عمر اکمل اور احمد شہزاد: کیا واقعی پاکستان ٹی20 کرکٹ سکواڈ میں سری لنکا کے خلاف دونوں کی ضرورت ہے؟

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
سری لنکا کے خلاف ٹی ٹوئنٹی سیریز کے لیےاعلان کردہ پاکستانی ٹیم کے 16 کھلاڑیوں میں دو نام ایسے ہیں جن پر سب کی بہت زیادہ توجہ ہے۔ ان کی بھی جنھوں نے عمر اکمل اور احمد شہزاد کو سلیکٹ کیا اور ان کی بھی جو ان دونوں کو دوبارہ میدان میں دیکھیں گے۔
اس غیرمعمولی توجہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ احمد شہزاد اور عمراکمل اپنے کریئر میں اپنے ٹیلنٹ سے زیادہ تنازعات کے سبب پہچانے جاتے رہے ہیں اور اسی وجہ سے آج تک یہ دونوں ٹیم کا مستقل حصہ نہیں بن سکے ہیں۔
چیف سلیکٹر مصباح الحق ان دونوں کی ٹیم میں شمولیت کا دفاع کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان دونوں نے ڈومیسٹک کرکٹ کے حالیہ میچوں میں اچھی کارکردگی دکھائی ہے۔
لیکن عام رائے کے مطابق یہ سلیکشن اس لیے حیران کن ہے کہ ان دونوں میں سے اب آخر کیا بہترین نکالنے کی کوشش کی جارہی ہے اور ان کے بجائے دوسرے بیٹسمینوں کو کیوں موقع نہیں دیا جاسکتا۔
مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
عمر اکمل اور احمد شہزاد کا سلیکشن حیران کن کیوں؟
عمراکمل نے آخری مرتبہ ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میں پاکستان کی نمائندگی تین سال پہلے ویسٹ انڈیز کےخلاف کی تھی۔ انھیں اس سال آسٹریلیا کے خلاف متحدہ عرب امارات میں کھیلی گئی ون ڈے سیریز کے پانچوں میچوں میں موقع دیا گیا لیکن وہ صرف 150 رنز بنا سکے جس میں سب سے بڑا سکور 48 تھا۔
عمر اکمل اس سال پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی طرف سے کھیلے تھے لیکن 10 اننگز میں وہ صرف 2 نصف سنچریاں بنانے میں کامیاب ہوسکے تھے۔
عمراکمل نے اس سال پاکستان کپ ایک روزہ ٹورنامنٹ میں ایک سنچری اور 2 نصف سنچریاں بنائیں لیکن چونکہ ان کا سلیکشن ٹی ٹوئنٹی کے لیے ہوا ہے تو گذشتہ سیزن کے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ میں وہ پانچ میچوں میں محض 109 رنز بنا پائے۔
احمد شہزاد نے آخری بار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل گذشتہ سال سکاٹ لینڈ کے خلاف ایڈنبرا میں کھیلا تھا جس میں وہ صرف 24 رنز بنانے میں کامیاب ہوسکے تھے۔
احمد شہزاد نے رواں سال پاکستان سپر لیگ میں کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کی نمائندگی کرتے ہوئے 4 نصف سنچریاں بنائی تھیں تاہم پاکستان کپ ایک روزہ ٹورنامنٹ میں وہ صرف 2 نصف سنچریاں بناسکے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
پرفارمنس سے زیادہ ڈسپلن کا مسئلہ؟
احمد شہزاد اور عمر اکمل اپنی کارکردگی سے زیادہ ڈسپلن کی خلاف ورزی کے سبب ٹیم سے باہر رہے ہیں۔
2015 کے عالمی کپ کے اختتام پر کوچ وقار یونس نے اپنی رپورٹ میں ان دونوں کے بارے میں کہا اتھا کہ انھیں پاکستان ٹیم میں واپس آنے کے لیے فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلنی چاہیے۔
2016 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے اختتام پر کوچ وقار یونس نے ایک بار پھر اپنی رپورٹ میں ان دونوں، خاص طور پر عمر اکمل، کے مبینہ غیر ذمہ دارانہ رویے کا ذکر کیا تھا۔
وقاریونس کے الفاظ تھے ’ایک عمر اکمل کو قربان کر کے ہم دوسرے کھلاڑیوں کو تیار کرسکتے ہیں جو کہ صحیح معنوں میں پاکستان کا ستارہ سینے پر سجا کر ملک کی نمائندگی کرنے میں فخر محسوس کرسکتے ہیں۔‘
اس رپورٹ کے بعد چیف سلیکٹر انضمام الحق نےان دونوں کرکٹرز کو انگلینڈ کے دورے کے لیے تربیتی کیمپ میں شامل نہیں کیا تھا۔
عمراکمل اس سال آسٹریلیا کے خلاف ون ڈے سیریز میں نہ صرف ناکام رہے جس کی وجہ سے انھوں نے ورلڈ کپ کی ٹیم میں شامل ہونے کا موقع بھی گنوا دیا بلکہ اس سیریز کے دوران ان پر ٹیم منیجمنٹ نے کرفیو ٹائمنگ کی خلاف ورزی پر جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
سابق ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے عمر اکمل کو چیمپینز ٹرافی سے قبل دو دن میں دوبار فٹنس ٹیسٹ میں فیل ہونے پر انگلینڈ سے وطن واپس بھیج دیا تھا۔
احمد شہزاد کو گذشتہ سال مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی وجہ سے معطلی کا سامنا رہا تھا۔
2011 کی قائداعظم ٹرافی کے میچ میں امپائر کے فیصلے پر احتجاج کرنے پر انھیں ایک میچ کی پابندی اور جرمانے کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
احمد شہزاد، عمر اکمل کی جگہ کسے ٹیم میں ہونا چاہیے؟
گذشتہ سیزن میں کھیلے گئے قومی ٹی ٹوئنٹی کپ کے دو ٹاپ بیٹسمین خرم منظور اور رضوان حسین نظرانداز کر دیے گئے ہیں۔
خرم منظور نے آٹھ میچوں میں چار نصف سنچریوں کی مدد سے 322 رنز بنائے تھے جبکہ 23 سالہ رضوان حسین نے سات میچوں میں چار نصف سنچریاں بنائیں۔
سلیکشن کی غیر مستقل مزاج پالیسی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اسی سال جنوبی افریقہ میں کھیلی گئی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں 40 اور 55 رنز کی دو اہم اننگز کھیلنے والے حسین طلعت کا نام اب کہیں موجود نہیں۔











