پاکستانی باکسنگ کا عروج سے زوال تک کا سفر: ’اگر آج میں پاکستان میں ہوتا تو گدھا گاڑی چلا رہا ہوتا‘

انور

،تصویر کا ذریعہAkbar Shah

،تصویر کا کیپشنانور چوہدری کیوبا کے فیڈل کاسترو کے ہمراہ
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

’پاکستانی باکسرز کے معاشی مسائل حل کیے جاتے تو اولمپک باکسر ملنگ بلوچ کو کراچی کے ایک ٹورنامنٹ کے دوران رنگ میں داخل ہو کر سرعام یہ نہ کہنا پڑتا کہ وہ فائٹ نہیں کرسکتے کیونکہ رات سے انھوں نے کھانا نہیں کھایا۔‘

یہ کہنا تھا لیاری سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی نادر شاہ عادل کا۔ وہ کہتے ہیں کسی نے بھی پاکستان کے باکسرز کی غربت دور کرنے کی کوشش نہیں کی حالانکہ یہ باکسرز معاشی جبر کے باوجود اپنی بہترین صلاحیتوں کا مظاہرہ کرتے رہے۔

’ان باکسرز کی غربت کو دور کرنے کے لیے عملی اقدامات اٹھائے جاتے تو خان محمد، محمد علی ُمشکی اور دوسرے باکسرز بازاروں میں ریڑھیاں لگانے پر مجبور نہ ہوتے اور عبدالعزیز جونا مارکیٹ کی فٹ پاتھ پر بیٹھ کر تالے چابیاں نہ بنا رہے ہوتے۔‘

یہ بھی پڑھیے

باکسنگ کے بارے میں کسی نے سچ کہا ہے کہ اس نے غربت کی کوکھ سے جنم لیا ہے۔ دنیا کے کئی ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی باکسنگ ُامرا کا کھیل نہیں رہا۔

یہاں باکسرز رنگ میں اپنے حریفوں اور رنگ سے باہر حالات کے تابڑ توڑ مکوں کا سامنا کرتے آئے ہیں لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صورتحال اب اس قدر مایوس کن ہوچکی ہے کہ پاکستان بین الاقوامی باکسنگ کے دھارے سے باہر ہوچکا ہے اور ماضی میں اسے جو مقام حاصل تھا وہ کھوچکا ہے۔

یہ سب کچھ ایک ایسے کھیل کے ساتھ ہوا ہے جس میں پاکستان نے بین الاقوامی سطح پر سب سے زیادہ تمغے جیتے ہیں۔

وسیم

،تصویر کا ذریعہGetty Images

روشن ماضی لیکن پھر کیا ہوا ؟

بین الاقوامی باکسنگ مقابلوں میں پاکستان کا ریکارڈ متاثر کن رہا ہے۔

ایشین گیمز کے باکسنگ مقابلوں میں پاکستان نے 6 طلائی 20 چاندی اور 35 کانسی کے تمغے جیتے ہیں۔ ایشین باکسنگ چیمپئن شپ میں پاکستان کے حاصل کردہ طلائی تمغوں کی تعداد 17 ہے چاندی کے 9اور کانسی کے 16 تمغے اس کے علاوہ ہیں۔

کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان نے باکسنگ میں ایک طلائی چاندی کے 3 اور کانسی کے4 تمغے حاصل کیے ہیں۔

اولمپکس میں پاکستان نے ہاکی کے علاوہ جن دو کھیلوں میں تمغے جیتے ہیں ان میں ایک پہلوانی اور دوسرا باکسنگ ہے۔ 1988 کے سول اولمپکس میں باکسر حسین شاہ نے کانسی کا تمغہ جیتا تھا۔

ساؤتھ ایشین گیمز میں پاکستانی باکسرز کی کارکردگی بہت شاندار رہی ہے۔ ان کھیلوں میں پاکستان نے 62 طلائی 28 چاندی اور 19 کانسی کے تمغے جیتے ہیں۔ حسین شاہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے لگاتار پانچ ساؤتھ ایشین گیمز میں طلائی تمغے جیتے ہیں۔

لیکن پھر یہی باکسرز جنھوں نے ملک کا نام روشن کیا معاشی پریشانیوں میں ایسے پھنسے کہ ان میں سے کچھ گمنامی میں گم ہوگئے اور کچھ بہتر مستقبل کی خاطر ملک چھوڑنے پر مجبور ہوگئے۔

حسین شاہ نے سکواش کے عظیم کھلاڑی جہانگیر خان کی مدد سے بیرون ملک راہ لی اور برطانیہ امریکہ سے ہوتے ہوئے جاپان میں سکونت اختیار کرلی۔

حسین شاہ برملا کہتے ہیں کہ ’اگر آج میں پاکستان میں ہوتا تو گدھا گاڑی چلارہا ہوتا‘۔ جاپان میں انھوں نے دوسروں کو باکسنگ سکھائی لیکن خود ان کا بیٹا شاہ حسین شاہ جوڈو کا انٹرنیشنل کھلاڑی بنا جس نے کامن ویلتھ گیمز میں پاکستان کے لیے چاندی کا تمغہ جیتا۔

باکسنگ

،تصویر کا ذریعہGetty Images

محمد وسیم وہ آخری باکسر ہیں جنھوں نے بین الاقوامی سطح پر قابل ذکر کارکردگی دکھائی۔ انھوں نے 2014 کے کامن ویلتھ گیمز میں چاندی اور اسی سال ایشین گیمز میں کانسی کا تمغہ جیتا لیکن ٹریننگ کی سہولتوں کے لیے اپیلیں کرتے کرتے تھک گئے تو پروفیشنل باکسنگ میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کرلیا اور جب پروفیشنل باکسنگ میں ٹائٹل جیتا تو سرکاری ارباب اختیار ان کے بیلٹ کے ساتھ ایسے تصویریں بناتے رہے جیسے یہ بیلٹ انھوں نے جیتا ہو۔

پروفیسرانور چوہدری کون تھے؟

پاکستانی باکسنگ کو عروج پر پہنچانے میں پروفیسر انورچوہدری کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ یہ ساٹھ کے عشرے کی بات ہے جب پاکستانی سپورٹس کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرنے والے برگیڈیئر راڈیم نے باکسنگ فیڈریشن کی داغ بیل ڈالی تھی اور پروفیسر انورچوہدری کو سیکریٹری کے طور پر سامنے لائے تھے۔

پروفیسر انور چوہدری باکسنگ کی دنیا کی ہمہ جہت شخصیت تھے جنھوں نے اس کھیل کو بین الاقوامی سطح پر شناخت اور تعظیم دلائی۔ وہ انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن ( آئبا) کے 20 سال تک صدر رہے۔ وہ عالمی تنظیم کے بارہ سال سیکریٹری اور آٹھ سال نائب صدر بھی رہے۔

اولمپک باکسنگ میں جب غیرشفاف پوائنٹس سسٹم پر بہت زیادہ تنقید ہوئی اور انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی نے باکسنگ کو اولمپکس سے خارج کرنے کی دھمکی دی تو پروفیسرانور چوہدری نے ایک انجینئر ہونے کے ناتے اس مسئلے کا حل کمپیوٹرائزڈ پوائنٹس سسٹم کی صورت میں نکالا اور اسے بین الاقوامی مقابلوں میں متعارف کراکر تمام تنازعات کا خاتمہ کیا۔

پروفیسر انور چوہدری کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انھوں نے ایشین باکسنگ فیڈریشن قائم کی۔ انڈونیشیا کے سابق صدر سوہارتو فیڈریشن کے پہلے صدر منتخب ہوئے تھے۔

پروفیسر انور چوہدری کی طاقتور شخصیت کی وجہ سے پاکستانی باکسرز کو ٹریننگ کے سلسلے میں بہت زیادہ فائدہ ہوا۔ آئبا کے صدر کی حیثیت سے ان کے متعدد سربراہان ممکت سے تعلقات تھے جن میں کیوبا کے فیڈل کاسترو قابل ذکر تھے۔

یہی وجہ ہے کہ پروفیسر انورچوہدری کے دور میں کیوبا کے کوچز باقاعدگی سے پاکستان آکر پاکستانی باکسرز کو تربیت دیا کرتے تھے اس کے علاوہ پاکستانی باکسرز تربیت کے لیے دیگر ممالک میں بھی جایا کرتے تھے۔

انور چوہدری

،تصویر کا ذریعہHussain Shah

،تصویر کا کیپشنانور چوہدری

پروفیسر انورچوہدری کی باکسنگ میں اعلی خدمات پر انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی اور یونیسکو نے انھیں اعلی اعزازات سے نوازا۔ تھائی لینڈ کے بادشاہ نے انھیں ملک کا اعلی اعزاز دیا جبکہ امریکہ فلپائن آذربائیجان اور ازبکستان کی یونیورسٹیوں نے انہیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگریاں دیں۔ حکومت پاکستان نے انھیں ستارہ امتیاز دیا تھا۔

حالات نے کیسے پلٹا کھایا ؟

پروفیس انور چوہدری کے جانے کے بعد پاکستانی باکسنگ کو جیسے زنگ لگ گیا ۔ان کے بعد جو بھی پاکستان باکسنگ فیڈریشن میں آیا اسے نہ تو اس کھیل کی باریکیوں کا علم تھا اور نہ ہی وہ بین الاقوامی سطح پر اثر ورسوخ رکھتا تھا نتیجتاً پاکستانی باکسنگ کی پوزیشن کمزور پڑتی چلی گئی۔ کبھی دو فیڈریشنز کا ڈرامہ رچایا گیا تو کبھی چہرے تبدیل ہوئے اور اب مخصوص چہرے ہی فیڈریشن میں نظر آتے ہیں۔

پاکستانی باکسرز نے آخری بار 2004 کے ایتھنز اولمپکس میں حصہ لیا تھا یعنی سولہ سال سے پاکستانی باکسرز اولمپکس میں شرکت سے محروم ہیں۔ وہ کوالیفائنگ مقابلوں سے آگے ہی نہیں بڑھ پاتے ہیں۔

اولمپکس تو دور کی بات پاکستانی باکسرز ساؤتھ ایشین گیمز میں 2010 کے بعد سے ایک بھی گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔

سابق انٹرنیشنل ریفری جج علی اکبر شاہ کا کہنا ہے کہ صرف باکسرز ہی نہیں بلکہ پاکستان کے ریفری جج۔ ٹیکنیکل ڈیلیگیٹ اور جیوری ممبرز جو ماضی میں اولمپکس سمیت تمام بڑے ٹورنامنٹس کا حصہ ہوا کرتے تھے اب وہ بھی کہیں نظرنہیں آتے جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ پاکستان عملاً بین الاقوامی باکسنگ سے دور ہوچکا ہے۔

اداروں نے بھی منہ موڑلیا

پاکستان میں باکسنگ کی ترقی میں اداروں کا اہم کردار رہا تھا۔ آرمی نیوی اور ائرفورس کسی زمانے میں بہترین باکسرز تیار کیا کرتے تھے کیونکہ ان کے پاس تجربہ کار کوچ ہوا کرتے تھے جو ریٹائر ہوگئے اب وہ باکسرز تیار کرنے کے بجائے انھیں مختلف جگہوں سے حاصل کررہے ہیں اور ان کی جانب سے بھی کوئی ورلڈ کلاس باکسر سامنے نہیں آیا تاہم ان اداروں میں باکسنگ اب بھی باقاعدگی سے ہوتی ہے۔

کراچی پورٹ ٹرسٹ ۔ کے ای ایس سی۔ پاکستان اسٹیل اور سندھ گورنمنٹ پریس میں باکسنگ کی مضبوط ٹیمیں ہوا کرتی تھیں جو غیر ملکی دوروں پر جاکر ٹورنامنٹس میں حصہ لیتی تھیں لیکن ان اداروں نے ٹیمیں ہی ختم کردیں۔

پاکستان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

کے ای ایس سی نے کراچی میں چار سال تک بین الاقوامی باکسنگ ٹورنامنٹ سپانسر کیا تھا لیکن کے ای ایس سی سے کے الیکٹرک میں تبدیل ہونے کے ساتھ ہی اس نے بھی باکسنگ سے منہ موڑلیا۔

صوبائی سطح پر باکسنگ کبھی منظم تھی لیکن اب وہ بھی بکھر چکی ہے۔ کلب۔ ڈسٹرکٹ اور ڈویژنل باکسنگ کے ذریعے ہر صوبے کو باصلاحیت باکسرز ملا کرتے تھے جو قومی سطح پر ہوتے ہوئے بین الاقوامی سطح پر جایا کرتے تھے لیکن اب یہ سلسلہ بھی غیرمؤثر ہوچکا ہے ۔

لیاری، باکسنگ کا مضبوط قلعہ

لیاری میں قیام پاکستان سے پہلے ہی باکسنگ ہورہی تھی۔ اس کھیل میں سب سے قابل ذکر نام کوچ استاد سّٹو کا ہے جنھیں ہیرے تلاش کرکے تراشنے کا فن آتا تھا۔ پاکستان کے کئی بین الاقوامی باکسرز انھی کے شاگرد تھے۔

نادر شاہ عادل کہتے ہیں انھوں نے خود استاد نذر محمد جیسے بہترین باکسر اور ٹرینر کو عمر کے آخری حصے میں بدحالی کا شکار ہوتے دیکھا ہے۔

وہ کہےت ہیں میں وہ خود اس بات کا عینی شاہد ہوں ’جب استاد عبداللہ بلوچ کو ایک صنعت کار کی جانب سے بچوں کی عیدی کے پیسے دیے گئے تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑے تھے۔ اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوسکتا ہے۔‘