پاکستانی کرکٹ سکواڈ: حیدر علی کی انٹری، سہیل خان کی حیران کن واپسی

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے انگلینڈ کے طویل دورے کے لیے 29 رکنی سکواڈ کا اعلان کردیا ہے جس میں تجربہ کار کھلاڑیوں کے ساتھ ساتھ نوجوان ٹیلنٹ کو بھی موقع دیا گیا ہے۔
پاکستانی کرکٹ ٹیم کو آئندہ ماہ انگلینڈ کے دورے میں تین ٹیسٹ اور تین ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچوں کی سیریز کھیلنی ہے۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر انگلینڈ اینڈ ویلز کرکٹ بورڈ (ای سی بی) نے پی سی بی کو اس بات کی اجازت دے رکھی ہے کہ وہ زیادہ تعداد میں کھلاڑی اس دورے پر بھیج سکتا ہے۔
اس دورے کے لیے تمام کھلاڑیوں کی ایک ساتھ روانگی اور واپسی ہوگی۔ تمام کھلاڑیوں کو انگلینڈ پہنچ کر دو ہفتے قرنطینہ میں رہنا ہوگا ۔
محمد عامر اور حارث سہیل غیرحاضر

،تصویر کا ذریعہReuters
ٹیم کے اعلان سے ایک روز قبل فاسٹ بولر محمد عامر اور حارث سہیل نے دورے میں اپنی عدم دستیابی کے بارے میں بورڈ کو آگاہ کردیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
محمد عامر کے یہاں بچے کی پیدائش متوقع ہے جبکہ حارث سہیل نے کورونا وائرس کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر حفظ ماتقدم کے طور پر دورے سے معذرت کی ہے۔ حارث سہیل کے بارے میں پتہ چلا ہے کہ وہ فیملی کے بغیر دورے پر جانے کے لیے تیار نہیں ۔
گذشتہ سال انگلینڈ میں ہونے والے ورلڈ کپ کے موقع پر بھی انھوں نے اپنی فیملی کو ساتھ رکھنے کے بارے میں بورڈ سے خصوصی اجازت لی تھی۔
حیدر علی کا ٹیلنٹ
انگلینڈ کے دورے کے لیے اعلان کردہ 29 رکنی سکواڈ میں نیا نام حیدر علی کا ہے جنھوں نے حالیہ انڈر 19 میچوں ا ور پھر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں عمدہ کارکردگی سے سلیکٹرز کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے۔
انھوں نے جنوبی افریقہ کے خلاف بھی انڈر 19 سیریز میں 317 رنز سکور کیے تھے جبکہ بنگلہ دیش میں ہونے والے ایمرجنگ ایشیا کپ میں وہ 218 رنز بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔
اس کے علاوہ حیدرعلی نے قائداعظم ٹرافی میں 645 رنز بنائے تھے جس میں فائنل میں سنچری قابل ذکر تھی۔
حیدر علی کو ان کی اسی عمدہ کارکردگی کے سبب پاکستان کرکٹ بورڈ نے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کی ایمرجنگ کیٹگری میں شامل کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہCourtesy Quetta Gladiator
سہیل خان کی حیران کن واپسی
فاسٹ بولر سہیل خان کی 29 رکنی اسکواڈ میں واپسی اس لحاظ سے حیران کن ہے کہ انھوں نے اپنا آخری ٹیسٹ چار سال قبل آسٹریلیا کے خلاف میلبرن میں کھیلا تھا۔
گذشتہ سال قائداعظم ٹرافی میں انھوں نے نو میچوں میں 22 وکٹیں حاصل کی تھیں جبکہ پاکستان سپر لیگ میں وہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرتے ہوئے سات وکٹیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکے تھے۔
کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ
پاکستان کرکٹ بورڈ کا کہنا ہے کہ انگلینڈ کے دورے پر روانگی سے قبل تمام کھلاڑیوں کے کورونا ٹیسٹ 20اور 25جون کو ہوں گے۔
اگر کسی کھلاڑی کا کورونا ٹیسٹ مثبت آیا تو اس کی جگہ ریزرو کھلاڑیوں میں سے کسی کو سکواڈ میں شامل کر لیا جائے گا۔
بورڈ نے بلال آصف، محمد نواز، موسیٰ خان اور عمران بٹ کو ریزرو کھلاڑیوں کے طور پر رکھا ہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مصباح الحق کو اچھی کارکردگی کی توقع
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈکوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کہتے ہیں کہ انگلینڈ کے طویل دورے میں چونکہ ٹیم کو ٹیسٹ اور ٹی ٹوئنٹی دونوں طرز کی کرکٹ کھیلنی ہے لہذا ایک متوازن اسکواڈ ترتیب دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ٹیم انگلینڈ پہنچ کر وہاں ایک ماہ بھرپور ٹریننگ کرے گی ۔ کئی ماہ کے وقفے کے بعد کھلاڑیوں کے لیے میدان میں اتر کر کارکردگی دکھانا کسی چیلنج سے کم نہ ہوگا جبکہ انگلینڈ کو یہ فائدہ ہوگا کہ وہ ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کھیل چکی ہوگی۔
مصباح الحق کا کہنا ہے کہ اس دورے کے لیے سکواڈ ترتیب دیتے وقت ٹیسٹ سیریز کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ نوجوان کھلاڑیوں کے لیے یہ اچھا موقع ہے کہ وہ یونس خان اور مشتاق احمد کے وسیع تجربے سے فائدہ اٹھائیں۔
پاکستانی اسکواڈ کے29 کھلاڑی
انگلینڈ کے دورے کے لیے اعلان کردہ اسکواڈ ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہے۔













