہیں جیتا۔
حال ہی میں انڈین ٹیم آئی سی سی ورلڈ چیمپئن شپ کے فائنل میں نیوزی لینڈ سے ہار گئی تھی۔ اس سے پہلے ٹیم انڈیا 2019 کا ورلڈ کپ اور 2017 میں آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی نہیں جیت سکی تھی۔ انڈیا نے آخری بار آٹھ سال قبل 2013 میں آئی سی سی ٹرافی جیتی تھی۔
کچھ عرصہ پہلے بھی سوشل میڈیا پر وراٹ کوہلی کے کپتانی چھوڑنے کی بات آئی تھی، جس کی بی سی سی آئی کے سیکرٹری راجیو شکلا نے تردید کی تھی۔
تاہم وراٹ کوہلی کے اس ٹویٹ کے بعد راجیو شکلا نے کہا ہے کہ یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے اور وہ اس کا احترام کرتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کپتان کوہلی کے ریکارڈ
وراٹ کوہلی نے بین الاقوامی کرکٹ میں 23 ہزار سے زیادہ رنز بنائے ہیں اور ان کی تینوں فارمیٹس میں 50 سے زیادہ کی بیٹنگ اوسط ہے۔
وراٹ کوہلی نے اب تک 90 ٹی 20 میچوں میں 52.65 کی اوسط سے 3،159 رنز بنائے ہیں جن میں 28 نصف سنچریاں بھی شامل ہیں۔ ون ڈے میں انھوں نے 43 سنچریاں اور 59.07 کی اوسط سے 12169 رنز بنائے ہیں۔ انھوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 27 سنچریاں اور 51.09 کی اوسط سے 7765 رنز بنائے ہیں۔
وراٹ کوہلی مہندرا سنگھ دھونی کے بعد ٹی 20 میں انڈیا کے دوسرے کامیاب ترین کپتان ہیں۔
یہ بھی پڑھیئے
وراٹ کوہلی اب تک 45 ٹی 20 میچوں میں انڈیا کی کپتانی کر چکے ہیں۔ اس دوران ٹیم نے 27 میچ جیتے ہیں اور 14 ہارے ہیں۔ دو میچ ٹائی میں ختم ہوئے اور بے نتیجہ رہے۔
دھونی نے 72 ٹی 20 میچوں میں انڈیا کی کپتانی کی، جس میں سے 42 جیتے اور 28 ہارے ہیں۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام, 2
اب کپتان کون ہو گا؟
وراٹ کے جانشین کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے لیکن سب سے زیادہ قیاس آرائیاں روہت شرما کے نام کے بارے میں کی جا رہی ہیں۔
وراٹ کوہلی کی جگہ روہت شرما کو ون ڈے اور ٹی 20 کی کپتانی سونپنے کا مطالبہ ایک عرصے سے زور پکڑ رہا تھا۔
کئی سابق کرکٹرز نے بھی اس کی تائید کی ہے۔ یہ مطالبہ دو سال قبل 2019 ورلڈ کپ سیمی فائنل میں شکست کے بعد بھی کیا گیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
بی سی سی آئی نے ابھی تک کوہلی کے جانشین کا اعلان نہیں کیا ہے، لیکن ایک طویل عرصے سے اس بات کا مطالبہ ضرور کیا جاتا رہا ہے کہ مختلف فارمیٹس کے کپتان مختلف ہونے چاہیئں اور روہت شرما کو کرکٹ کے چھوٹے فارمیٹ کی کپتانی دی جائے۔ اسی لیے ہی یہ قیاس آرائی کی جا رہی ہے کہ روہت شرما ہی ٹی 20 ٹیم کے نئے کپتان بن سکتے ہیں۔
روہت اب تک 19 ٹی 20 میچوں میں انڈیا کی کپتانی کر چکے ہیں۔ ان میں سے انڈیا نے 15 جیتے اور صرف 4 ہارے ہیں۔ اگر ہم روہت کی بیٹنگ کی بات کریں تو 111 ٹی 20 میچوں میں ان کے بیٹ نے 32.54 کی اوسط سے 2864 رنز بنائے ہیں جن میں چار سنچریاں اور 22 نصف سنچریاں شامل ہیں۔










