اعظم خان: ’منفی باتیں سن کر برا لگتا ہے لیکن کسی کی زبان نہیں روک سکتے‘

اعظم خان
    • مصنف, عبدالرشید شکور
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی

ایک میچ وننگ اننگز کسی بھی کرکٹر کے کریئر کی کامیابی کی ضمانت نہیں دے سکتی لیکن یہ ُاس کرکٹر کو ایسا اعتماد ضرور فراہم کردیتی ہے جس کے بل پر وہ اپنی سمت متعین کرسکے۔

اکیس سالہ نوجوان بیٹسمین اعظم خان کو بھی ایک ایسی ہی اننگز کی اشد ضرورت تھی جو ان کو حوصلہ فراہم کرکے کریئر کی صحیح معنوں میں ابتدا کرسکے۔

پاکستان سپر لیگ فائیو کے افتتاحی میچ میں اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف ان کی تین چھکوں اور پانچ چوکوں سے سجی 59 رنز کی جارحانہ اننگز نے نہ صرف دفاعی چیمپئن کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی جیت میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ لوگوں کی ان کے بارے میں منفی رائے بھی بدل دی۔

اعظم خان اور معین خان

اعظم خان کون ہیں؟

اعظم خان پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور وکٹ کیپر بیٹسمین معین خان کے بیٹے ہیں۔ اپنے والد کی طرح وہ بھی وکٹ کیپر بیٹسمین ہیں جنہیں جارحانہ بیٹنگ کرنے میں مزا آتا ہے۔

معین خان بھی بڑے بڑے بولرز کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے چوکے چھکے لگانے میں شہرت رکھتے تھے۔ اعظم خان نے او لیول کیا ہے لیکن اب ان کی تمام تر توجہ کرکٹ پر ہے اور ایک پروفیشنل کرکٹر کی حیثیت سے وہ اپنا کریئر بنانے میں بہت سنجیدہ ہیں۔

اعظم خان نے بارہ سال کی عمر میں اپنی دھاک بٹھا دی تھی جب انٹراسکول ٹورنامنٹ کے ایک میچ میں انھوں نے ڈبل سنچری اسکور کی جس کے بعد انھوں نے اپنے والد کی کرکٹ اکیڈمی میں آنا شروع کردیا۔

معین خان کے بڑے بھائی سابق ٹیسٹ کرکٹر ندیم خان کو کریڈٹ جاتا ہے جنھوں نے اپنے بھتیجے میں موجود ٹیلنٹ کو بھانپ لیا اور اس بارے میں معین خان کو بتایا۔

یہ بھی پڑھیے

اعظم خان کلب کرکٹ کے ایک کامیاب بیٹسمین ہیں۔

وہ اپنے کلب کریئر میں پچاس سے زائد سنچریاں بناچکے ہیں۔ انھیں جن لوگوں نے بیٹنگ کرتے دیکھا ہے وہ بتاتے ہیں کہ ڈی ایچ اے معین خان اکیڈمی میں بیٹنگ کرتے ہوئے ان کے بلندوبالا چھکے میدان سے باہر جاکر گرتے ہیں جو معمول کی بات ہے۔

ایک کلب میچ میں انھوں نے اپنے والد کے ساتھ اوپننگ کی اور آٹھ چھکوں کی مدد سے صرف اڑتیس گیندوں پر 88 رنز سکور کیے۔ ان کے سامنے بولنگ کرنے والوں میں عمررشید اور ندیم خان بھی شامل تھے۔

اعظم خان نے ابھی تک ڈومیسٹک کرکٹ میں آٹھ ون ڈے اور دو ٹی ٹوئنٹی میچ کھیلے ہیں لیکن فرسٹ کلاس کرکٹ کا آغاز نہیں کیا ہے۔

پی ایس ایل

بہت زیادہ تنقید کیوں؟

اعظم خان کو جب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے پی ایس ایل کے لیے اپنی ٹیم میں شامل کیا تھا توفرنچائز کے چیئرمین ندیم عمر نے اس نوجوان بیٹسمین کو کرس گیل پلس قرار دیا تھا لیکن کچھ حلقوں کی جانب سے اعظم خان کی ٹیم میں شمولیت کو معین خان سے تعلق کے تناظر میں دیکھا گیا۔ ان پر تنقید کی ایک بڑی وجہ ان کی جسامت بھی رہی جس میں اس وقت اضافہ ہوگیا جب گذشتہ سال انھوں نے پی ایس ایل فور میں اپنا پہلا میچ ابوظہبی میں کھیلا۔

جب وہ پی ایس ایل فائیو کے پہلے میچ میں بیٹنگ کے لیے جا رہے تھے تو اس وقت بھی کچھ لوگوں نےان پر جملے کسے لیکن جب وہ انسٹھ رنز کی اننگز کھیل کر واپس آ رہے تھے تو یہ تنقید تعریف اور تالیوں میں بدل چکی تھی۔

اعظم خان کہتے ہیں کہ منفی باتیں سن کر ُبرا لگتا ہے لیکن آپ کسی کی زبان روک نہیں سکتے اس کا بہترین جواب یہی ہے کہ آپ اچھی پرفارمنس دے دیں۔

معین خان کہتے ہیں کہ اعظم خان کے ساتھ چونکہ ان کا نام جڑا ہوا ہے لہٰذا لوگ باتیں کرتے رہیں گے۔

یہ صورتحال شعیب محمد کے ساتھ بھی رہی کہ وہ حنیف محمد کے بیٹے ہیں حالانکہ انھوں نے اپنی کارکردگی سے اہلیت ثابت کی تھی۔ دیگر کرکٹرز کے ساتھ بھی یہی معاملہ رہا ہے لیکن کرکٹر کا بیٹا ہونا کوئی جرم نہیں ہے اگر آپ میرٹ پر کھیل رہے ہیں۔

اعظم خان کو اب اس پریشر میں کھیلنا ہوگا اور اپنی کارکردگی سے سب کو جواب دینا ہوگا۔ وہ یہی بات اپنے بیٹے کو سکھاتے ہیں۔

معین خان کا کہنا ہے کہ پچھلے چند ماہ کے دوران اعظم خان نے اپنی فٹنس پر بہت زیادہ توجہ دی ہے اور تقریباً تیرہ کلوگرام وزن کم کیا ہے لیکن اعظم کی جسامت ہی ایسی ہے۔

وہ موٹا لگتا ہے لیکن انھوں نے اسے یہی کہا ہے کہ اپنی فٹنس کے ساتھ ساتھ مہارت پر بھی کام کرو اور پرفارم کرو کیونکہ انھوں نے اپنے کریئر میں ایسے کئی بیٹسمین دیکھ رکھے ہیں، جنھوں نے اپنی جسامت اور فٹنس پر بے پناہ توجہ دی لیکن کھیل کی مہارت نہ ہونے کے وجہ سے ناکام رہے۔

اعظم خان

،تصویر کا ذریعہPCB

واضح رہے کہ پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے پانچویں ایڈیشن کے افتتاحی میچ میں جب کوئٹہ گلیڈی ایٹرز نے اسلام آباد یونائیٹڈ کو تین وکٹوں سے شکست دی تو ایک نوجوان کا نام نمایاں رہا اور اس پر سوشل میڈیا پر بھی کافی بات چیت ہوئی۔ یہ نام گلیڈی ایٹرز کے کوچ معین خان کے صاحبزادے اعظم خان کا تھا۔

اعظم خان ایسے وقت میں بلے بازی کے لیے کریز پر پہنچے تھے جب 169 رنز کے تعاقب میں ٹیم کے 26 پر تین آؤٹ ہو چکے تھے۔ انھوں نے محض 33 گیندوں پر 59 رنز کی بازی کھیلی اور اپنی ٹیم کی جیت میں ایک اہم کردار ادا کیا۔

اس کے باوجود سوشل میڈیا پر بعض لوگ انھیں ’پرچی‘ کہے بغیر نہ رہ سکے جس سے یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی تھی کہ اعظم خان کی سلیکشن میں ان کے والد اور ٹیم کے کوچ معین خان کا عمل دخل ہو سکتا ہے۔

تاہم کئی صارفین نے اعظم خان کے حق میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ انھوں نے اس باری سے اپنی سلیکشن کو درست ثابت کر دیا ہے۔

اعظم خان: ’صرف بیٹ سے جواب دوں گا‘

میچ کے اختتام پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اعظم خان نے بتایا کہ ’میں گذشتہ چار، پانچ ماہ سے اپنی فٹنس پر کام کر رہا تھا۔۔۔ بات جہاں تنقید کی ہے تو میں اس کو اتنا نہیں دیکھتا۔ اور اسے نظر انداز کرتا ہوں۔‘

’کبھی کبھار یہ سن کر بُرا لگتا ہے کہ لوگ اتنے منفی ہوجاتے ہیں۔ لیکن میں انھیں صرف اپنے بلے سے ہی جواب دے سکتا ہوں۔ میں (پی ایس ایل) کے پورے سیزن میں لوگوں کو اپنے بلے سے ہی جواب دوں گا۔‘

انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ انھیں اپنے والد اور کوچ معین خان اور کپتان سرفراز احمد سمیت کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے تمام لوگوں سے کافی حمایت ملی ہے۔

اعظم خان

،تصویر کا ذریعہPCB

’مجھے اپنی صلاحیت کا علم ہے اور اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے پرفارم کروں گا۔‘

اعظم خان نے یہ تسلیم کیا کہ ’آپ کسی کو کبھی چُپ نہیں کرا سکتے۔۔۔ امید ہے آگے بھی اچھا کھیل کر انھیں جواب دے سکوں گا۔‘

پریس کانفرنس کے دوران ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ ’جب میں بیٹنگ پر جا رہا تھا تو (کچھ) لوگ کافی منفی باتیں بول رہے تھے لیکن بات پرفارمنس کی ہے۔ جب آپ پرفارم کرو گے تو لوگ آپ کے لیے اچھے الفاظ استعمال کریں گے۔‘

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کے سربراہ ندیم عمر کا حوالہ دیتے ہوئے جب ایک صحافی نے اعظم خان سے پوچھا ان کا موازنہ کرس گیل سے کیا جاتا ہے تو ان کا جواب تھا کہ ’میں کرس گیل کا 10 فیصد بھی نہیں ہوں۔‘

انھوں نے بابر اعظم کی باصلاحیت بلے بازی کی تعریف بھی کی۔

سوشل میڈیا پر رد عمل

سوشل میڈیا پر اعظم خان کی نصف سنچری پر بھی ملا جلا رد عمل سامنے آیا جس میں بعض لوگوں نے تو ان کی بلے بازی کے سٹائل کی تعریف کی جبکہ کچھ صارفین ان سے زیادہ متاثر نہ ہوسکے۔

روشان

،تصویر کا ذریعہTwitter/@smrushanriaz

صحافی عماد حمید نے لکھا: ’وہ ہمیشہ ایک خاص ٹیلنٹ تھے۔ بہت اچھا لگا یہ دیکھ کر کہ انھوں نے پرفارم کر کے دکھایا ہے۔‘

روشان کہتے ہیں کہ ’تمام لاجک ختم ہوجاتا ہے جب میرٹ ناکام ہوجائے اور ’پرچی‘ (کہے جانے والے کرکٹرز) پرفارم کر جائیں۔‘

حماد کے مطابق اعظم خان کی باری ایک ایسی ہی مثال ہے کہ جب ’کلاس میں آخر پر بیٹھنے والا بچہ اپنی پریزنٹیشن سے سب کو حیران کر دیتا ہے۔‘

وقاص

،تصویر کا ذریعہTwitter/@ahmedwaqas992

عثمان علی نامی ایک صارف نے ان کا موازنہ شرجیل خان سے کر دیا جو پی ایس ایل میں اسی طرح جارحانہ بلے بازی کیا کرتے تھے۔

کئی لوگوں کا کہنا تھا کہ تمام تنقید کے باوجود اعظم خان نے اپنے آپ کو ثابت کیا ہے۔ لیکن کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے مطابق انھیں جلدی آؤٹ کیا جا سکتا تھا۔

وقاص نامی ایک صارف کے مطابق انھیں صحیح گیند بازی کی جاتی تو شاید وہ اتنا اچھا نہ کھیل پاتے۔

پرچی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@saleemkhaliq

صلاح الدین کہتے ہیں کہ ’اگر اعظم خان آئندہ پرفارم نہ کر سکے تو سمجھ جانا۔‘

شعیب جٹ کے مطابق جب اعظم کی سلیکشن ہوئی تھی تو بہت سے لوگوں نے اس پر تنقید کی تھی۔ ’آج وہ تمام لوگ ان کی تعریف کر رہے ہیں۔‘

کچھ لوگوں کو اس بات پر بھی اعتراض ہے کہ اعظم خان کے بارے میں یہ کہا جا رہا ہے کہ وہ تو ٹیلنٹ ہیں لیکن امام الحق کے لیے ایسے الفاظ سننے کو نہیں ملتے۔

نبیل

،تصویر کا ذریعہTwitter/@inabeelhashmi

نبیل نامی صارف لکھتے ہیں کہ لوگوں نے اعظم خان کا مذاق اڑایا لیکن انھوں نے اپنی بلے بازی کی صلاحیت گراؤنڈ میں ثابت کی۔