#PAKvsSL: کراچی کا ’نیشنل سٹیڈیم‘ جہاں سری لنکا نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلا

،تصویر کا ذریعہGetty Images
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی
پاکستان اور سری لنکا کے درمیان دوسرا ٹیسٹ میچ آج کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔ پاکستان کے اس سب سے پرانے ٹیسٹ گراؤنڈ پر سری لنکا کی ٹیم اب تک پانچ ٹیسٹ میچ کھیل چکی ہے جس میں اسے چار میچوں میں شکست کا سامنا کرنا پڑا جبکہ ایک ٹیسٹ ڈرا ہوا۔
سری لنکا نے ٹیسٹ رکنیت ملنے کے بعد سنہ 1982 میں اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے پاکستان کا انتخاب کیا تھا اور تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کا پہلا میچ نیشنل اسٹیڈیم کراچی میں کھیلا گیا۔
بندولا ورنا پورا کی قیادت میں سری لنکا کی ٹیم نے یہ دورہ اس وقت کیا جب پاکستانی ٹیم کے دس سینئر کرکٹرز نے جاوید میانداد سے شدید اختلافات کے بعد ان کی قیادت میں کھیلنے سے انکار کردیا تھا۔
یہ بھی پڑھیے
ان کرکٹرز میں ماجد خان، وسیم باری، عمران خان، ظہیرعباس اور مدثر نذر قابل ذکر تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
پاکستان کرکٹ بورڈ کے ُاسوقت کے سربراہ ایئرمارشل نورخان نے سینئر کرکٹرز سے مذاکرات کیے تھے تاہم بورڈ نے جاوید میانداد کو کپتان برقرار رکھتے ہوئے چار نئے کرکٹرز کے ساتھ کراچی ٹیسٹ کھیلنے کا فیصلہ کیا۔
مڈل آرڈر بیٹسمین سلیم ملک، وکٹ کیپر سلیم یوسف، فاسٹ بولرز راشد خان اور طاہر نقاش کو ٹیسٹ کیپ دی گئی۔
سلیم ملک نے اپنے اولین ٹیسٹ کو سنچری سے یادگار بنایا جبکہ بولر کی حیثیت سے ٹیم میں شامل کیے گئے طاہر نقاش اور راشد خان نے نصف نصف سنچریاں بنا کر سب کو حیران کر دیا۔
ہارون رشید نے اپنے ٹیسٹ کریئر کا بہترین انفرادی 153 سکور بنایا لیکن پاکستان کی 204 رنز کی جیت میں اہم کردار ادا کرنے والے کھلاڑی اقبال قاسم تھے۔
انھوں نے پہلے تو نائٹ واچ مین کی حیثیت سے نصف سنچری سکور کی اور پھر دوسری اننگز میں صرف 27 رنز دے کر 4 وکٹیں حاصل کر کے سری لنکا کو 149رنز پر آؤٹ کردیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
عبدالقادر اور توصیف احمد کا جادو
سنہ 1985 میں سری لنکا کو نیشنل سٹیڈیم کراچی میں ایک بار پھر پاکستانی سپنرز کی عمدہ بولنگ کا سامنا رہا۔
اس بار انھیں سپن کے شکنجے میں جکڑنے والے عبدالقادر اور توصیف احمد تھے۔ پہلی اننگز میں عبدالقادر نے پانچ وکٹیں حاصل کیں جبکہ دوسری اننگز میں توصیف احمد پانچ وکٹیں لینے میں کامیاب رہے۔
اس اننگز میں اگرچہ اروندا ڈی سلوا نے سنچری بنائی تھی لیکن پاکستان کو جیتنے کے لیے صرف 98 رنز کا ہدف ملا جو اس نے بغیر کسی نقصان کے بنا کر یہ میچ 10 وکٹوں سے جیت لیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
انضمام الحق کی سنچری
مارچ 2000 میں کھیلے گئے ٹیسٹ میں بھی سری لنکا کے لیے حالات ماضی سے کسی طور مختلف نہ تھے اور 222 رنز کے واضح فرق سے شکست اس کے کھاتے میں درج ہو گئی۔
پاکستانی بیٹسمینوں کو دونوں اننگز میں متایا مرلی دھرن کے چیلنج کا سامنا رہا جنھوں نے میچ میں مجموعی طور پر آٹھ وکٹیں حاصل کی تھیں لیکن دونوں اننگز میں انضمام الحق کی ذمہ دارانہ بیٹنگ قابل ذکر رہی۔ پہلی اننگز میں انھوں نے86 رنز جبکہ دوسری اننگز میں 138 رنز اسکور کیے۔
سری لنکا کو میچ جیتنے کے لیے 451 رنز کا ہدف ملا تھا لیکن پاکستانی بولرز نے سری لنکا کی ٹیم کو 228 رنز پر آؤٹ کر دیا۔
شاہد آفریدی کےلیے یہ میچ اس لیے اچھا رہا کہ انھوں نے تین وکٹیں حاصل کرنے کے علاوہ پہلی اننگز میں اپنے مخصوص جارحانہ انداز میں 74 رنز بھی بنائے تھے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
کنیریا کی دس وکٹیں
سنہ 2004 میں ہونے والی سیریز کا پہلا ٹیسٹ سری لنکا کی ٹیم نے فیصل آباد میں 201رنز کے زبردست مارجن سے جیتا تھا، جس میں سنتھ جے سوریا کی ڈبل سنچری نمایاں تھی۔
کراچی ٹیسٹ میں پاکستانی ٹیم شعیب اختر اور محمد سمیع کی خدمات سے محروم ہو چکی تھی اور اس کا بولنگ اٹیک عبدالرزاق اور دانش کنیریا کے علاوہ رانا نوید الحسن اور ریاض آفریدی ( شاہین آفریدی کے بڑے بھائی ) پر مشتمل تھا۔
عبدالرزاق کی پانچ اور دانش کنیریا کی تین وکٹوں نے سری لنکا کی پہلی اننگز کو 208 رنز پر روک دیا اور پھر کپتان انضمام الحق اور یونس خان کی سنچریوں نے پاکستان کو پہلی اننگز میں 270 رنز سے سبقت دلا دی۔
سری لنکا کی دوسری اننگز میں سنتھ جے سوریا اور کمار سنگاکارا نے سنچریاں اسکور کیں۔ دانش کنیریا نے ساٹھ اوورز کی بولنگ کرتے ہوئے 118 رنز دے کر 7 وکٹیں حاصل کیں۔
پاکستان کو جیتنے کے لیے 137 رنز کا ہدف ملا جو اس نے چار وکٹوں کے نقصان پر پر حاصل کر کے سیریز کو برابر کردیا۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
یونس خان کی ٹرپل سنچری
سنہ 2009 میں سری لنکا کی ٹیم کا یہ دورہ لاہور ٹیسٹ کے دوران اس پر ہونے والے دہشت گرد حملے کی وجہ سے یاد رکھا جاتا ہے لیکن اس سے پہلے کراچی میں کھیلا گیا ٹیسٹ ڈرا ہو گیا اس طرح سری لنکا کی ٹیم اس میدان میں گذشتہ چار لگا تار ناکامیوں کا سلسلہ روکنے میں کامیاب ہو گئی۔
کراچی ٹیسٹ کئی اعتبار سے یادگار رہا جس میں مہیلا جے وردھنے اور تھلن سماراویرا نے ڈبل سنچریاں بنائیں اور کامران اکمل سنچری اسکور کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن اس ٹیسٹ کو یونس خان کی ٹرپل سنچری کی وجہ سے بھی یاد رکھا جاتا ہے۔
یونس خان نے 313 رنز کی شاندار اننگز کھیلی جو حنیف محمد اور انضمام الحق کے بعد پاکستان کی طرف سے تیسری ٹرپل سنچری تھی۔
اس ٹیسٹ میں پاکستان نے 6 وکٹوں پر765 رنز بنائے جو ٹیسٹ کرکٹ میں اس کا سب سے بڑا سکور بھی ہے۔












