#UmarAkmal: پاکستان کرکٹ کے ’بیڈ بوائے‘ عمر اکمل ایک بار پھر تنازع کی زد میں

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستانی کرکٹر عمراکمل اپنی میدان میں کارکردگی کے بجائے تنازعات کی وجہ سے جانے پہچانے جاتے ہیں۔
سنہ 2009 میں انھوں نے جب اپنے پہلے ہی ٹیسٹ میچ میں سنچری سکور کی اس وقت ماہرین نے خیال ظاہر کیا کہ وہ مستقبل میں بھی شاندار کارکردگی دکھائیں گے لیکن بدقسمتی سے وہ اپنے کیرئیر میں ٹیلنٹ کے بجائے اپنی ذات سے منسوب تنازعات کی وجہ سے یاد رکھے جاتے رہے ہیں۔
عمراکمل پی ایس ایل کے آغاز کے موقع ہر دوبارہ خبروں کی زینت بن گئے ہیں اور اس بار بھی وجہ ایک تنازع ہی ہے۔
اسے بارے میں مزید پڑھیے
پاکستان کرکٹ بورڈ نے جمعرات 20 فروری کو انھیں اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر تحقیقات مکمل ہونے تک معطل کرتے ہوئے کرکٹ سے متعلق کسی بھی سرگرمی میں حصہ لینے سے روک دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پی سی بی اور نہ ہی ان کی ٹیم کوئٹہ گلیڈی ایٹر اس معاملے پر مزید تفصیلات فراہم کرنے یا تبصرہ کرنے کو تیار ہے اور پی ایس ایل کے آغاز سے چند گھنٹے قبل ایک کھلاڑی کی معطلی ایک مرتبہ پھر اس ٹورنامنٹ کی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ عمر اکمل کے بارے میں اس طرح کی شکایت سامنے آئی ہے بلکہ ان کا کریئر اس طرح کے واقعات سے بھرا پڑا ہے۔ ہم یہاں پر ان کے رویے اور ان کی فٹنس کے حوالے سے پیدا ہونے والے ماضی کے چند تنازعات پر نظر ڈالتے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کامران اکمل کی خاطر انجری کا بہانہ
عمر اکمل نے اپنا ڈیبو نیوزی لینڈ کے خلاف کیا تھا جہاں انھوں نے سنچری سکور کی۔ اس کے بعد پاکستان کی ٹیم دورہ آسٹریلیا پر گئی جہاں عمر اکمل کی پہلے دو میچوں میں کارکردگی مناسب تھی مگر پاکستان سیریز میں شکست کھا چکا تھا۔
مگر ان کے بڑے بھائی اور وکٹ کیپر کامران اکمل کی انتہائی ناقص پرفارمنس پر انھیں آخری میچ کے لیے ڈراپ کرنے کا اعلان کیا گیا تو بعد میں اپنا پانچواں میچ کھیلنے والے عمر اکمل نے مبینہ طور پر بھائی کے ڈراپ ہونے پر بطور احتجاج انجری کا بہانہ کیا اور کہا کہ وہ تیسرا میچ نہیں کھیلیں گے۔
بعد میں انھوں نے میچ تو کھیلا لیکن کرکٹ بورڈ نے ان پر جرمانہ عائد کر دیا۔ یہ عمر اکمل کے کیرئیر میں پہلا موقع تھا جب انھیں ڈسپلن کے حوالے سے سزا دی گئی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عمران خان سے بیٹنگ آرڈر کی شکایت
بھارت میں منعقدہ 2016 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے دوران جب سابق کرکٹر اور پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے پاکستانی ٹیم کے ہوٹل جاکر تمام کھلاڑیوں سے ملاقات کی تھی تو عمراکمل نے حیران کن طور پر سب کے سامنے عمران خان سے یہ شکایت کردی کہ ٹیم منیجمنٹ انھیں بیٹنگ آرڈر میں اوپر کے نمبر پر نہیں کھلارہی ہے۔
ورلڈ کپ کے بعد پاکستانی کرکٹ ٹیم کے اس وقت کے بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور نے عمراکمل پر تنقید کی اور کہا تھا کہ نیوزی لینڈ کےخلاف میچ میں انھوں نے باؤنڈری لگانے کی کوشش ہی نہیں کی جس کی ٹیم کو اشد ضرورت تھی۔
وقاریونس کی ورلڈ کپ رپورٹ
سنہ 2015 میں ایک روزہ کرکٹ کے عالمی کپ کے بعد ہیڈ کوچ وقاریونس نے اپنی رپورٹ پاکستان کرکٹ بورڈ کو دی جس میں انھوں نے عمراکمل اور احمد شہزاد کے مبینہ غیرسنجیدہ رویوں کے بارے میں منفی ریمارکس تحریر کیے تھے۔
وقاریونس نے اپنی رپورٹ میں واضح طور پر تحریر کیا تھا کہ ایک عمراکمل کو قربان کر کے ہم ایسے دوسرے کھلاڑیوں کو تیار کرسکتے ہیں جو کہ صحیح معنوں میں پاکستان کا ستارہ سینے پر سجا کر ملک کی نمائندگی کرنے میں فخر محسوس کریں گے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
مکی آرتھر سے جھگڑا
سنہ 2017 کی چیمپئنز ٹرافی سے قبل ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے عمراکمل کی فٹنس پر مکمل عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے انھیں انگلینڈ سے وطن واپس بھیج دیا تھا۔
دونوں کے درمیان اختلافات اس قدر شدید ہوگئے تھے کہ عمراکمل نے ایک پریس کانفرنس میں مکی آرتھر پر مبینہ طور پر نامناسب زبان میں گفتگو کا الزام عائد کردیا جس کی مکی آرتھر نے تردید کی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے عمراکمل کو اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کیا تھا۔
لاہور قلندرز کے برینڈن مک کلم ناراض
عمراکمل پاکستان سپر لیگ کے پہلے ایڈیشن میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بیٹسمین تھے لیکن اگلے دو ایونٹس میں وہ بری طرح ناکام رہے۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ لاہور قلندر نے انھیں تیسری پی ایس ایل کے دوران نہ صرف آخری پانچ میچوں کی ٹیم سے ڈراپ کیا بلکہ انھیں بنچ پر بھی نہیں بیٹھنے دیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
لاہور قلندر کی انتظامیہ نے اگرچہ اس بارے میں محتاط رویہ اختیار کیے رکھا لیکن کپتان برینڈن مک کلم نے عمراکمل کو ایک پیچیدہ شخص قرار دے دیا اور کہا کہ ان میں ٹیلنٹ ضرور ہے لیکن ان کے ساتھ مسائل بھی بہت ہیں۔
میچ فکسنگ کی پیشکش کا دعویٰ
عمراکمل نے دو سال قبل ایک ٹی وی انٹرویو میں یہ دعوی کیا کہ انھیں 2015 کے عالمی کپ میں بھارت کے خلاف میچ سے قبل اسپاٹ فکسنگ میں شریک ہونے کی پیشکش ہوئی تھی۔
پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کے اس دعوے کا نوٹس لیتے ہوئے انھیں اپنے اینٹی کرپشن یونٹ کے سامنے پیش ہونے کے لیے کہا ۔
آئی سی سی نے بھی اس بارے میں اپنی تحقیقات شروع کردی تھی جو ابھی ختم نہیں ہوئی ہے ۔
عمراکمل نے گزشتہ سال کینیڈا میں ہونے والی لیگ کے موقع پر اسی طرح کا دعوی کردیا اور اس بار انھوں نے سابق پاکستانی ٹیسٹ کرکٹرمنصور اختر کا نام لیا تھا جس کے بعدآئی سی سی کے انٹی کرپشن یونٹ نے منصور اختر سے پوچھ گچھ کی تھی۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ورلڈ کپ کھیلنے کا موقع گنوا دیا
گزشتہ سال ورلڈ کپ سے قبل آسٹریلیا کے خلاف کھیلی گئی ون ڈے سیریز میں عمراکمل کے لیے بہترین موقع تھا کہ وہ اچھی کارکردگی دکھاکر ورلڈ کپ کی ٹیم میں آجائیں۔
لیکن سیریز کے دوران رات گئے ٹیم ہوٹل سے باہر رہ کر کرفیو ٹائمنگ کی خلاف ورزی کرنے کا خمیازہ انھیں بھگتنا پڑا۔
اس سیریز میں بھی ان کی بیٹنگ کارکردگی بھی مایوس کن رہی اور وہ ورلڈ کپ کھیلنے سے محروم رہ گئے۔
ڈانس پارٹی
عمراکمل کو نومبر 2015 میں حیدرآباد میں ایک ڈانس پارٹی کے دوران پولیس حراست میں لے کر تھانے لی گئی تھی تاہم بعدازاں انھیں اس واقعے میں کلیئر کردیا گیا تھا۔
تھیٹر کی انتظامیہ سے جھگڑا
چند ماہ بعد اپریل 2016 میں عمراکمل فیصل آباد میں ایک اسٹیج ڈرامہ دیکھنے کے دوران تھیٹر کی انتظامیہ سے جھگڑے کے سبب شہ سرخیوں میں آئے تھے۔
اگرچہ انھوں نے کسی جھگڑے سے انکار کیا تھا تاہم پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس بارے میں تحقیقات کا اعلان کرتے ہوئے سی سی ٹی وی فوٹیج سے مدد لینے کا فیصلہ کیا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
ٹریفک وارڈن سے جھگڑا
عمراکمل دو مرتبہ لاہور میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ٹریفک وارڈن سے الجھ چکے ہیں۔ پہلا واقع فروری 2014 میں پیش آیا جب ٹریفک وارڈن کے ساتھ نامناسب گفتگو کرنے پر ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی تھی اور انہیں پولیس اسٹیشن لے جایا گیا تھا۔
اس کے بعد مارچ 2017 میں دوسرے واقعے میں ان پر اپنی گاڑی پر فینسی نمبر پلیٹ لگانے کا الزام تھا۔
غیرمنظور شدہ لوگو پہننے پر معطلی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2016کی قائداعظم ٹرافی کے موقع پر عمراکمل کو ایک میچ کے لیے معطل کیا کیونکہ انہوں نے پی سی بی کے کھیلوں کا سامان اور کپڑوں کے استعمال کے بارے میں قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی تھی۔
پی سی بی کے مطابق انھوں نے میچ کے دوران ایک ایسا ٹراؤزر پہنا تھا جس پر ایک غیرمنظور شدہ برانڈ کا لوگو نمایاں تھا۔









