ورلڈ کپ میں پاکستان انڈیا ٹاکرا: وہ کرکٹ مقابلے جن میں جذبات عروج پر تھے

دھونی یوسب رضا گیلانی اور منموہن سنگھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنانڈین ٹیم کے کپتان مہندر سنگھ دوھونی پاکستان کے اس وقت وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی اور انڈین وزیر اعظم منموہن سنگھ
    • مصنف, نتن شریواستو
    • عہدہ, نمائندہ بی بی سی

مارچ کے مہینے کی 30 تاریخ تھی اور سال تھا دو ہزار گیارہ۔ انڈیا کے شہر چندی گڑھ ایئر پورٹ پر صبح چھ بجے سے تمام کمرشل پروازوں کی نقل و حرکت روک دی گئی تھی۔ سوکھوئی-30 لڑاکا طیارے تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آسمان میں چکر لگا رہے تھے۔

پولیس کے علاوہ شہر کے ہر چوراہے پر سکیورٹی فورسز کو تعینات کیا گیا تھا اور موہالی کرکٹ سٹیڈیم کو شاید پہلی بار ایک ’چھاؤنی‘ میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔

ان سب حفاظتی اقدامات کی وجہ ایک روزہ کرکٹ ورلڈ کپ کا سیمی فائنل تھا جو روائتی حریف پاکستان اور انڈیا کے درمیان کھیلا جا رہا تھا۔

پاکستان کے اس وقت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی انڈین وزیر اعظم من موہن سنگھ کی دعوت پر اسلام آباد سے میچ دیکھنے اور ان سے ملاقات کرنے انڈیا آئے تھے۔

سنہ 2007 کے ٹی 20 ورلڈ کپ میں دونوں ٹیموں کے فائنل میں ٹکراؤ کی یادیں بھی ابھی تازہ تھیں۔ انڈیا نے میچ جیت کر چیمپئن شپ جیت لی تھی۔

موہالی میچ کی کوریج کرنے والے صحافیوں پر بھی ایک نامعلوم تناؤ بھی تھا۔ اتنا بڑا میچ، اور سفارتی سرگرمیوں کے دوران میچ کو کور کرنا۔

انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس وقت کے انڈیا اور پاکستان کے وزرائے اعظم

انڈیا نے کوارٹر فائنل میں آسٹریلیا کی ایک مضبوط ٹیم کو شکست دی تھی اور گجرات کے موٹیرا سٹیڈیم میں اس میچ کی کوریج کر رہے مکیش شرما نے فون پر کہا: 'اب دیکھ لو، موہالی میں یہ سلسلہ جاری رہے۔‘

بی بی سی ہندی ڈیسک پر کوریج کی کمان پنکج پریہ درشی اور وندنا نے سنبھالی ہوئی تھی۔ ایک نے کہا: ’اپ ڈیٹ دینے میں کوئی کوتاہی مت کرنا‘ جبکہ دوسرے نے کہا، ’میرے شہر میں جا رہے ہو، تو خالی ہاتھ واپس نہ آنا۔‘

دنیا کے تمام چوٹی کے کرکٹ نمائندے اس میچ کے لیے پہنچے تھے۔ یہ سچن تندولکر کا آخری ورلڈ کپ تھا اور یوراج سنگھ سے لے کر کوہلی اور گمبھیر نے کہا تھا، اس بار سچن کے لیے کپ جیتنا ہے۔

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہد آفریدی نے میچ سے پہلے کہا تھا کہ ہم بھی میچ میں جان لگا دیں گے۔

انڈیا نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے سچن کے 85 رنز کی بدولت سات وکٹوں کے نقصان پر 260 رنز بنائے۔ سچن بھی خوش قسمت رہے کیونکہ پاکستانی فیلڈرز نے چار بار ان کے کیچز چھوڑے۔

انڈین بولرز نے اچھی بولنگ کی اور ہدف سے 29 رنز پہلے ہی پاکستان کو پویلین لوٹا دیا۔ ظہیر، نہرا، مناف پٹیل، ہربھجن سنگھ اور یوراج نے دو دو وکٹیں حاصل کیں۔

اس شکست کے ڈیڑھ ماہ بعد پاکستانی کپتان آفریدی کو کپتانی سے ہٹا دیا گیا اور انھوں نے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا۔ سچن نے بھی اس ورلڈ کپ کے بعد ایک روزہ کرکٹ کو الوداع کہہ دیا۔

شاہد آفریدی اور انڈین وزیر اعظم منموہن سنگھ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنشاہد آفریدی اور انڈین وزیر اعظم منموہن سنگھ

سنہ 2012 کا ٹی 20 ورلڈ کپ میچ

سنہ 2011 کے میچ کے بعد اگلے سال سری لنکا میں منعقدہ ٹی 20 ورلڈ کپ کے گروپ میچ میں دونوں ٹیمیں آمنے سامنے ہوئیں۔ کولمبو کا پریماداسا سٹیڈیم تماشائیوں سے اس قدر بھرا ہوا تھا کہ صبح سے ہی شہر میں ٹریفک جام تھا اور کرکٹ شائقین اور صحافی ڈیڑھ کلومیٹر فاصلے سے پیدل چل کر سٹیڈیم تک پہنچ رہے تھے۔

میچ سے ایک دن قبل انڈین ٹیم نے کولمبو کے ایک اور سٹیڈیم 'پی سارا اوول' میں نیٹ پریکٹس کی۔ پریکٹس کے دوران وریندر سہواگ کے نیٹ میں بیٹنگ نہ کرنے پر کچھ تناؤ تھا۔ کئی سابق کرکٹرز نے سنگین بیماری کے علاج کے بعد ٹیم میں واپس آنے والے یوراج سنگھ کی فٹنس پر سوال اٹھائے تھے۔

پورے ٹورنامنٹ کے دوران میں نے ٹیم انڈیا کے اندر وہ چیز نہیں دیکھی جو پچھلے ورلڈ کپ میں تھی۔ لیکن انڈیا اور پاکستان کے درمیان میچ منفرد ہوتا ہے۔

میچ سے ایک دن پہلے، ٹورنامنٹ کی کوریج کرنے والے تمام صحافیوں کو اس وقت کے صدر سری لنکن مہندا راجا پکشے کے محل میں عشائیہ پر مدعو کیا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان کے سابق بلے باز اور پی سی بی کے موجودہ چیئرمین رمیز راجہ بھی وہاں موجود تھے اور گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ ’اس بار ٹیم بولنگ کے ساتھ ساتھ بیٹنگ پر بھی توجہ دے گی، میچ ونر وہیں ہیں، عمران نذیر، کپتان محمد حفیظ اور ناصر جمشید اس میں شامل ہیں۔ یہ فارمیٹ کے بڑے کھلاڑی ہیں۔‘

تاہم ان تینوں کھلاڑیوں میں سے کوئی بھی میچ میں زیادہ کچھ نہ کر سکا اور انڈیا نے پاکستان کا 128 رنز کا ہدف 17 اوورز میں ہی پورا کر لیا۔ وراٹ کوہلی 78 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر میچ کے بہترین کھلاڑی قرار پائے۔

وہاب ریاض

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 2015 کا ورلڈ کپ مقابلہ

کرکٹ منتظمین کو بھی پاکستان انڈیا میچوں کی اہمیت پر پورا بھروسہ ہے۔ اسی وجہ سے آسٹریلیا میں منعقدہ ورلڈ کپ میں دونوں ٹیموں کا پہلا میچ آپس میں ہوا۔

دنیا بھر سے کرکٹ شائق اور دونوں ٹیموں کے حامی سر ڈان بریڈمین کے شہر ایڈیلیڈ پہنچے تو وہاں ایک جشن کا سا ماحول تھا۔ شہر کے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ کے لوگ جہاں ہم ٹھہرے تھے انھوں نے پہلے ہی رات کے بارہ بجے سڑکوں پر لوگوں کو 'چک دے انڈیا' گانے پر ناچتے دیکھا تھا۔

امریکہ سے لے کر دبئی تک کے پاکستان کرکٹ ٹیم کے حامی بھی وہاں پہنچ چکے تھے اور جشن کے ماحول میں سڑک کنارے بار ریسٹورنٹ میں صبح سویرے نظر آ رہے تھے۔

آسٹریلیا میں کرکٹ میچز کور کرنے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔ ٹیمیں مختلف میدانوں میں نیٹ پریکٹس کرتی ہیں، جہاں کھلاڑیوں کو قریب سے جاننے اور سمجھنے اور آگے کی حکمت عملی کو سمجھنے کا خاص موقع ملتا ہے۔

انڈین ٹیم نے شاید پہلے ہی سوچ لیا تھا کہ اس اہم میچ میں ٹاس جیتنے کی صورت میں پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے بڑا ہدف دیں گے۔ وراٹ کوہلی کی سنچری اور کریز پر شیکھر دھون کی شراکت کے بعد پاکستان کو 301 رنز کا ہدف ملا۔

انڈین بولنگ کی تعریف کرنی ہو گی، خاص طور پر محمد شامی، جنھوں نے اس میچ میں چار وکٹیں حاصل کیں، جس کی وجہ سے پاکستانی اننگز 224 رنز پر ڈھیر ہو گئی۔

وہاب ریاض

،تصویر کا ذریعہGetty Images

سنہ 2016 کا ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ

ٹی 20 ورلڈ کپ کا مقابلہ اس سے پہلے انڈیا میں کبھی نہیں ہوا تھا جبکہ اس انڈین پریمیر لیگ (آئی پی ایل) کی مقبولیت شروع سے ہی ہے۔ ظاہر ہے جب ٹورنامنٹ یہاں پہنچا تو جیت کی امید کے ساتھ ساتھ انڈیا اور پاکستان کے شائقین بھی باہمی ٹکراؤ کے منتظر تھے۔

گروپ کے میچ میں دونوں کا مقابلہ کولکتہ کے تاریخی ایڈن گارڈنز گراؤنڈ میں طے تھا۔ سابق انڈین کپتان سورو گنگولی اب تک مغربی بنگال کرکٹ انتظامیہ میں شامل تھے اور وہ خود اس میچ سے متعلق تیاریوں کے ذمہ دار تھے۔

ایڈن گارڈن میں 'دادا' کا جلوہ ہی مختلف ہے۔ میچ سے ایک روز قبل دونوں ٹیمیں گراؤنڈ کے دونوں کونوں میں نیٹ پریکٹس کر رہی تھیں اور سورو اپنی سرخ رنگ کی مرسڈیز کار خود چلاتے ہوئے سٹیڈیم کے باہر کے حصے میں پہنچے تو تقریباً 150 تماشائی جو باہر جالیوں سے دیکھ رہے تھے وہ ان کے ساتھ سیلفی لینے کے لیے دوڑ پڑے۔

کمنٹری ٹیم جن میں وسیم اکرم، رمیز راجہ اور ہرش بھوگلے شامل تھے بھی سورو کے ساتھ میدان میں آئے اور تمام کھلاڑیوں سے ملاقات کی۔ وراٹ کوہلی اور روہت شرما نے بھی سورو کے ساتھ کافی دیر تک پچ کا معائنہ کیا۔

میچ شروع ہونے سے قبل اداکار امیتابھ بچن نے ایک لاکھ تماشائیوں کے ساتھ قومی ترانہ گایا اور سچن تندولکر سمیت سبھی سٹینڈز سے گا رہے تھے۔

بارش کے باعث میچ کو 18-18 اوورز تک محدود کر دیا گیا اور پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انڈیا کو 119 رنز کا ہدف دیا۔

اس بار بھی وراٹ کوہلی نے ایک شاندار اننگز کھیلی اور 37 گیندوں میں 55 رنز بنا کر انڈیا کو دو اوورز قبل ہی فتح سے ہمکنار کرا دیا۔ وراٹ پھر مین آف دی میچ قرار پائے۔