امن کے لیے لڑائی: انڈیا کے نیرج گویاٹ کار حادثے کے بعد عامر خان کے ساتھ مقابلے سے باہر

باکسر عامر خان اور نیرج گوہاٹ

،تصویر کا ذریعہWBC

،تصویر کا کیپشنعامر خان اور نیرج گویاٹ کے درمیان مقابلہ 12 جولائی کو سعودی عرب میں ہوگا
    • مصنف, عمیر سلیمی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد

انڈیا کے باکسر نیرج کویاٹ کے ایک کار حادثے میں زخمی ہو جانے کے بعد عامر خان اب اگلے ماہ سعودی عرب میں منعقد کیے جانے والے مقابلے میں آسٹریلیا کے باکسر بلی ڈب کا سامنا کریں گے۔

واضح رہے کہ ابتدائی طور پر اس مقابلے میں عامر خان برطانیہ اور پاکستان دونوں کی نمائندگی کر رہے تھے جبکہ نیرج گویاٹ صرف انڈیا کی طرف سے لڑنے والے تھے۔

اس موقعے پر پاکستانی نژاد برطانوی باکسر عامر خان نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ کرکٹ ورلڈ کپ 2019 میں پاکستان کی انڈیا کے ہاتھوں شکست کا 'بدلہ' انڈیا کے باکسر نیرج گویاٹ سے جیت کر لیں گے۔

نئے حریف کون ہیں؟

تاہم اب ان کے مقابل آسٹریلیا کے بلی ڈب ہوں گے۔

33 سالہ سابقہ فیدر ویٹ عالمی چیمپیئن نے اس مقابلے میں گویاٹ کی جگہ خود کو لیے جانے کو اپنی زندگی کا حقیقی ’راکی مومنٹ‘ قرار دیا۔

اس موقعے پر عامر خان نے کہا ’مجھے امید ہے کہ راکی جلد ہی صحتیاب ہو جائیں گے۔‘

اب عامر کے نئے حریف بننے والے ڈِب اگست سنہ 2018 میں امریکہ کے ٹیون فارمر کے ہاتھوں شکست کے بعد باکسنگ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کیا تھا تاہم آٹھ ماہ بعد انھوں نے پھر سے رنگ میں لوٹنے کا اعلان کر دیا۔

جیتنے والے کھلاڑی کو انعام میں جو بیلٹ ملے گا اس پر پاکستان، انڈیا، برطانیہ اور سعودی عرب کے حھنڈے بنے ہوئے ہیں۔

عامر خان

،تصویر کا ذریعہTWITTER/@AMIRKINGKHAN

،تصویر کا کیپشنمقابلے میں عامر خان برطانیہ اور پاکستان دونوں کی نمائندگی کررہے ہیں

مقابلہ کب اور کہاں ہورہا ہے؟

یہ مقابلہ 12 جولائی کو سعودی عرب میں ہوگا۔ اس لڑائی کا انعقاد جدّہ کے ’کِنگ عبداللہ سپورٹس سِٹی‘ میں ہورہا ہے۔

یہ مقابلہ سعودی جنرل سپورٹس اتھارٹی کے تعاون سے منعقد کیا جا رہا ہے اور یہ سعودی عرب میں اصلاحات کے عمل کا حصہ ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پاکستان اور انڈیا میں امن کے لیے لڑائی سے تشبیہ

27 سالہ نیرج گویاٹ کو اپنا حریف چُننے پر 32 سالہ عامر خان کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا تاہم اُمید کی جارہی تھی کہ پاکستان کے وزیرِاعظم عمران خان یہ مقابلہ دیکھنے سعودی عرب جائیں گے اور انڈین وزیراعظم نریندر مودی کو بھی دعوت نامہ بھجوایا جا چکا تھا۔

اس لڑائی کو منتظمین کی جانب سے 'قیامِ امن کے لیے کی جانے والی لڑائی' بھی کہا جا رہا تھا۔

عامر خان انڈین باکسر سے مقابے پر کافی پر جوش تھے اور ان کا کہنا تھا ’یہ پہلی مرتبہ ہورہا ہے کہ ایک انڈین باکسر کا مقابلہ پاکستانی باکسر سے ہو رہا ہے اور میرے لیے یہ بہت دلچسپی کا باعث ہے۔ اس سے دونوں ملک ایک دوسرے کے نزدیک آئیں گے۔‘

باکسر عامر خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشننیو یارک میں ایک مقابلے کے دوران عامر خان کو ڈبلیو بی او ورلڈ ویلٹر ویٹ چیمپیئن ٹیرنس کرائفورڈ کے ایک لو پنچ کے بعد مقابلہ ختم کرنا پڑا تھا

یہ لڑائی عامر خان اور گویاٹ دونوں کے لیے اہم تھی

دو مرتبہ عالمی چیمپیئن بننے والے عامرخان کے کریئر میں کئی اُتارچڑھاؤ آئے ہیں مگر یہ لڑائی ان کے لیے اتنی ہی اہمیت کی حامل تھی جتنی اُبھرتے ہوئے باکسر نیرج گویاٹ کے لیے۔

سنہ 2016 میں سابق لائٹ اور ویلٹر ویٹ عالمی چیمپیئن عامر خان امریکہ کے شہر لاس ویگاس میں کینیلو الواریز کے ہاتھوں ناک آؤٹ ہوئے تھے، جس کے دو سال بعد انھوں نے کینیڈا کے حریف فل لو گریکو کو صرف 40 سیکنڈ میں ڈھیر کر دیا تھا۔

رواں سال اپریل میں ایک لڑائی کے دوران عامر خان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

نیویارک میں ہونے والے اس مقابلے میں عامرخان کو ڈبلیو بی او ورلڈ ویلٹر ویٹ چیمپیئن ٹیرنس کرائفورڈ کے ان کے جسم کے زیریں حصے پر مکا مارا تھا جس کے بعد مقابلہ ختم کرنا پڑا تھا۔ کرائفورڈ نے انھیں پہلے ہی راؤنڈ میں چت کردیا تھا اور تینوں کے تینوں ججوں نے کرائفورڈ کو زیادہ پوائنٹس دیے تھے۔

عامر خان

،تصویر کا ذریعہGetty Images

،تصویر کا کیپشنعامر خان اور نیرج گویاٹ کے درمیان مقابلہ 12 جولائی کو سعودی عرب میں ہوگا

میچ کے بعد عامرخان سے جب پوچھا گیا کہ آیا یہ ان کی آخری لڑائی تھی، تو اُن کا کہنا تھا کہ 'ہرگز نہیں۔ مُکا کھا کر چِت ہونے کےعلاوہ یہ کوئی اتنی ظالمانہ لڑائی نہیں تھی۔'

'اچھا نہ لڑا تو ریٹائر ہوجاؤں گا'

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے عامر خان نے بتایا کہ وہ غور کریں گے کہ وہ اِس لڑائی کے دوران کیسا محسوس کرتا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ’اگر مجھے اچھا نہ لگا تو میں اس دن رخصت ہوجاؤں گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ اپنی ریٹائرمنٹ کا فیصلہ وہ خود کریں۔ ‘میں نہیں چاہتا کہ مجھے زبردستی ریٹائر کر دیا جائے۔'

ٹائٹل بیلٹ

،تصویر کا ذریعہWBC

،تصویر کا کیپشنجیتنے والے کھلاڑی کو انعام میں جو بیلٹ ملے گا اس پر پاکستان، انڈیا، برطانیہ اور سعودی عرب کے حھنڈے بنے ہوئے ہیں

سنہ 2004 کے اولمپکس مقابلوں میں چاندی کا تمغہ جیتنے والے باکسر نے مزید کہا کہ 'میں نے وہ سب حاصل کر لیا ہے جو میں اس کھیل میں حاصل کرنا چاہتا تھا۔ اب میں صرف اس کھیل سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔'

'اگر کچھ بھی صحیح نہ رہا یا مجھے ٹھیک نہ لگا تو میں ریٹائر ہو جاؤں گا۔'

انھوں نے بتایا کہ 'کرائفورڈ سے ہار کے بعد میں چاہتا تھا کہ ایک وارم اپ میچ کھیلوں جس سے میں دوبارہ فارم میں آ کر جیت سکوں۔'