#PAKvSL: کراچی ٹیسٹ میں پاکستان کی سری لنکا کے خلاف فتح، ہوم سیریز اپنے نام کر لی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@TheRealPCB
کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں نسیم شاہ کی پانچ وکٹوں کی مدد سے پاکستان نے سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ میچ اور سیریز میں فتح حاصل کر لی ہے۔
پاکستان نے سری لنکا کو 476 کا ہدف دیا گیا تھا تاہم وہ 212 کے مجموعی سکور پر آؤٹ ہوگئے۔ ہوم ٹیم نے پہلی اننگز میں ٹاس جیت کر محض 191 کے مجموعی سکور کے بعد دوسری اننگز میں عابد علی، شان مسعود، اظہر علی اور بابر اعظم کی سنچریوں کی بدولت 555 رنز کا انبار لگایا تھا۔
یہ پاکستان کی 13 برسوں میں اپنے ہوم گراؤنڈ پر پہلی فتح ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے اپنی سرزمین پر اپنا آخری ٹیسٹ ویسٹ انڈیز کے خلاف 2006 میں کراچی میں ہی جیتا تھا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کراچی ٹیسٹ میں چوتھے روز تین وکٹیں حاصل کرنے کے بعد 16 سالہ نسیم شاہ نے آخری دن دو مزید وکٹیں حاصل کیں اور ٹیسٹ کرکٹ میں پانچ وکٹیں لینے والے سب سے کم عمر کھلاڑی بن گئے۔
اپنے ٹیسٹ کریئر کے آغاز میں ہی دو سنچریوں کی وجہ سے عابد علی کو میچ اور سیریز کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہTwitter/@TheRealPCB
اس موقع پر بولنگ کوچ وقار یونس کا کہنا تھا کہ ’پاکستان میں کرکٹ کی واپسی ہوئی ہے اور یہ ایک جذباتی فتح ہے۔ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔‘ انھوں نے نوجوان نسیم شاہ کی تیز بولنگ کی تعریف کی ہے۔
سری لنکا کے اوشادہ فرنینڈو اپنی سنچری مکمل کرنے کے بعد یاسر شاہ کی گیند پر آؤٹ ہوئے جنھوں نے میچ میں دو وکٹیں حاصل کیں اور فارم میں واپس آتے دکھائی دیے۔

،تصویر کا ذریعہTwitter/@TheRealPCB
چوتھے روز کا کھیل
اتوار کو چوتھے روز کا کھیل پاکستان کے نام رہا۔ دن کے اختتام پر سری لنکا نے اپنی دوسری اننگز میں سات وکٹوں کے نقصان پر 212 رنز بنائے اور اسے اب بھی فتح کے لیے 264 رنز درکار تھے۔
چوتھے دن کے آغاز میں کپتان اظہر علی اور بابر اعظم دونوں نے سنچریاں بنا کر پاکستان کی برتری کو مزید مضبوط کیا۔ بابر اعظم نے محض 131 گیندوں پر اپنی سنچری مکمل کی جبکہ اظہر علی اپنی 16ویں ٹیسٹ سنچری بنانے کے بعد ایمبل دینیا کی گیند پر آؤٹ ہوئے تھے۔
سری لنکن بولر کمارا نے دو وکٹوں کے ساتھ نمایاں رہے۔
اس تحریر میں ایسا مواد ہے جو X کی جانب سے دیا گیا ہے۔ کسی بھی چیز کے لوڈ ہونے سے قبل ہم آپ سے اجازت چاہتے ہیں کیونکہ یہ ممکن ہے کہ وہ کوئی مخصوص کوکیز یا ٹیکنالوجیز کا استعمال کر رہے ہوں۔ آپ اسے تسلیم کرنے سے پہلے X ککی پالیسی اور پرائیویسی پالیسی پڑھنا چاہیں گے۔ اس مواد کو دیکھنے کے لیے ’تسلیم کریں، جاری رکھیں‘ پر کلک کریں۔
X پوسٹ کا اختتام
عابد علی، شان مسعود کی سنچریاں
تیسرے روز کا کھیل پاکستانی اوپنرز عابد علی اور شان مسعود کے نام رہا جن کی سنچریوں کی بدولت پاکستان کی میچ پر گرفت مضبوط ہوئی۔

،تصویر کا ذریعہPCB
تیسرے دن کے اختتام پر پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں دو وکٹوں کے نقصان پر 395 رنز بنائے۔ اس طرح مجموعی طور پر اسے سری لنکا پر 315 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔
عابد علی اور شان مسعود کے درمیان ہونے والی 278 رنز کی شراکت پاکستان کی تاریخ کی دوسری بڑی اوپننگ شراکت ثابت ہوئی۔
پچھلے دونوں دنوں کے برعکس تیسرے دن کے کھیل کے دوران صرف دو وکٹیں گریں اور یہ دونوں ہی لاہیرو کمارا نے حاصل کیں۔ اوپنر شان مسعود 135 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے جبکہ 174 رنز بنانے والے عابد علی ایل بی ڈبلیو ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شان مسعود اور عابد علی کے نام نیا ریکارڈ
یہ تیسرا موقع ہے کہ پاکستان کے دونوں اوپنرز نے ایک ہی اننگز میں سنچریاں بنائی ہیں۔
1997 میں ویسٹ انڈیز کے خلاف کراچی میں عامر سہیل اور اعجاز احمد نے سنچریاں بنائی تھیں۔ 2001 میں بنگلہ دیش کے خلاف ملتان ٹیسٹ میں توفیق عمر اور سعید انور نے سنچریاں سکور کی تھیں۔
اس سے قبل دوسرے روز کے اختتام پر سری لنکا کی ٹیم نے اپنی پہلی اننگز میں 271 رنز بنائے ہیں اور اس کو پہلی اننگز میں پاکستان پر 80 رنز کی برتری حاصل ہو گئی۔
پاکستان نے اپنی دوسری اننگز میں دوسرے دن کا کھیل ختم ہونے تک بنا کسی نقصان کے 14 اوورز میں 57 رنز بنائے تھے۔
سری لنکا کے آخری آؤٹ ہونے والے بیٹسمین لاہیرو کمارا تھے جو کوئی رنز نہ بنا سکے انھیں شاہین آفریدی نے آؤٹ کیا۔ جبکہ نویں آؤٹ ہونے والے سری لنکن بلے باز پریرا بھی 48 رنز کے انفرادی سکور پر شاہین شاہ آفریدی کا شکار ہوئے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس میچ کے لیے پاکستان نے پنڈی ٹیسٹ کھیلنے والی ٹیم میں صرف ایک تبدیلی کی اور یاسر شاہ کو عثمان شنواری کی جگہ ٹیم میں شامل کیا گیا۔ فواد عالم اس مرتبہ بھی ٹیم میں جگہ نہیں بنا پائے۔
سری لنکا نے بھی ٹیم میں ایک تبدیلی کی اور لستھ ایمبل دینیا کو ٹیم میں شامل کیا گیا۔

،تصویر کا ذریعہPCB
پاکستانی ٹیم: شان مسعود، اظہر علی، عابد علی، اسد شفیق، بابر اعظم،حارث سہیل، محمد رضوان، یاسر شاہ، شاہین آفریدی، محمد عباس، نسیم شاہ
سری لنکن ٹیم: ڈی میتھ کرونارتنے، کوشل مینڈس، دنیش چندی مل، انجیلو میتھیوز، دھنن جیایا ڈی سلوا، نیروشان ڈک ویلے، اوشادہ فرنینڈو، دلروان پریرا، وشوا فرنینڈو، لستھ ایمبل دینیا، لاہیرو کمارا










