مصباح الحق: ’رائے ضرور دوں گا لیکن حتمی ٹیم کا انتخاب کپتان کرے گا‘

مصباح الحق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام

پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کے انتخاب میں بطور کوچ اور چیف سلیکٹر رائے ضرور دیں گے البتہ حتمی ٹیم منتخب کرنے کا حق کپتان کے پاس ہو گا۔

مصباح الحق نے یہ بات بدھ کو اپنی تقرری کے بعد لاہور میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکٹو وسیم خان کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کہی۔

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بطور چیف سلیکٹر اور کوچ اپنا مؤقف دیتے رہیں گے اور ٹیم کی انتخاب سے متعلق کپتان کے ساتھ ایک اچھی اور مثبت بحث ہونی چاہیے۔‘

پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق کپتان مصباح الحق کو تین سال کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر جبکہ فاسٹ بولر وقار یونس کو بولنگ کوچ مقرر کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستانی کرکٹ میں یہ پہلا موقع ہے کہ ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر کے عہدے بیک وقت کسی ایک شخص کے سپرد کیے گئے ہیں۔

اس موقع پر مصباح الحق کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’جب آپ کے پاس طاقت آتی ہے اور فیصلہ لینے کی ذمہ داری آتی ہے تو آپ کا امتحان ہوتا ہے میری کوشش ہو گی کہ میں پاکستان میں کرکٹ کے ڈھانچے میں نیچے تک پیشہ وارانہ مہارت لا سکوں۔‘

اس موقع پر وسیم خان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کرکٹ کے لیے یہ اتنہائی اہم موقع ہے اور ہمارے نزدیک پاکستان کی فتوحات بہت ضروری ہیں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ پی سی بی نے پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کوچنگ سے متعلق اپنے ماضی کے فیصلوں پر نظرِ ثانی کرتے ہوئے مصباح کو آئندہ ایڈیشن میں پی ایس ایل کی کسی ٹیم میں کوچنگ کی اجازت دے دی ہے۔

اس بارے میں بات کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’مصباح کو اگر پی ایس ایل میں کوچنگ کا موقع مل گیا تو پاکستان کا فائدہ ہو گا۔‘

مصباح

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشناس موقع پر وسیم خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے یہ اتنہائی اہم موقع ہے اورہمارے نزدیک پاکستان کی فتوحات بہت ضروری ہیں

مصباح الحق پاکستانی کرکٹ ٹیم کے 18ویں کوچ ہیں۔ ان سے قبل 17 کوچز میں پانچ غیرملکی بھی شامل ہیں۔

انتخاب عالم مختلف ادوار میں پانچ بار کوچ کی ذمہ داری نبھاچکے ہیں جبکہ جاوید میانداد، رچرڈ پائیبس اور مشتاق محمد تین تین مرتبہ کوچ مقرر ہوچکے ہیں۔

سابق فاسٹ بولر وقار یونس کو بولنگ کوچ کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔ وہ اس سے قبل بھی دو مرتبہ بولنگ کوچ اور دو مرتبہ ہیڈ کوچ رہ چکے ہیں۔

ان دونوں کی تقرری کی باضابطہ منظوری پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیرمین احسان مانی نے اس پانچ رکنی پینل کی سفارشات کی روشنی میں دی ہے جس نے گذشتہ ہفتے مصباح الحق اور وقاریونس سمیت متعدد سابق کرکٹرز کے انٹرویوز کیے تھے۔

کس کس نے انٹرویو دیے تھے؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کے لیے مصباح الحق، محسن خان آسٹریلیا کے ڈین جونز اور جنوبی افریقہ کے یوہان بوتھانے انٹرویوز دیے تھے۔ ڈین جونز اور یوہان بوتھا کے انٹرویوز وڈیو لنک کے ذریعے کیے گئے۔

بولنگ کوچ کے لیے وقاریونس اور ویسٹ انڈیز کے سابق فاسٹ بولر کورٹنی والش کے انٹرویوز ہوئے تھے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ نے بیٹنگ کوچ کے لیے بھی درخواستیں طلب کی تھیں تاہم اس عہدے کے لیے انٹرویوز نہیں ہوئے۔

وقار

،تصویر کا ذریعہINDRANIL MUKHERJEE

،تصویر کا کیپشنبدھ کہ روز پاکستان کرکٹ بورڈ نے سابق کپتان مصباح الحق کو تین سال کے لیے پاکستانی کرکٹ ٹیم کا ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر جبکہ فاسٹ بولر وقار یونس کو بولنگ کوچ مقرر کیا تھا

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ کا عہدہ مکی آرتھر کے جانے سے خالی ہوا تھا جن کے عہدے کی مدت ورلڈ کپ کے بعد ختم ہوگئی تھی اور پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے معاہدے میں توسیع نہیں کی تھی۔

ہیڈ کوچ کے علاوہ بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور اور بولنگ کوچ اظہرمحمود کے معاہدے بھی ختم ہوگئے تھے جن کی توسیع نہیں کی گئی۔

مصباح الحق ہیڈ کوچ کے لیے درخواست دینے والے آخری امیدوار تھے جس کے لیے انھوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کی کرکٹ کمیٹی کی رکنیت سے استعفی دے دیا تھا۔

غورطلب بات یہ ہے کہ اسی کرکٹ کمیٹی نے پاکستان کرکٹ بورڈ سے مکی آرتھر کے معاہدے میں توسیع نہ کرنے کی سفارش کی تھی۔ اس کمیٹی میں مصباح الحق کے علاوہ سابق فاسٹ بولر وسیم اکرم، سابق خاتون کرکٹر عروج ممتاز اور پی سی بی کے منیجنگ ڈائریکٹر وسیم خان شامل تھے۔

مصباح الحق کرکٹر سے کوچ بننے تک

مصباح الحق پاکستان کی تاریخ کے سب سے کامیاب ٹیسٹ کپتان ہیں۔ انھوں نے 56 ٹیسٹ میچوں میں کپتانی کی جن میں سے 26 جیتے ہیں۔

انھوں نے 87 ون ڈے انٹرنیشنل میں کپتانی کی جن میں سے 39 میچز جیتے جبکہ آٹھ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں سے چھ میں کامیابی حاصل کی۔

مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے پہلی بار ویسٹ انڈیز میں ٹیسٹ سیریز اور جنوبی افریقہ میں ون ڈے سیریز جیتی۔ انہی کی کپتانی میں پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹ کی عالمی رینکنگ میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کی۔

مصباح الحق

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنرمیز راجہ نے مصباح الحق پر یہ بھی تنقید کی ہے کہ ان کی زیادہ تر کامیابیاں متحدہ عرب امارات کی مخصوص کنڈیشنز میں رہی ہیں۔

مصباح الحق کی حمایت اور مخالفت

مصباح الحق کی تقرری سے پہلے ہی ان کے بارے میں سابق کرکٹرز کی جانب سے مختلف آرا سامنے آنے لگی تھیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ، مصباح الحق کو کوچ بنائے جانے کے سب سے بڑے مخالف کے طور پر سامنے آئے جن کا کہنا ہے کہ بحیثیت کرکٹر مصباح الحق دفاعی سوچ کے حامل کپتان رہے ہیں اور پاکستان کو اب اس مزاج کے کوچ کی ضرورت نہیں ہے۔

رمیز راجہ نے مصباح الحق پر یہ بھی تنقید کی ہے کہ ان کی زیادہ تر کامیابیاں متحدہ عرب امارات کی مخصوص کنڈیشنز میں رہی ہیں۔

سابق لیفٹ آرم سپنر اقبال قاسم کی رائے اس کے بالکل برعکس ہے اور ان کا خیال ہے کہ یہ بہترین وقت ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ مصباح الحق کے وسیع تجربے سے فائدہ اٹھائے۔ وہ عصر حاضر کے کرکٹر ہیں اور ہر کرکٹر کو اچھی طرح جانتے ہیں لہذا انھیں یہ ذمہ داری نبھانے میں کوئی مشکل نہیں ہو گی۔

اقبال قاسم کا کہنا ہے کہ 'ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ مصباح الحق نے جس وقت ٹیم کی قیادت سنبھالی تھی اس وقت پاکستان کی کرکٹ سپاٹ فکسنگ سکینڈل کی وجہ سے بکھری ہوئی تھی اور پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کا سلسلہ رک چکا تھا۔

’اس مشکل صورتحال میں مصباح الحق نے محدود وسائل کے باوجود ایک ایسی ٹیم تیار کردی جس نے پاکستان کو یادگار فتوحات دیں۔'