ایشیا کپ میں پتہ نہیں کیوں سرفراز احمد سہمے ہوئے نظر آئے: شعیب اختر

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, عبدالرشید شکور
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دبئی
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر نے کپتان سرفراز احمد کو مشورہ دیا ہے کہ اگر وہ پاکستانی ٹیم کی کپتانی کرتے رہنا چاہتے ہیں تو انہیں جرات مندانہ فیصلے کرنے ہوں گے خصوصاً ٹیم کے گیارہ کھلاڑیوں کے سلیکشن میں انہیں اپنی رائے کو منوانا ہو گا۔
شعیب اختر ایشیا کپ کی کمنٹری کے لیے دبئی میں موجود تھے۔ انہوں نے جمعے دبئی کرکٹ سٹیڈیم میں بی بی سی اردو کو دیے گئے تفصیلی انٹرویو میں کہا کہ سرفراز احمد نے چیمپینز ٹرافی میں جس ذہانت اور دلیری کے ساتھ کپتانی کی تھی ایشیا کپ میں وہ اس انداز سے کپتانی نہ کر سکے۔
شعیب اختر کا کہنا ہے کہ انہیں حیرت اس بات پر ہے کہ سرفراز احمد پورے ٹورنامنٹ میں اتنے سہمے ہوئے کیوں نظر آئے۔
راولپنڈی ایکسپریس کا کہنا ہے کہ سرفراز احمد اپنی ٹیم کا انتخاب خود کریں۔
انہیں اپنی رائے کو منوانا چاہیے کہ حتمی الیون میں انہیں کون سے کھلاڑی چاہئیں اور انہیں کون سے کھلاڑی کھلانے ہیں۔ وہ اپنی فائنل الیون بنانا سیکھیں۔
اس بارے میں مزید پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہGetty Images
شعیب اختر کا کہنا ہے کہ اگر آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں سرفراز احمد کی بیٹنگ ناکام رہی اور انہوں نے سمارٹ کپتانی نہیں کی تو پھر انہیں یہ لگتا ہے کہ ٹیسٹ ٹیم کی کپتانی بابراعظم کے حوالے کر دی جائے گی لیکن وہ چاہتے ہیں کہ سرفراز احمد دباؤ کو قبول کریں اس کا بھرپور انداز میں سامنا کریں اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں۔
شعیب اختر نے ایشیا کپ کے لیے منتخب کردہ ٹیم پر بھی عدم اطمینان ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ٹیم سلیکشن میں بھی سوالیہ نشان لگا ہوا ہے حتمی الیون کنفیوژن کا شکار تھی۔
انھوں نے کہا کہ ٹیم میں کس کو ڈراپ کرنا تھا کس کو نہیں کرنا تھا یہ بھی پتہ نہیں چل سکا اور آخری لمحات تک کنفیوژن ہی رہی۔ پاکستانی ٹیم نروس اور دباؤ کا شکار دکھائی دی۔
شعیب اختر نے پاکستانی بولنگ کے بارے میں کہا کہ جب کنڈیشنز پاکستانی بولرز کے لیے موافق نہ ہوں تو وہ ایکسپوز ہو جاتے ہیں۔
شعیب اختر کے خیال میں اس وقت پورا ملک ٹیم پر تنقید کر رہا ہے لیکن اس ٹیم کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں ہر فارمیٹ کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ کون کس فارمیٹ کے لیے موزوں ہے کھلاڑیوں کا انتخاب کرنا ہوگا۔ ون ڈے میں ہمیں دیکھنا ہوگا کہ جن کرکٹرز کو ہم ٹیم میں شامل کررہے ہیں کیا وہ 30،35 اوورز تک بیٹنگ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا نہیں؟











