ٹیسٹ میچوں میں ادھورا ڈی آر ایس نہیں ہونا چاہیے: وقار یونس

،تصویر کا ذریعہINDRANIL MUKHERJEE
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، شارجہ
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وقار یونس ٹیسٹ میچوں میں ڈی آر ایس کے استعمال کے حق میں ضرور ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کو اس کے مکمل ساز و سامان کے ساتھ استعمال کرنے کی ضرورت ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان جاری ٹیسٹ سیریز میں اگرچہ ڈی آر ایس کا استعمال ہو رہا ہے لیکن یہ ہاٹ سپاٹ اور سنیکو میٹر سے محروم ہے۔
ڈی آر ایس کو اس کے مکمل لوازمات کے ساتھ استعمال کرنے پر بہت زیادہ رقم خرچ ہوتی ہے لہٰذا بعض کرکٹ بورڈز اس کا خرچ برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔
وقار یونس نے بی بی سی اردو کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ ڈی آر ایس کے بارے میں ایک پالیسی ہونی چاہیے اور دنیا میں جہاں بھی ٹیسٹ میچز ہوتے ہیں ڈی آر ایس کا ایک سٹینڈرڈ مقرر کر دینا چاہیے اور ہر جگہ ایک ہی جیسے ساز و سامان کے ساتھ استعمال کیا جانا چاہیے تاکہ درست فیصلوں کو یقینی بنایا جاسکے۔
وقار یونس کا کہنا ہے کہ اس معاملے میں بحث یہ ہوتی ہے کہ ڈی آر ایس کو مکمل لوازمات کے ساتھ نافذ کرنے کی ذمہ داری آئی سی سی کی ہے، آئی سی سی کہتا ہے کہ یہ براڈ کاسٹر کی ذمہ داری ہے، اور براڈ کاسٹر کہتا ہے جس کرکٹ بورڈ کی سیریز ہے وہ ذمہ دار لے۔
اس صورتحال میں یہ تینوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالیں اور ڈی آر ایس کے بارے میں یکساں پالیسی تیار ہو کیونکہ شائقین اور ناظرین غلط فیصلے برداشت نہیں کر سکتے۔
وقار یونس کا کہنا ہے کہ ابوظہبی ٹیسٹ میں امپائرز سے غلطیاں سرزد ہوئی ہیں۔
’صرف ابوظہبی ٹیسٹ ہی نہیں بلکہ چٹاگانگ ٹیسٹ میں بھی امپائر دھرماسینا کے فیصلے بھی ڈی آر ایس نے غلط ثابت کیے ہیں۔ لیکن امپائرز بھی انسان ہیں اور جب کسی سے کوئی غلط فیصلہ سرزد ہوتی ہے تو وہ دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس بات کا ضرور خیال رہنا چاہیے کہ کوئی بہت بڑی غلطی سرزد نہ ہو۔ یہ بات ناتجربہ کاری کو بھی ظاہر کرتی ہے لیکن جوں جوں بڑی سیریز ہوں گی ان میں آپ کو زیادہ تجربہ کار امپائرز دکھائی دیں گے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
واضح رہے کہ پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ابوظہبی ٹیسٹ میں امپائرز کے مجموعی طور پر نو فیصلے غلط ثابت ہوئے جو ڈی آر ایس کی مدد سے تبدیل ہوئے۔ ان میں پانچ فیصلے مائیکل گف کے تھے اور تین فیصلے رچرڈ النگورتھ کے تھے۔
رچرڈ النگورتھ کا امپائر کی حیثیت سے یہ 23واں ٹیسٹ میچ تھا جبکہ مائیکل گف اپنے تیسرے ٹیسٹ میں امپائرنگ کر رہے تھے۔









