سمیع چوہدری کا کالم: ’وہاب ریاض، کہانی میں ٹوئسٹ لانے والا معاون اداکار‘

کرکٹ، وہاب ریاض

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, سمیع چوہدری
    • عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار

آپ کو دبئی کا وہ ڈے نائٹ ٹیسٹ تو یاد ہو گا جب اظہر علی پنک بال کرکٹ کے پہلے ٹرپل سینچورین بنے تھے۔ لیکن پہلی اننگز میں واضح برتری کے باوجود میچ کچھ ایسی ڈگر پہ چلا کہ پانچویں دن تک ویسٹ انڈیز کی ٹیم میچ جیتنے کی پوزیشن میں آ گئی تھی۔

ویسٹ انڈیز کے ڈیرن براوؤ ڈٹے ہوئے تھے اور پاکستانی بولر تھکے ہوئے تھے۔ رات کے کھانے کے وقفے کے بعد کپتان مصباح الحق نے حکمت عملی بدلی اور پرانا گیند وہاب ریاض کو دیا جنھوں نے محمد عامر کی شراکت میں شارٹ پچ اور برق رفتار باؤنسرز کے تابڑ توڑ وار کئے۔

اس سپیل کا اثر یہ ہوا کہ دن بھر چٹان کی طرح ڈٹے رہنے والے براوؤ خوف کا شکار دکھائی دئیے اور کچھ ہی دیر بعد ایک آسان سے گیند پہ اپنا بچاؤ کرتے کرتے کیچ دے بیٹھے۔

اس میچ کے سکور کارڈ پر یاسر شاہ چھائے ہوئے تھے مگر عین موقع پر پانسہ تو بلاشبہ وہاب ریاض کے اس سپیل نے ہی پلٹا تھا۔

ہر کہانی میں کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر مرکزی سٹوری لائن میں اس قدر اہم نہیں دکھائی دیتے مگر اپنے محدود سے کردار میں کوئی ایسا کام کر جاتے ہیں کہ کہانی کا رخ ہی بدل جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

کرکٹ

وہاب ریاض بجا کہتے ہیں کہ اپنے کرئیر کا بیشتر حصہ انھیں عرب امارات کی وکٹوں پر کھیلنا پڑا جہاں فاسٹ بولر صرف معاون اداکار کا کردار ہی ادا کر پاتے ہیں۔ مگر اس محدود کردار میں بھی وہاب ریاض نے کئی ایک ایسے سپیل پھینکے ہیں جنھوں نے کہانی میں 'ٹوئسٹ' پیدا کئے۔

سابق کوچ مکی آرتھر مگر اس خیال سے متفق نہیں تھے، اسی لیے برملا کہہ ڈالا کہ وہاب ریاض نے دو سال میں ایک بھی میچ پاکستان کو نہیں جتوایا۔

اسی بنا پر وہ ٹیم سے ڈراپ بھی ہوئے، پھر محض وائٹ بال کرکٹ تک محدود ہو کر رہ گئے اور دھیرے دھیرے یہاں پہنچے کہ اب سینٹرل کنٹریکٹس کی فہرست سے بھی خارج ہو چکے ہیں۔

محمد عامر کی ٹیسٹ کرکٹ سے قبل از وقت ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی وہاب نے بھی ٹیسٹ کرکٹ سے غیر معینہ بریک لینے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کے محرکات جو بھی تھے، وہاب کی رائے سنیں تو وہ یہی کہتے ہیں کہ وہ گزشتہ ٹیم مینیجمنٹ سے دل گرفتہ ہو چلے تھے۔

اب جب کہ سینٹرل کنٹریکٹس کے اعلان کے کچھ ہی روز بعد وہاب ریاض ٹیسٹ کرکٹ میں واپسی کا اعلان کر رہے ہیں تو اس پر چہ میگوئیاں ہونا بھی بلا جواز نہیں ہے۔

بہت لوگوں کو یہی محسوس ہو رہا ہے کہ سینٹرل کنٹریکٹ نہ ملنے پر وہاب کو واپسی کا فیصلہ کرنا پڑا ہوگا۔

مگر وہاب ریاض کی سنیں تو وہ اسی بات پہ مُصر ہیں کہ ان کے فیصلے کی وجہ موجودہ مینیجمنٹ ہے جہاں وقار یونس اور مصباح الحق خواہاں ہیں کہ انگلش کنڈیشنز میں وہاب ریاض کے تجربے کا فائدہ اٹھایا جائے۔

مصباح کی قیادت میں کھیلی گئی آخری پاک انگلینڈ سیریز کو ذہن میں لائیں تو یہ بعید از قیاس نہیں کہ مصباح نے خود وہاب کو واپسی پر قائل کیا ہوگا۔ کیونکہ جس قدر تجربہ ان کے پاس ہے، انگلینڈ کی سیمنگ وکٹوں پر پرانے گیند کے ساتھ ان کی برق رفتار ریورس سوئنگ پاکستان کے لیے ترپ کا پتہ ثابت ہو سکتی ہے۔

پچھلی ایشز کے ہیڈنگلے ٹیسٹ کو ذہن میں لائیں اور ذرا تصور کریں کہ آخری دو سیشن باقی ہوں اور بین سٹوکس جیسا کوئی پر عزم جوان ڈٹا ہوا ہو جو کسی کے ہاتھ نہ آ رہا ہو تو وہاب ریاض کی سپیڈ یقیناً پاکستان کے کام آ سکتی ہے۔

وہاب ریاض

،تصویر کا ذریعہGetty Images

مصباح الحق کہتے ہیں کہ انگلینڈ کے خلاف سیریز میں پاکستان کو خسارہ یہ ہوگا کہ پاکستان نے طویل عرصے سے کسی لیول کی کرکٹ نہیں کھیلی ہوگی جبکہ انگلینڈ اس سیریز سے عین پہلے ویسٹ انڈیز کے خلاف بھرپور ٹیسٹ کرکٹ کھیل چکا ہو گا۔

یہ پہلو اپنی جگہ مگر دوسری جانب حالیہ چند فیصلے دیکھے جائیں تو یونس خان و مشتاق احمد کے تقرر سے لے کر وہاب ریاض کی واپسی تک سبھی فیصلے مثبت دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہی مثبت پسندی کا رجحان جاری رہا تو بعید نہیں کہ اس سیریز کا نتیجہ بھی پاکستان کے لیے مثبت ہی نکل آئے۔