جان پرمل: ’افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے کیسے کیسے ہیرو نظر انداز کردیے ہیں‘

جان پرمل

،تصویر کا ذریعہAnthony Permal

،تصویر کا کیپشنجان پرمل ایک دہائی تک پاکستان کے تیز ترین ایتھلیٹ رہے
    • مصنف, محمد زبیر خان
    • عہدہ, صحافی

ایک دہائی تک پاکستان کے تیز ترین ایتھلیٹ رہنے والے جان پرمل نے اپنی دنیا خود تعمیر کی تھی۔ بچپن کراچی صدر کے ایک بنگلے کے گیراج میں گزارا تھا جبکہ کھیل کی دنیا میں بھی انھیں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے کے لیے سخت محنت، صبر اور حوصلے سے کام لینا پڑا تھا۔

ان کا شمار اُن تاریخ ساز شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے ڈھاکہ کے اندر ہونے والی آخری متحدہ پاکستان گیمز 1968 میں حصہ لیا تھا اور اس میں نہ صرف فاتح رہے تھے بلکہ انھوں نے پاک آرمی کی ٹیم کو شکست دی تھی جس کا اُس وقت تک کوئی تصور موجود نہیں تھا۔

جان پرمل کی موت کی تصدیق اُن کے بیٹے انتھونی نے اپنے ٹوئٹر اکاوئنٹ کے ذریعے 27 مارچ کو کی۔ انھوں نے اپنے والد کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک جنگجو تھے۔ انھیں کینسر کی تشخیص گذشتہ سال جون کے ماہ میں ہوئی۔ ڈاکٹروں کے مطابق ان کی زندگی کے تین ہفتے باقی تھے مگر انھوں نے دس ماہ تک کینسر سے جنگ لڑی۔

انتھونی کا کہنا تھا کہ ’عملی زندگی سے مکمل ریٹائرمنٹ کے بعد بھی وہ زندگی کے آخری دس سال روزانہ تین کلومیٹر چلا کرتے تھے۔ وہ ہمارے خاندان کے سب سے پسند کیے جانے والی شخصیت تھے۔‘

یہ بھی پڑھیے

’شعیب اختر کو وہ اکثر بولنگ کرواتے ہوئے دیکھا کرتے تھے اور انھیں بہت پسند کرتے تھے۔ ایک ایتھلیٹ کی حیثیت سے انھیں شعیب اختر کا بولنگ سے قبل رن اپ بہت پسند تھا۔ شعیب اختر کی اتنی تیز بولنگ پران کو کوئی حیرت نہیں ہوتی تھی کیونکہ اُن کے بقول وہ تیز دوڑتے تھے۔ دنیا کے ایک بہترین ایتھلیٹ نے دوسرے ایتلھیٹ کو پہچان لیا تھا۔‘

اس حوالے سے انھوں نے انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز کو سال 2016 میں دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ ڈھاکہ میں فتح ہر لحاظ سے یادگار اور شاندار تھی کیونکہ ہم تاریخ کی وہ ٹیم تھی جنھوں نے پہلی مرتبہ پاک آرمی کی ٹیم کو شکست دی تھی۔ اسی طرح اولمپک میں حصہ لینا بھی میرے لیے بہت بڑی کامیابی تھی۔ البتہ اس سے کوئی پیشہ ورانہ تبدیلی نہیں آئی کیونکہ اُن دونوں ہمیں کوئی پیسے نہیں دیتا تھا۔

جان پرمل

،تصویر کا ذریعہAnthony Permal

،تصویر کا کیپشنجان پرمل

جان پرمل 1946 - 2019

72 برس کے جان پرمل دس سال تک پاکستان کے تیز رفتار انسان رہے۔ انھوں نے اپنا پہلا قومی اعزاز 1965 میں لاہور میں جیتا تھا۔ جس کے بعد وہ 1974 تک نا قابل شکست رہے۔

اس دوران انھوں نے راولپنڈی میں 1967 میں تیز رفتار ایتھیلٹ کا اعزاز حاصل کیا۔ 1968 ڈھاکہ میں بھی فتح یاب رہے۔ سنہ 1970 میں کراچی کے قومی کھیلوں میں بھی جیت ان کے نام رہی۔ 1971 نواب شاہ قومی کھیلوں میں بھی انھوں نے میدان مارا۔ سنہ 1973 اور 1974 لاہور میں بھی کامیاب ٹھہرے تھے۔

جرمنی کے شہر بون میں 1969 میں منعقدہ بین الاقوامی مقابلے میں انھوں نے سو میٹر دوڑ کا فاصلہ دس اعشاریہ چار سیکنڈ میں طے کیا جو ان کی زندگی کا بہترین وقت ٹھہرا تھا۔

سنہ 1966 اور 1970 میں انھوں نے بینکاک میں منعقدہ ایشین گیمز میں پاکستان کی نمائندگی کی تھی۔ سنہ 1970 کی کامن گیمز میں بھی وہ شریک ہوئے تھے۔

اس دور کے اندر بین الاقوامی میڈیا جان پرمل کو بہت اہمیت دیتا تھا ۔ البتہ سنہ 1974 وہ کھیلوں کی دنیا کو خیر آباد کہہ کر دبئی منتقل ہوگئے تھے۔ جہاں پر وہ ٹریول ایجنسی کے کاروبار سے منسلک ہوئے تھے۔

جان پرمل

،تصویر کا ذریعہAnthony Permal

،تصویر کا کیپشنسنہ 1964 میں پہلی مرتبہ انھوں نے پاکستان کے تیز ترین ایتھلیٹ کا اعزاز حاصل کیا تھاس

جان پرمل کے دوست محمد طالب

کھیلوں کی دنیا میں تمغہ امتیاز پانے والے محمد طالب کو اپنے دوست اور ساتھی جان پرمل کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات اچھی طرح یاد ہیں۔ محمد طالب، جان پرمل سے سینئر تھے اور بعد میں جان پرمل کے کوچ بھی رہے تھے۔

82 برس کے محمد طالب نے بی بی سی کو بتایا کہ ’پہلی مرتبہ جب جان پرمل سے ملاقات ہوئی تو محسوس ہوا کہ ان میں آگے بڑھنے اور کچھ کرنے کی لگن ہم سب سے زیادہ ہے۔ اس وقت سے شروع ہونے والی دوستی چند دنوں، مہینوں نہیں بلکہ سالوں پر محیط رہی۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’وہ سب سے زیادہ محنت کرتے تھے۔ سب سے پہلے تربیت اور ورزش کے لیے سٹیڈیم پہنچ جایا کرتے تھے اور سب سے آخر میں رخصت ہوتے تھے۔ خاموش طبع، مہربان اور دوستوں کے کام آنے والے شخص تھے۔ فتح اور شکست کے موقع پر بھی کبھی انھوں نے متانت اور وقار کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا تھا۔ فتح پا کر بھی وہ ہمیشہ انتہائی پُرسکون رہتے تھے۔‘

’غالباً 1964 میں پہلی مرتبہ انھوں نے پاکستان کے تیز ترین ایتھلیٹ کا اعزاز حاصل کیا تھا۔ اس موقع پر بھی انھوں نے بھنگڑا ڈالنے کے بجائے بڑے وقار سے دوستوں کے ساتھ خوشی منائی تھی۔ اس انداز نے سب کو انتہائی خوشگوار حیرت میں مبتلا کردیا تھا۔‘

محمد طالب کا کہنا تھا کہ ’جان پرمل کے لیے زندگی آسان نہیں تھی۔ ان کا بچپن انتہائی سخت اور مشکل حالات سے گزرا تھا۔ انھوں نے مجھے کئی مرتبہ بتایا کہ دوڑ کا آغاز انھوں نے بچپن ہی سے کردیا تھا۔ وہ کراچی صدر سے اپنے سکول دوڑتے ہوئے جایا کرتے تھے اور دوڑتے ہوئے ہی واپس آتے تھے۔ شاید یہ اُن کے لیے قدرت نے خود ہی تربیت کا انتظام کردیا تھا جس سے انھوں نے مستقبل میں خوب فائدہ اٹھایا تھا۔‘

’مجھے اچھی طرح یاد ہے جان پرمل کی کامیابیوں اور زندگی کے حالات کچھ بہتری کی جانب اس وقت گامزن ہوئے جب انٹر کالجز کے کئی مقابلوں میں وہ فتح یاب ہوئے۔ اس کے بعد ریلوے نے اُن کو ٹکٹ چیکر کی ملازمت دی اور معاہدہ یہ تھا کہ اگر جان پرملر نے گولڈ میڈیل حاصل کیا تو انھیں پروموشن دے دی جائے گی۔ انھوں نے کئی مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتے تھے مگر کبھی بھی پروموشن نہیں ملی۔‘

پاک آرمی کی ٹیم کو شکست دینے پر تو حقیقی معنوں میں جان پرمل کا ڈنکا بجنا شروع ہوگیا تھا۔

جان پرمل

،تصویر کا ذریعہAnthony Permal

،تصویر کا کیپشنجان پرمل ان لوگوں میں سے ہیں جن کو سبز کوٹ پہننے کا اعزاز حاصل ہوا

جان پرمل کی زندگی کا آخری انٹرویو

جان پرمل نے انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز کو دیے گئے انٹرویو میں کہا تھا کہ میں نے سکول کے زمانے سے دوڑنا شروع کردیا تھا۔ جب اس بات کا احساس ہوا کہ مجھ میں ٹیلنٹ موجود ہے تو کالج نے میری حوصلہ افزائی کی اور مجھے کراچی ایتھیلیٹ کے تربیتی مرکز میں بھیجا جہاں پر میری بہتر تربیت شروع ہوئی تھی۔

پاکستان میں اتھلیٹس کا تربیتی سنٹر کھولنے کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ہمیشہ نہیں دوڑ سکتا، عمر آڑے آجاتی ہے۔ اتھیلیٹکس یہاں (پاکستان) انتہائی نظر انداز کھیل ہے۔ اس لیے یہاں پر کوئی تربیتی سنٹر کھولنا بیکار ثابت ہوسکتا ہے۔

مجھے پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔ میں ان لوگوں میں سے ہوں جن کو سبز کوٹ پہننے کا اعزاز حاصل ہوا۔ مگر پاکستان میں اتھیلیٹ کے مستقبل سے بہت مایوس ہوں۔ کسی منزل، مقصد کے لیے کوئی امید درکار ہوتی ہے، مگر ابھی کی صورتحال میں بہت امید ہوں۔

دسد

،تصویر کا ذریعہAnthony Permal

جان پرمل کی موت پر رد عمل

پاکستان میں ایتھلیٹ اور کھیلوں سے وابستہ شخصیات نے جان پرمل کی موت پر انتہائی دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ ہر ایک نے جان پرمل کو نظر انداز کیے جانے پر بھی اپنے دکھ کا اظہار کیا ہے۔

پاکستان کے باکسنگ سٹار محمد وسیم نے جان پرمل کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرنے کے علاوہ نظر انداز کیے جانے پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’قوم کو سمجھنا چاہیے کہ کرکٹ کے علاوہ بھی دیگر کھیلوں کی اہمیت ہے۔‘

’جب بھی یہ سوچتا ہوں کہ کتنے عظیم کھلاڑی قوم کی داد سے محروم رہ چکے ہیں تو انتہائی دکھ اور افسوس ہوتا ہے اور ہم نے کیسے کیسے ہیرو نظر انداز کردیے ہیں جن میں ایک جان پرمل بھی شامل ہیں۔‘

پاکستان کے ٹینس سٹار اعصام الحق نے بھی شاندار الفاظ میں جان پرمل کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

سندھ ایتھیلٹ ایسوسی ایشن کے صدر زاہد رضوی کے مطابق انھوں نے اپنے بچپن میں جان پرمل کو دوڑتے دیکھا تھا اور وہ ان سے متاثر تھے جس وجہ سے خود 1970 میں ایتھیلٹ بنے تھے۔ وہ بہت سے لوگوں کے لیے رول ماڈل ہیں اور وہ کھیلوں کی دنیا میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

سابق قومی ایتھیلٹ اور سندھ اولپمک ایسوسی ایشن کے عہدیدار احمد علی راجپوت کا کہنا تھا کہ بھلے موجود نسل جان پرمل صاحب کے بارے میں نہ جانتی ہو مگر ہم اسے کبھی بھی نہیں بھلا سکتے ہیں ۔ وہ ہمیشہ ان لوگوں کویاد رہیں گے جنھوں نے ان کو ٹریک پر دوڑتے ہوئے دیکھا تھا ۔ وہ ایک لیجنڈ تھے اور ایک لیجنڈ ہیں۔