ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے انڈیا کی واپسی اور کرکٹ کے جنونی مداح: شائقین کے عدم برداشت کے رویے کا کرکٹ کی کمرشلائزیشن سے کیا تعلق ہے؟

کوہلی اور شامی

،تصویر کا ذریعہMatthew Lewis-ICC

    • مصنف, عارف شمیم
    • عہدہ, بی بی سی اردو، لندن

فرق کچھ اس طرح ہے۔

سنہ 2009 میں جب انڈیا کی ٹیم انگلینڈ میں ہونے والے آئی سی سی ورلڈ کپ میں اپنے ٹائٹل کا دفاع نہ کر سکی اور فائنل پاکستان نے سری لنکا کو ہرا کر جیت لیا تو انڈین شائقین نے غصے میں آ کر کپتان مہندر سنگھ دھونی کے پتلے جلائے۔ اس دھونی کے جو کہ آج تک بھی انڈیا کے سب سے کامیاب ترین کپتان کہلائے جاتے ہیں۔

اب آتے ہیں 2021 میں متحدہ عرب امارات میں ہونے والے ساتویں آئی سی سی ورلڈ کپ کی طرف۔ اس ورلڈ کپ میں اپنے پہلے ہی میچ میں ورات کوہلی کی قیادت میں کھیلنے والی انڈیا کی ٹیم پاکستان سے جب 10 وکٹوں سے ہار گئی تو انڈیا کے الیکٹرانک میڈیا میں تو جو متوقع ردِ عمل ہونا ہی تھا، سوشل میڈیا میں ایک طوفان برپا ہو گیا اور اس طوفانِ بدتمیزی کا نشانہ بنے فاسٹ بولر محمد شامی، جن کو میچ کے 18 ویں اوور میں 17 رنز پڑے۔

کچھ نے انھیں غدار کہا تو کچھ نے بکاؤ، کچھ نے کہا کہ پاکستان چلے جاؤ۔ یہ ٹرولنگ ایسا رخ اختیار کر گئی کہ سابق کھلاڑیوں کو شامی کے دفاع میں بولنا پڑا۔ لیکن بعد میں جب کپتان ورات کوہلی کو لگا کہ بہت ہو گیا تو انھوں نے اپنے کھلاڑی کی حمایت میں پریس کانفرنس کے دوران سخت الفاظ استعمال کیے۔ انھوں نے ٹرولز کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اس کی ایک اچھی وجہ ہے کہ ہم میدان میں کھیل رہے ہیں سوشل میڈیا پر بیٹھے ہوئے وہ لوگ نہیں، جن میں اتنا دم نہیں کہ کسی فرد سے سامنے آ کر بات کر سکیں۔

انھوں نے ان لوگوں پر برہمی کا اظہار کیا جو شامی کو ان کے مذہب کی وجہ سے نشانہ بنا رہے تھے۔

کوہلی کے شامی کے دفاع میں آنے کو جہاں کئی لوگوں نے سراہا اور کپتان کے اپنے کھلاڑی کے ساتھ کھڑا ہونے پر تعریف کی وہاں ایسے بھی ٹرول تھے جو کوہلی کے خلاف بھی متحرک ہو گئے اور ایک ٹرول نے تو کوہلی اور انوشکا شرما کی نو ماہ کی بیٹی کو مبینہ طور پر ریپ کی دھمکی دے دی۔

دہلی کمیشن فار ویمن نے میڈیا پر رپورٹ ہونے والی اس میبنہ دھمکی پر سوموٹو لیتے ہوئے کارروائی شروع کر دی ہے اور پولیس کو حکم دیا ہے کہ وہ ٹرول کی شناخت کر کے اس کو گرفتار کرے۔ دوسری طرف انڈیا میں کئی جگہ مسلمانوں کے خلاف تشدد کے واقعات کی بھی خبریں آئیں اور کچھ مسلمانوں کو اس لیے گرفتار بھی کر لیا گیا کہ وہ مبینہ طور پر پاکستان کی جیت پر جشن منا رہے تھے۔

شامی

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنفاسٹ بولر محمد شامی کو انڈیا پاکستان میچ کے بعد بہت بری طرح ٹرول کیا گیا ہے

نیوزی لینڈ کے افغانستان کو ہرانے کے بعد انڈیا کی سیمی فائنل تک پہنچنے کی تھوڑی بہت جو امید تھی اب وہ بھی ختم ہو چکی ہے۔ اسے بس گروپ سٹیج کا ٹورنامنٹ کا آخری میچ نمبیا کے ساتھ کھیلنا ہے اور واپس جانا ہے۔ انڈین اور پاکستانی سوشل میڈیا انڈیا کے لیے ٹورنامنٹ ختم ہونے پر بہت متحرک ہے۔ کہیں غم و غصہ ہے تو کہیں طنز و مزاح۔ لیکن انڈیا میں اس کا ردِ عمل انڈیا کی پاکستان سے ٹورنامنٹ کی پہلی ہار کے بعد ہی سامنے آ گیا تھا۔

یہ بات درست ہے کہ تقریباً 29 برسوں میں پاکستان کی انڈیا پر یہ سب سے بڑی فتح تھی اور ورلڈ کپ مقابلوں میں پہلی مرتبہ پاکستان نے انڈیا کو ہرایا ہے۔ اس کا ردِ عمل انڈیا جیسی کرکٹ کی دیوانی قوم سے ذرا زیادہ متوقع تھا، لیکن اتنا نہیں جتنا شدید نظر آیا۔ آخر کیا وجہ ہے کہ کرکٹ میں ایک ہار سے لوگ ایک دوسرے کی جان کے دشمن ہو جاتے ہیں اور پل بھر میں ہیرو کو زیرو بنا دیتے ہیں۔ پہلے بھی کرکٹ ہوتی تھی، پہلے بھی ایک ٹیم جیتتی تھی اور ایک ہارتی تھی۔

آخر کب یہ کرکٹ کا جذبہ ایک انتہائی جنون کی شکل اختیار کر گیا۔ یہی سوال انڈیا کے سابق آل راؤنڈر عرفان پٹھان نے بھی ایک ٹویٹ میں اٹھایا۔

وہ کہتے ہیں کہ ’میں فیلڈ میں انڈیا اور پاکستان کے درمیان ان مقابلوں کا حصہ رہا ہوں جو ہم ہارے تھے، لیکن مجھے کسی نے کبھی نہیں کہا کہ پاکستان چلے جاؤ! میں کچھ سال پرانے انڈیا کی بات کر رہا ہوں۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 1
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 1

اگر پہلے نہیں ہوتا تھا تو اب اچانک کیا ہو گیا؟ کیوں اچانک شائقین میں تحمل اور برداشت ختم ہوتی نظر آ رہی ہے؟

پاکستان ٹیم کے سابق سپورٹس سائیکالوجسٹ اور کشمیر پریمیئر لیگ کے موجودہ چیف آپریٹنگ آفیسر تیمور علی خان کی ایک دلچسپ تھیوری ہے۔ وہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ اس کی بہت بڑی وجہ کھیل کی کمرشلائزیشن بھی بتاتے ہیں۔

جنٹیلمینز گیم یا پیسہ کمانے کی ایک صنعت

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنپاکستان اور انڈیا کے درمیان میچ میچ نہیں رہتا بلکہ ایک طرح کی جنگ بن جاتا ہے

تیمور علی خان کہتے ہیں ’دیکھیں میں اسے بہت آسان الفاظ میں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ یہ بالکل اس طرح ہے کہ جیسے دنیا میں سب سے زیادہ منافع جنگوں سے کمایا جاتا ہے۔ اگر اس طرح دیکھا جائے تو کوئی بھی امن نہیں چاہتا۔ بالکل اسی طرح اگر سپورٹس میں سب اچھا رہے، ہر کوئی ایک دوسرے سے تمیز اور پیار سے ملے تو مقابلے کا لیول ختم ہو جائے گا، کمرشلائزیشن ختم ہو جائے گی۔ سارے سرمایہ دار تنازع چاہتے ہیں کیونکہ یہ بکتا ہے۔ آج آپ مجھ سے انٹرویو ہی اس لیے کر رہے ہیں کہ یہ تنازع کھڑا ہوا ہے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ہم اس طرح کے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں تنازع بکتا ہے۔ اسی طرح سپورٹس کی اسٹیبلشمنٹ بھی تنازعے چاہتی ہے کیونکہ وہ کمرشلائزیشن کو اٹریکٹ کرتے ہیں۔‘

سنہ 2019 تک کوچ مکی آرتھر کے ساتھ پاکستان کے سپورٹس سائیکالوجسٹ رہنے والے تیمور سائیکالوجی کی ایک اصطلاح بتاتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’ایک چیز ہوتی ہے ایس ایل ایس جس کا مطلب ہے ’یو سی، یو لِسن اینڈ یو سے‘ (آپ دیکھیں، آپ سنیں اور آپ کہیں)، یعنی آپ مثبت دیکھیں، مثبت سنیں اور مثبت کہیں۔ کمرشلائزیشن میں اسے اس طرح سمجھا جاتا ہے کہ یو شو دیم نیگیٹیویٹی (آپ انھیں منفیت دکھائیں)، یو میک دیم ہیئر نیگیٹیوٹی (آپ انھیں منفیت سننے کو دیں)، اور یو میک دیم سے نیگیٹیوٹی (اور آپ انھیں منفی چیزیں کہنے پر مجبور کریں)۔

وہ کہتے ہیں کہ کرکٹ یا کسی بھی سپورٹ میں سب سے بڑے سٹیک ہولڈر مداح ہوتے ہیں اور جب یہ مقابلہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان ہو جو ایک دوسرے کے ساتھ سیریز بھی نہیں کھیلتے اور صرف آئی سی سی مقابلوں میں ہی ایک دوسرے کا سامنا کرتے ہیں، تو سٹیکس اور بڑھ جاتے ہیں۔

تو کیا مداح بھی کمرشلائزیشن کی لہر میں بہک جاتے ہیں؟

بی بی سی اردو کے سپورٹس رپورٹر اور تجزیہ کار عبدالرشید شکور بھی اس سے اتفاق کرتے ہیں۔ کئی دہائیوں سے کرکٹ کو کوور کرنے والے شکور کے مطابق پہلے کہا جاتا تھا کہ کرکٹ ایک جنٹیلمینز گیم ہے، پھر آیا کہ نہیں اب یہ ایک انڈسٹری بن چکی ہے، اور اب اس میں اتنا پیسہ آ گیا ہے کہ یہ ایک تجارت بن گئی ہے۔

’آئی پی ایل کی مثال لیں وہ کہاں سے شروع ہوئی تھی اور گزشتہ دنوں اس کی ایک فرینچائز سات ہزار کروڑ انڈین روپے میں بکی۔ اس طرح دیکھیں کہ کرکٹ اب کس ڈگر پر جا رہی ہے اور اسی سمت میں شائقین بھی جا رہے ہیں اور اب وہ یہ دیکھ ہی نہیں رہے کہ اخلاقی اقدار کیا ہوتی ہیں، ان کی اپنی ذمہ داری کیا ہے۔‘

اصل چیز کرکٹ ہے

X پوسٹ نظرانداز کریں, 2
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 2

تیمور علی کہتے ہیں کہ کھیل کی ایک خوبصورتی یہ بھی ہے کہ لوگ اس سے جذباتی طور پر جُڑ جاتے ہیں۔ ’میں اس کی مثال اس طرح دیتا ہوں کہ کرکٹ اب وہ پرانے زمانے کی جنٹیلمینز کرکٹ نہیں رہی۔ یہ اب ساری کمرشلائزیشن کے متعلق ہے، پیسے کے متعلق ہے کہ کون سا بورڈ دوسرے سے زیادہ امیر ہے۔ رمیز راجہ نے حال ہی میں یہی بات کہی تھی نہ کہ اگر آج ہمارے بورڈ کے پاس پیسہ ہوتا، ہماری ٹیم نمبر ون ہوتی تو میں دیکھتا کہ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیمیں کیسے واپس جاتیں۔‘

تیمور کے مطابق جب وہ پاکستان ٹیم کے ساتھ تھے تو اس وقت مکی آرتھر پاکستان ٹیم کے کوچ تھے اور انھوں نے اس چیز کو لاگو کروایا تھا کہ ورلڈ کپ کے دوران اور اس سے پہلے کوئی کھلاڑی اپنے سوشل میڈیا ہینڈلز کو استعمال نہیں کرے گا۔

’کھلاڑی بہت زیادہ حساس ہوتے ہیں، ہر پرفارمر بہت حساس ہوتا ہے چاہے وہ آرٹسٹ ہو یا کھلاڑی۔ کیونکہ ان کے لیے سب سے بڑی چیز یا ’فوڈ‘ لوگوں کی طرف سے کی گئی تعریف ہوتی ہے، ان کے کھیل کو سراہنا ہوتا ہے۔

’جب کرکٹ گراؤنڈ میں کسی کھلاڑی کے پیچھے ہجوم شور مچا رہا ہوتا ہے تو اس کھلاڑی کو جو ایڈریلین رش ملتا ہے وہ بالکل ایک انجیکشن کی طرح ہوتا ہے، جو فوراً اثر کرتا ہے۔ لیکن اسی طرح اگر کھلاڑی پرفارم نہیں کرتا تو وہی رش شائقین میں بھی آتا ہے اور وہ ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔ اب یہ کھلاڑی پر منحصر ہے کہ وہ اسے ایک پروفیشنل کی طرح کیسے لیتا ہے۔‘

آئی پی ایل

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈیا کی کرکٹ لیگ آئی پی ایل میں پہلی بار چیئر لیڈرز دیکھی گئیں

تو کیا یہ سمجھا جائے کہ جس طرح فرینچائز یا کرکٹ بورڈ پیسہ کمانے میں لگے ہوئے ہیں اسی طرح شائقین بھی ایک ان دیکھے، ان کہے جنون میں مبتلا ہو چکے ہیں جس میں ’جیت اچھے کی نہیں بس میری ہو‘ کا اصول لاگو ہوتا ہے۔ اور جو کھلاڑی ایسا کرنے میں ناکام رہے وہ ہم میں سے نہیں، برا ہے، بلکہ ’غدار‘ ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی سکالر اور استاد نبیہہ شہرام اس کے کئی سماجی پہلو دیکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انڈیا اور پاکستان میں جتنی کرکٹ کو سپانشرشپ ملتی ہے اتنی کسی اور کھیل کو نہیں ملتی۔

’آپ دنیا کی بڑی سے بڑی کارپوریشنز کو اٹھا کر دیکھ لیں، اشتہارات اٹھا کر دیکھ لیں، سپانسرز اٹھا کر دیکھ لیں کہ جب سپورٹس کا ایونٹ آتا ہے تو ایسا بخار بھی دنیا میں کہیں نہیں ہوتا جس طرح کا بخار سپورٹس کے ایونٹ پر ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ بہت سے ملکوں میں اسے سفارتکاری کی ایک قسم قرار دیا گیا ہے۔ آپ کو پاکستان انڈیا کی کرکٹ ڈپلومیسی تو یاد ہی ہو گی۔ یہ ہے سپورٹس کی طاقت۔‘

سپورٹس میںحب الوطنی اور مذہب کا تڑکہ

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہReuters

نبیہہ شہرام کہتی ہیں کہ ایک اور اہم چیز یہ ہے کہ ہم نے سپورٹس کو سپورٹس نہیں رہنے دیا، اس میں حب الوطنی کا تڑکہ بھی لگا دیا ہے۔

’سپورٹس کا آئیکون یا سٹار اس وقت تک نہیں بکتا جب تک ہم اس کے ساتھ قومی گیت یا وطن سے محبت نہیں لگا دیتے۔ ایسا ’جذبہ، جنون‘ اور جوش اور ولولہ ڈالتے ہیں کہ وہ کسی ہاٹ سیلنگ کیک کی طرح نظر آئے۔ اس کے بعد ایسی ’ہائپ‘ پیدا کر دی جاتی ہے یا بڑھاوا دیا جاتا ہے کہ کرکٹر کی پرفامرنس میرٹ کے لینز میں رہنے کی بجائے پیچھے چلی جاتی ہے اور سارے کمرشل ازم کے ٹیگز جو اس کے ساتھ لگائے گئے ہوتے ہیں، جن میں یوفوریہ بھی ہے، حب الوطنی بھی ہے اور مذہب بھی ہے، وہ ساری چیزیں اس میں ایڈ اِن ہو جاتی ہیں۔‘

نبیہہ شہرام بطور ایک سوشیالوجسٹ سمجھتی ہیں کہ کرکٹ اب ’کھیلنے‘ والی کرکٹ کی بجائے ’دکھانے‘ والی کرکٹ بنا دی گئی ہے۔

’یہ کرکٹ بہت گلیمرس ہے، جس کے ساتھ آپ نے حب الوطنی اور مذہب سے پیار بھی ڈال دیا ہے۔ یہاں تک کہ پاکستان کے وزیرِ داخلہ اسے کرکٹ کا میچ نہیں بلکہ کفر اور اسلام کی جنگ تک سمجھتے ہیں اور انڈیا پاکستان میچ کے بعد انھوں نے کہا تھا کہ یہ اسلام کی فتح ہے۔‘

جب پاکستان میں ایک وزیر نے اسے کفر اور اسلام کی جنگ کہہ دیا تو پھر انڈیا کیسے پیچھے رہ جاتا۔ آخر میچ تو دونوں کا ہی ہے نا۔ انڈیا میں انتہا پسند تنظیم سے تعلق رکھنے والے ایک صارف نے، جو اکثر مسلمان مخالف ٹویٹس کرتے رہتے ہیں، پاکستانی کمنٹیٹر بازد خان کی ایک ایسی بات کو پکڑا کہ تھوڑی بہت اردو جاننے والا شخص بھی ہنسے بغیر نہ رہ سکے۔

ہوا یوں کہ جب پاکستان کی جیت کے بعد بازد پاکستانی کپتان بابر اعظم کا انٹرویو کر رہے تھے تو انھوں نے کہا کہ بالآخر پاکستان نے ورلڈ کپ میں انڈیا کو ہرا دیا۔ چلیں ’کفر تو ٹوٹ گیا۔‘ انڈین صارف ابھیجیت نے بغیر سوچے یا جان بوجھ کر اس کا مطلب کچھ یوں نکالا کہ کافر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔

ابھیجیت کی اس ٹویٹ کو ہزار سے زیادہ مرتبہ ری ٹویٹ کیا گیا، تین سو زیادہ مرتبہ کوٹ کیا گیا اور ان کی لگائی ہوئی بازد خان کی ویڈیو کو ایک لاکھ سے زیادہ مرتبہ دیکھا گیا۔ وہ جو فیک نیوز یا نفرت پھیلانا چاہتے تھے پھیلا چکے ہوں گے اور شاید ان کے فرشتوں کو بھی پتہ نہ ہو کہ کفر ٹوٹنے کا مطلب کیا ہے اور یہ کہ کفر ٹوٹنے پر شاید سب سے عمدہ شعر ایک ہندو شاعر پنڈت دیا شنکر نسیم نے ہی کہا تھا اور وہ ہے ’لائے اس بت کو التجا کر کے، کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔‘

لیکن ابھیجیت صاحب تو اسے کفر اور اسلام کی جنگ سمجھتے رہے۔

ماضی کی مثالیں

یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ کسی کھلاڑی کو اس کے رنگ، نسل یا مذہب کی وجہ سے نشانہ بنایا گیا ہو۔ ماضی میں بھی ایسے بہت سے واقعات ہو چکے ہیں لیکن فرق یہ ہے کہ ماضی میں سوشل میڈیا نہیں ہوتا تھا۔ اب سوشل میڈیا کی بدولت ہزاروں میل دور بیٹھا ہوا شخص بھی آپ کی ساکھ اور آپ کو ذہنی طور اتنا ہی نقصان پہنچا سکتا ہے جتنا کہ قریب آ کر آپ پر حملہ کرنے والا۔ ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ یہ اب مزید پرتشدد اور غلیظ ہو گیا ہے کیونکہ کچھ پتہ نہیں کہ گالیاں بکنے والا اور دھمکیاں دینے والا شخص کون ہے۔

عبدالرشید شکور کے مطابق نسلی تعصب اور نسلی تفریق اتنا ہی بڑا ناسور ہے جتنا کرکٹ کے اندر میچ فکسنگ، سپاٹ فکسنگ یا کرپشن ہے اور اس کے کھیلوں کی دنیا میں بہت مہلک اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات بہت زیادہ ہیں۔ وہ جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والے کھلاڑی باسل ڈی ڈی اولیویرا کے تنازعے کی مثال دیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ باسل کو 1968 میں جب انگلینڈ کے سکواڈ میں شامل کیا گیا تو جنوبی افریقہ نے انھیں نکالنے کا مطالبہ کیا اور بالآخر جب جنوبی افریقہ کے صدر نے بھی ان کو نکالنے پر اصرار کیا تو انگلینڈ نے اپنا دورہ ہی منسوخ کر دیا اور جنوبی افریقہ کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگی جو 22 سال رہی۔

اسی طرح ڈیرن لیہمن نے سری لنکا کے کھلاڑیوں پر نسلی تعصب پر مبنی فقرے کسے، ڈین جونز نے ہاشم آملہ کو ان کی داڑھی کی وجہ سے دہشت گرد کہا۔ معین علی کے بقول ایشز سیریز کے دوران ایک کھلاڑی نے انھیں اسامہ بن لادن کہا اور ہربھجن سنگھ نے اینڈریو سائمن کو بندر کہہ ڈالا۔ کالن کرافٹ بھی ایک مرتبہ جب جنوبی افریقہ کرکٹ کھیلنے گئے تو انھیں ٹرین سے نیچے اتار دیا گیا تھا۔ حال ہی میں سرفراز اور ایک جنوبی افریقی کرکٹر کے درمیان بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہوا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

عبدالرشید شکور سمجھتے ہیں کہ صرف قانون سازی کے ذریعے ہی اس طرح کے رویوں کو ختم کیا جا سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ جب کھلاڑی فیلڈ میں ایک دوسرے کے متعلق ریمارکس دیتے ہیں، وہ تو گرفت میں آ جاتے ہیں۔ ان کے بورڈ ہیں، آئی سی سی ہے، قوانین ہیں اور وہ پکڑ لیتے ہیں۔ لیکن سوشل میڈیا کا کیا کریں، جو ایک ایسا جنگل ہے جہاں ہر شخص اپنے جملوں سے، پوسٹ سے دوسروں کا شکار کر رہا ہوتا ہے۔

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشنسنہ 2004 میں پرتھ کے میدان میں آسٹریلیا کے ہاتھوں ٹیسٹ میچ میں 491 کی شکست کے بعد پاکستانی شائقین کا غصہ

سپورٹس خصوصاً کرکٹ میں دوسرے کھلاڑی کو تنگ کرنے یا فقرے کسنے کا کلچر بہت پرانا ہے، ایک ٹیم کے کھلاڑی دوسرے کو غصہ دلا کر غلط شاٹ کھیلنے یا غلط بال کرانے پر مجبور کر دیتے تھے، لیکن ان میں سے زیادہ تر جنس اور نسل پر مبنی نہیں ہوتے تھے اور اگر ہوتے بھی تھے تو پھر کھلاڑیوں کو ان کی قیمت بھی چکانی پڑتی تھی۔

نبیہہ شہرام کہتی ہیں کہ اگر ان رویوں پر تحقیق کی جائے اور انھیں معاشرے کے نظریے سے دیکھا جائے تو ہم پر کئی چیزیں واضح ہو جائیں گی۔ ان کے مطابق اس طرح کے رویے ایک دم نہیں آتے بلکہ بچپن سے ہمیں سکھائے جاتے ہیں، ہمارے اندر موجود ہوتے ہیں۔

’سب سے پہلے تو یہ دیکھنا ہوتا ہے کہ ہماری سوسائٹی کنسٹرکٹ کس چیز پر ہوئی ہے۔ ہم کسی بھی ایک سوسائٹی کا دوسری سوسائٹی سے موازنہ نہیں کر سکتے، کیونکہ ہر معاشرے کے انفرادی ایلیمنٹس ہوتے ہیں جو اس کے ’ٹھیک‘ اور ’غلط‘ ہیں۔ اب کچھ چیزیں ایسی ہیں جو کسی بھی شخص کی پرائمری سوشلائزیشن کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں کہ وہ کتنا ان چیزوں کے خلاف مزاحمت کا کلچر دیکھ رہا ہے، کن بنیادوں پر اس کے والدین ایک دوسرے رنگ، مذہب اور دوسری نسلی شناخت کے لوگوں کے ساتھ مختلف رویہ رکھتے ہیں۔ اگر اس میں کسی سیاہ فام شخص کو مجرم کہا جا رہا ہے اور کسی دوسری نسل کی اقلیت کو صفائی کے کام کرنے والا کہا جا رہا ہے یا ایک خاص مذہب کے لوگوں کو ایک ملک میں غدار کہا جا رہا ہے تو اگر انھیں غور سے دیکھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ شائقین یا کھیل دیکھنے والوں کے نارمز یا رویے بدلے نہیں ہیں۔

’اس لیے جیسے ہی کھلاڑی یا کوئی اور کسی مشکل پوزیشن میں آتا ہے تو پھر یہ سارے کے سارے سماجی رویے ایک دم سے باہر آ جاتے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ رویے صرف اس ایک کھلاڑی کے لیے بنتے ہیں بلکہ یہ ہمیشہ ہی یہاں ہوتے ہیں، معاشرے کا حصہ ہوتے ہیں اور اس کے ساتھ جڑے سٹیوریو ٹائپس اور نارمز کا بھی اور وہ کافی حد تک قبول شدہ رویے ہوتے ہیں۔‘

نبیہہ اپنے بچپن کی ایک مثال دیتے ہوئے کہتی ہیں کہ ’جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو ایک کھیل میں ہر ایک کو ایک ایک ملک الاٹ ہونا ہوتا تھا۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب کسی کو انڈیا الاٹ ہونے لگتا تھا تو وہ رونا شروع ہو جاتا تھا کہ میں نے انڈیا نہیں لینا۔ اگرچہ اس وقت ہمیں کچھ نہیں پتہ تھا لیکن پھر بھی دماغ میں ایک کنسٹرکٹ بٹھا دیا گیا تھا کہ انڈین ہونا ہمارے لیے اچھی بات نہیں ہے۔ یعنی کہ ایک کیپیٹل اٹیچ کر دیا گیا تھا اور وہ تھا منفی کیپیٹل۔ اب یہ نہیں ہو سکتا ہے کہ آپ سلیبس میں اتنی پولرائزیشن کر دیں، زبان، محاروں میں کر دیں اور دوسری طرف کرکٹ کا ’بخار‘ بھی ہو اور پھر وہاں جب کسی سے کوئی غلطی ہو جائے تو سارے کے سارے گند کی سمت اس کی طرف ہی ہو جاتی ہے۔‘

X پوسٹ نظرانداز کریں, 3
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 3

X پوسٹ نظرانداز کریں, 4
X کا مواد دکھانے کی اجازت دی جائے؟?

اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔

تنبیہ: دیگر مواد میں اشتہار موجود ہو سکتے ہیں

X پوسٹ کا اختتام, 4

کیا شائقین کے پہلے اور اب کے رویے میں کوئی فرق ہے؟

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہAFP

،تصویر کا کیپشن2007 کے ورلڈ کپ میں ہارنے کے بعد انڈین کھلاڑیوں کے پتلے جلائے گئے

عبدالرشید شکور سمجھتے ہیں کہ کرکٹ کے شائقین میں عدم برداشت، تحمل اور شائستگی بتدریج کم ہوتی جا رہی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پہلے ایک ٹیسٹ سیریز ہوتی تھی، اس کے ساتھ تین میچوں کی ایک ون ڈے سیریز ہوتی تھی اور دورہ ختم ہو جاتا تھا۔

’اب دنیا بھر میں کرکٹ اتنی پھیل چکی ہے اور فرنچائز یا لیگ کرکٹ جیسی رنگ برنگی کرکٹ کے آنے کے بعد اس کھیل کے رنگ ہی بدل گئے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ شائقین اب کھیل سے محظوظ ہونے کی بجائے ایک جنون میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ اور اس جنون میں اگر وہ ایک دن کسی کھلاڑی کی تعریف کر رہے ہوتے ہیں، اسے ہیرو بنا رہے ہوتے ہیں تو اگلے ہی دن اگر وہ اچھا پرفارم نہ کرے تو اسے زمین پر پٹخ دیتے ہیں۔‘

عبدالرشید شکور 2019 کے ہیڈنگلے میچ میں شایقین کا رویہ نہیں بھولتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ایسا لگ رہا تھا کہ میچ گراؤنڈ کے اندر نہیں باہر ہو رہا ہے۔ ’جس طرح افغانستان اور پاکستان کے شائقین آپس میں لڑ رہے تھے، جس طرح خواتین کی طرف اشارے کیے گئے، جس طرح بوتلیں پھینکی گئیں اور گالیاں دی گئیں، ایسا ہم نے پہلے کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔

’ورلڈ کپ کے میچ کے دوران گراؤنڈ کے اندر کے کھیل کی بجائے سٹیڈیم سے باہر کی سرگرمیاں زیادہ ہائی لائٹ ہوئیں اور وہ بھی اتنے منفی انداز میں۔‘

موقعہ موقعہ، بدلہ بدلہ، سکیورٹی سکیورٹی

کرکٹ

،تصویر کا ذریعہMatthew Lewis-ICC

،تصویر کا کیپشنکرکٹ کا جنون

نبیہہ شہرام کہتی ہیں کہ میڈیا خصوصاً سوشل میڈیا کو نفرت پھیلانے کے لیے ایک ٹول کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے اور نفرت سب سے زیادہ بکنے والی چیز بن گئی ہے۔ ان کے مطابق اس لیے چاہے وہ کوئی سیاستدان ہو یا کوئی کھلاڑی اگر اسے ہیرو سے زیرو بنانا ہے تو سب سے آسان ہے کہ نفرت بیچیں اور لیبل کریں کہ ہم آپ سے زیادہ مذہبی، حب الوطن اور سچے ہیں۔

کبھی ٹی وی پر آپ کو موقع موقع کی آواز آتی ہے تو کبھی بدلہ بدلہ کی۔ نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کی ٹیموں کے پاکستان میں سکیورٹی خدشات کی بنا پر سیریز منسوخ کرنے کے بعد تو اب سکیورٹی سکیورٹی کی آوازیں بھی سنائی دیتی ہیں۔ لوگ کسی کو معاف کرنا نہیں چاہتے اور حیرانی کی بات یہ ہے کہ لگتا ہے کہ اس طرح کے رویوں کو سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہے۔

سوصل میڈیا ٹرولنگ: کھلاڑی کیا کرے؟ کیا وہ اس کے اثر سے باہر نکل سکتا ہے؟

تیمور علی کہتے ہیں کہ جب اس طرح کا کوئی واقعہ ہوتا ہے تو یقینی طور پر کھلاڑی بہت زیادہ وقت سائیکالوجسٹ کے ساتھ گزارتے ہیں جو انھیں رائٹ فریم آف مائنڈ میں لے جاتا ہے اور انھیں بتاتا ہے کہ انھیں اپنی سوچ کے عمل کو کس طرح کنٹرول کرنا ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ مثال کے طور پر ’اگر شامی یا ان کی طرح کا کوئی کھلاڑی اس پوزیشن میں ہوتا اور میں اس کے ساتھ کام کر رہا ہوتا تو میں سب سے پہلے ان کے سوچنے کے عمل کو کنٹرول کرتا۔ اس کے لیے کچھ مشقیں ہیں۔ ذہن دو چیزیں کرتا ہے یا تو آگے کا سوچتا ہے یا پھر پیچھے کا، یہ بہت کم موجودہ حالت پر توجہ دیتا ہے۔ جو مثبت لوگ ہوتے ہیں وہ سوچتے ہیں کہ ہم اس کو آگے کس طرح لے کر چلیں گے۔ تھوڑے سے کم اعتماد والے سمجھتے ہیں کہ شاید یہ نہ ہو، شاید کچھ غلط نہ ہو جائے۔ سو آپ کی سوچ دائیں اور بائیں کے درمیان آتی جاتی رہتی ہے۔ اسی دوران ذہن ایک اور چیز کرتا ہے کہ وہ آپ کو زندگی کے پرانے واقعات کی طرف لے جاتا ہے۔ میں جب کھلاڑیوں کے ساتھ ہوتا تھا تو میں ان کو اس ماحول میں لے جاتا تھا جو مثبت ہو، ان کی پچھلی اچھی چیزوں کو یاد کراتا تھا۔ اچھی اننگز کو، اچھی بالنگ کو۔

’سائیکالوجی کی اصطلاح میں اسے ’لا آف اٹریکشن‘ کہتے ہیں۔ یوسین بولٹ نے جب ورلڈ ریکارڈ توڑا تھا تو انھوں نے بعد میں بتایا کہ میں دوڑ شروع ہونے سے پہلے ہی ذہن میں دس مرتبہ وہ ریکارڈ توڑ چکا تھا۔ مجھے پتہ تھا کہ میرا ایک ایک قدم کہاں پڑے گا۔ آپ اس طرح اپنی سوچ کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اور اگر آپ کو یہ نہیں آتا اور آپ کے پاس مناسب مدد نہیں ہے تو وہ آپ کی زندگی میں ایک ٹراما بن کے رہ جاتا ہے۔‘

کھلاڑی کیا کر سکتے ہیں؟

کھلاڑی کیا کر سکتے ہیں کی بہترین مثال شاید 1999 کی سیریز میں شعیب اختر اور سچن تندولکر کے درمیان ہونے والا ایک واقعہ ہے۔ ہوا یوں کہ شعیب اختر بولنگ کرتے ہوئے سچن تندولکر سے ٹکرا گئے اور سچن رن آؤٹ ہو گئے۔ اس کے بعد شائقین نے ہنگامہ آرائی شروع کر دی۔ موقعے کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے سچن نے خود جا کے کراؤڈ سے اپیل کی کہ وہ ایسا نہ کریں۔

عبدالرشید شکور کہتے ہیں کہ کھلاڑی کا رول ضرور ہوتا ہے اور بڑا کھلاڑی ایسا کرتا بھی ہے۔ ’لیکن سوشل میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا کا کیا کریں جہاں سکرین کبھی سرخ ہو رہی ہے کبھی نیلی ہو رہی ہے اور ٹِکرز چل رہے ہیں کہ نہ لحاظ نہ مروت، یہ موقعہ ہے بدلے کا اور پھر شیخ رشید جیسے وزیر یہ بیان دیتے ہیں کہ یہ عالمِ اسلام کی جیت ہے۔ تو میرے جیسا شخص یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ پاکستان کے کپتان بابر اعظم صلیبی جنگ یا کوئی پانی پت کی جنگ تو نہیں لڑ رہے تھے کہ انھیں اس طرح پیش کیا جائے۔‘

ماضی میں شیو سینا نے جب ممبئی کی پچ اس لیے اکھاڑ دی تھی کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ پاکستان اور انڈیا کے درمیان وہاں میچ ہو، اسی طرح جب انڈیا کوئی میچ ہار جاتا تو کرکٹ کے جذباتی دیوانے کھلاڑی کے پتلے کو جلا دیتے یا اسے جوتوں کا ہار پہناتے۔ پاکستان میں بھی کچھ اس طرح کے ہی رویے ہوتے، اکثر میچ کے اگلے دن لوگوں کے ٹی وی توڑنے کی تصاویر اخبارات کی زینت بنتیں۔ لیکن آج کل کے رویوں کو دیکھ کر تو وہ رویے ہائی سکول کے بچوں کا غصہ لگتے ہیں۔ اب ایسا نہیں ہے۔ اب کھلاڑیوں اور ان کے خاندان والوں کو قتل سے لے کر ریپ تک، اور ملک بدری سے لے کر غداری تک کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

کیا حالات بہتر کیے جا سکتے ہیں؟

سپورٹس سائیکالوجسٹ تیمور علی سمجھتے ہیں کہ یہ برے سے برا تر ہوتا جائے گا اور اسے کنٹرول کرنا بہت مشکل ہے۔

’جو چیز آپ کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ کھلاڑیوں کو دماغی طور پر اتنا مضبوط بنایا جائے کہ وہ اس طرح کے بڑے ایونٹس میں سوشل میڈیا پر نہ جائیں اور نیوز بھی نہ دیکھیں۔ انھیں چاہیے کہ اپنے گرد ایک ایسا ’ببل‘ بنا لیں جہاں ان کے گرد صرف مثبت لوگ ہی ہوں۔ زندگی میں مختلف طرح کے حالات ملتے ہیں اور ہمیں اپنے آپ کو ان کے مطابق ڈھالنا ہوتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ شامی بھی ان کے مطابق اپنے اپ کو ڈھال لیں گے۔ وہ ایک زبردست فاسٹ بولر ہیں اور وہ منفی چیزیں نہیں دیکھیں گے۔‘