2016: مصباح الحق کا سال

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پچھلے پانچ چھ برسوں کی طرح سال 2016 میں بھی مصباح الحق پاکستانی کرکٹ کا محور ثابت ہوئے۔
پرسکون انداز میں بیٹنگ اور کپتانی کرنے والے مصباح الحق اس سال پاکستانی ٹیم کو اس کی تاریخ میں پہلی بار بلند ترین مقام پر لے آئے جب پاکستان نے ٹیسٹ کرکٹ میں صفِ اول کی ٹیم کا اعزاز حاصل کیا۔
سال کے اختتام پر آئی سی سی نے انہیں سپرٹ آف دی کرکٹ ایوارڈ کے لیے منتخب کیا۔ وہ یہ اعزاز حاصل کرنے والے پہلے پاکستانی کرکٹر ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستانی کرکٹ ٹیم کا اس سال سب سے بڑا کارنامہ انگلینڈ کے خلاف اسی کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز برابر کرنا تھا۔
پاکستانی ٹیم نے لارڈز اور اوول کے ٹیسٹ میچز جیت کر یہ سیریز دو دو سے برابر کرکے ناقدین کو لاجواب کردیا جنہوں نے سیریز سے قبل ہی یہ دعوے کررکھے تھے کہ اس دورے میں پاکستانی ٹیم انگلینڈ کے لیے ترنوالہ ثابت ہوگی۔
مصباح الحق نے لارڈز ٹیسٹ میں سنچری بنائی اور اگلے تین ٹیسٹ میچوں میں مزید دو نصف سنچریاں بناکر وزڈن کے پانچ بہترین کرکٹر میں شمولیت کے امکانات روشن کردیے۔
مصباح الحق سب سے زیادہ ٹیسٹ میچوں میں قیادت کرنے والے پاکستانی کپتان بھی بن گئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پاکستانی کرکٹ ٹیم نے اس سال ویسٹ انڈیز کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ٹیسٹ سیریز جیتی لیکن دبئ اور ابوظہبی کے ٹیسٹ میچوں کی جیت کے بعد شارجہ میں شکست سب کے لیے غیرمتوقع تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستانی ٹیم کو نیوزی لینڈ میں کھیلے گئے دونوں ٹیسٹ میچوں میں شکست ہوئی۔
پاکستانی ٹیم اسوقت آسٹریلیا کے دورے پر ہے جہاں برسبین کے پہلے ٹیسٹ میچ میں شکست کے بجائے اس کی زبردست فائٹ بیک کے چرچے جاری ہیں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
اس سال پاکستانی ٹیم کی ون ڈے انٹرنیشنل میں کارکردگی خاصی مایوس کن رہی۔
اسے نیوزی لینڈ میں دو صفر اور پھر انگلینڈ میں چار ایک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
پاکستانی ٹیم کی کامیابیاں صرف آئرلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے خلاف رہیں۔
اس وقت صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی ٹیم ون ڈے کی عالمی رینکنگ میں نویں نمبر پر ہے اور ورلڈ کپ میں اس کی براہ راست شرکت پر سوالیہ نشان لگا ہوا ہے۔
ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں بھی پاکستان کے لیے یہ سال اچھا ثابت نہ ہوسکا۔
پاکستانی ٹیم بھارت میں منعقدہ ورلڈ ٹی ٹوئنٹی میں چار میں سے تین میچز ہارکر سیمی فائنل میں پہنچنے میں ناکام رہی۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے سرفراز احمد کو قیادت سونپ دی۔

،تصویر کا ذریعہAFP
شاہد آفریدی کی الوداعی میچ کھیل کر بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہنے کی خواہش پوری نہ ہوسکی۔
فاسٹ بالر محمد عامر چھ سال کے بعد دوبارہ انگلینڈ کے میدانوں میں کھیلتے ہوئے دکھائی دیے۔ 2010 میں انگلینڈ میں ہی ان پر سپاٹ فکسنگ کے الزامات سامنے آئے تھے جس کے بعد انھیں پانچ سال کی پابندی عائد کر دی گئی۔
ورلڈ ٹی ٹوئنٹی کے بعد وقاریونس بھی پاکستانی ٹیم کے کوچ نہ رہے اور ان کی جگہ مکی آرتھر کو نیا کوچ مقرر کردیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سال پہلی پاکستان سپر لیگ کا کامیابی سے انعقاد کیا جس میں پانچ ٹیموں نے حصہ لیا۔
مصباح الحق کی قیادت میں اسلام آباد یونائٹڈ نے فائنل میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو چھ وکٹوں سے شکست دی۔
انفرادی کارکردگی میں اظہرعلی نے اس سال ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی طرف سے سب سے زیادہ رنز اسکور کیے۔
انھوں نے پاکستان کے پہلے ڈے نائٹ ٹیسٹ میچ میں ٹرپل سینچری بھی سکور کی۔
بولنگ میں یاسر شاہ حسب معمول جیت میں اپنا کردار ادا کرتے رہے۔
ون ڈے انٹرنیشنل میں بابراعظم کا ٹیلنٹ ابھر کر سامنے آیا جنھوں نے ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز میں لگاتار تین سنچریاں اسکور کیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس سال لٹل ماسٹر حنیف محمد دنیا سے رخصت ہوئے۔
وہ بین الاقوامی کرکٹ میں پاکستان کا پہلا تعارف تھے۔
حنیف محمد کی 337 اور 499 رنز کی دو یادگار اننگز آج بھی کرکٹ کا بیش قیمت سرمایہ ہیں اور جب بھی کسی بیٹسمین کی ثابت قدمی انہماک اور جرات مندی کی بات ہوتی ہے مثال انہی دو اننگز کی دی جاتی ہے۔







