’مصباح جیسا کپتان اب آسانی سے نہیں ملے گا‘

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کرکٹ کی دنیا میں 'ٹو ڈبلیوز' کے نام سے مشہور شہرۂ آفاق پاکستانی فاسٹ بولرز وسیم اکرم اور وقار یونس نے مصباح الحق کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ مصباح الحق کا متبادل ملنا آسان نہیں اور انھیں ایک ایسے کپتان کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے بکھری ہوئی ٹیم کو استحکام دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
وسیم اکرم نے بی بی سی کےنامہ نگار عبدالرشید شکور کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ مصباح الحق کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دباؤ میں نہیں گھبراتے حالانکہ ان پر زبردست تنقید بھی ہوتی رہی اور ایک زمانے میں انھیں ُٹک ُٹک بھی کہا گیا لیکن سچ یہ ہے کہ اگر مصباح الحق ُٹک ُٹک نہ کرتے تو پاکستانی ٹیم کے رنز کیسے بنتے؟۔
وسیم اکرم نے کہا کہ مصباح الحق نے سنہ 2010 میں جب ٹیم کی قیادت سنبھالی تو اس وقت ٹیم شدید مشکلات میں گھری ہوئی تھی لیکن وہ اس ٹیم کو عالمی نمبر ایک کی پوزیشن پر لے آئے جو ایک بہت بڑا کارنامہ ہے۔ اس دوران ان کی اپنی کارکردگی بھی بہت اچھی رہی۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان سپر لیگ کی اسلام آباد یونائیٹڈ ٹیم میں انھیں دوسال سے مصباح الحق کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ہے اور انھوں نے انھیں ایک ایسا کرکٹر پایا ہے جنھیں کھیل کی بہت زیادہ معلومات ہیں اور انھیں کرکٹ کا جنون ہے، یہی وجہ ہے کہ انھیں کامیابیاں مل رہی ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
فاسٹ بولر وقار یونس نے گیانا سے بی بی سی کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ سپاٹ فکسنگ سکینڈل کے وقت وہ پاکستانی ٹیم کے کوچ تھے اور اس وقت بورڈ نے مصباح الحق کو کپتان بنانے کا درست فیصلہ کیا تھا کیونکہ پاکستانی ٹیم کو ایک ایسے ہی سلجھے اور سمجھدار کپتان کی ضرورت تھی۔
وقار یونس کا کہنا ہے کہ کوچ اور کپتان کی حیثیت سے ہم دونوں نے ایک ساتھ اچھا کام کیا اور ہمارے نزدیک پہلی ترجیح یہی تھی کہ ٹیم کو مستحکم کیا جائے اس کوشش میں نئے کھلاڑی ٹیم میں شامل کیے گئے اور ٹیم نے جیتنا شروع کیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا کہ مصباح الحق پر غیرضروری تنقید بھی ہوئی لیکن انھوں نے بڑے حوصلے سے اسے برداشت کیا اور اپنی کارکردگی سے اس کا جواب دیتے رہے۔
وقار یونس کا کہنا ہے کہ مصباح الحق کو کھیل کے سفیر اور رول ماڈل کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا اور ان جیسا کپتان پاکستان کرکٹ بورڈ کو اب آسانی سے نہیں ملے گا۔










