بنگلہ دیش جیت گیا اور جنید خان ہار گئے

،تصویر کا ذریعہAFP
- مصنف, سمیع چوہدری
- عہدہ, کرکٹ تجزیہ کار
جنید خان کا المیہ بھی کچھ عجیب ہے۔ پچھلے سال جب پاکستان دھڑا دھڑ جیت رہا تھا تب اس ٹیم کو جنید خان کی ضرورت نہیں تھی۔ ستم ظریفی کہیے کہ کل جب وہ ٹیم میں لوٹے، تب بھی غالباً اس ٹیم کو جنید خان کی ضرورت نہیں تھی۔
مگر جنید خان کو بذات خود اس ٹیم کی بھی ضرورت تھی اور ایسی پرفارمنس کی بھی۔
یہی کوئی ڈھائی تین سال پہلے جنید خان اس بولنگ اٹیک کے مرکزی کردار ہوا کرتے تھے مگر گھٹنے کی تکلیف کیریئر کے آڑے آنے لگی۔ اور اب یہ عالم ہوا کہ پانچ پانچ میچ باہر بیٹھے ہی گزر جاتے ہیں۔
ایشیا کپ کے بارے میں مزید پڑھیے
کل بڑی مدت بعد وہی جنید خان پلٹتے دکھائی دئیے جو کرکٹ کی پچ پہ ہی شطرنج کی چالیں بچھا دیتے تھے اور دھیرے دھیرے بلے باز کو کریز سے گھسیٹ کر باہر لاتے اور اچانک سے وکٹ لے اڑتے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
سومیا سرکار کی بدقسمتی رہی کہ انہیں کم بیک پر اس طرح کی بولنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بعد جس گیند کا سامنا لٹن داس کو کرنا پڑا، وہ بڑے بڑے لیفٹ آرم پیسرز کا خواب ہوتا ہے۔ آف سٹمپ چینل، پرفیکٹ لینتھ، باہری کنارے سے بچ کر گیند سٹمپس میں۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ایک لمحے کو گماں ہوا کہ شاید یہ پوری بنگلہ دیشی اننگز آدھ پون گھنٹے میں ہی نمٹ جائے گی۔ کیونکہ دوسرے اینڈ سے شاہین آفریدی بھی ایسی ہی تباہ کن بولنگ کر رہے تھے۔
لیکن پھر پتا نہیں ایسا کیا ماحولیاتی تغیر روپذیر ہوا کہ دونوں پیسرز کو اٹیک سے ہٹا کر فیلڈ میں ذمہ داریاں سونپ دی گئیں اور سپنرز نے اٹیک کرنا شروع کر دیا۔
جہاں ایسی خوفناک لیفٹ آرم فاسٹ بولنگ ہو رہی تھی کہ کراؤڈ کو بھی سانپ سونگھ گیا تھا، وہیں اچانک مطلع ایسا صاف ہوا کہ وکٹ پہ امن و آشتی کا گہوارہ سا بننے لگا۔
بنگلہ دیش جو بارہ رنز پر ہی تین وکٹوں سے محروم ہو چکا تھا، ہنستے کھیلتے 144 رنز کی پارٹنرشپ بنا گیا۔
اور جن بولروں نے پہلے پانچ اوورز میں بنگلہ دیشی بیٹنگ پر قہر ڈھا رکھا تھا، وہ باؤنڈری لائن پر فیلڈنگ کرتے رہ گئے۔ کسی نے انہیں زحمت نہ دی کہ حضور ذرا یہ گتھی تو سلجھا دیجئے، دو لڑکےآوٹ نہیں ہو رہے۔

،تصویر کا ذریعہAFP
میچ کے دوران بارہا تولیوں، ہیلمٹس اور پانی کی بوتلوں کے ساتھ ڈریسنگ روم سے پیغامات آتے رہتے ہیں مگر اس پارٹنرشپ کے دوران ایسا سکوت طاری ہوا کہ تھنک ٹینک بھی کوئی سٹریٹیجی ارسال نہ کر پایا۔
یقین جانیے یہی میچ جنید خان اور شاہین آفریدی کسی اور ٹیم کی طرف سے کھیل رہے ہوتے تو ایسی پارٹنرشپ تو دور، 144 رنز کا ٹیم ٹوٹل بھی نہ بن پاتا۔
اس پورے ٹورنامنٹ میں صرف پہلے میچ کو منہا کر کے دیکھیے تو متواتر ایک عجیب سا شکست کا خوف پاکستان پہ طاری رہا ہے۔
گردنیں جھکی رہی ہیں۔ بے یقینی ایسی ہے کہ پچھلے ایک سال کے بہترین فیلڈرز ہی یہاں بدترین فیلڈنگ کرتے پائے گئے ہیں۔
کسی بولنگ یونٹ کی استعداد کا ایک بہت بڑا جزو اس کی فیلڈنگ ہوتی ہے۔ مگر یہاں کوئی ایسی ہڑبڑاہٹ طاری تھی کہ ایک ہی بولر کے تین تین کیچ ڈراپ ہوتے رہے؟

،تصویر کا ذریعہAFP
اور اس خوف کی تہہ میں خود اعتمادی ہے۔ وہ حدوں کو پھلانگتی خود اعتمادی کہ اس ٹورنامنٹ کے آغاز سے پہلے پاکستانی سٹارز کا سارا دھیان انڈیا میچز کے حوالے سے بیان بازی پر رہا۔
اس بیچ ان گہرے مسائل پہ غور کرنے کی زحمت ہی نہ ہوئی جو یو اے ای میں اس ٹیم کی راہ تک رہے تھے۔
کیا ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے کسی نے نہیں سوچا کہ یہاں کتنے پیسرز اور کیسے سپنرز درکار ہوں گے؟ اگر فخر زمان ناکام ہو گئے تو اکیلے شعیب ملک کب تک بوجھ اٹھائیں گے۔ تعجب کا مقام ہے کہ حارث سہیل بینچ پہ بیٹھے رہ گئے اور مڈل آرڈر فیل ہوتا رہا۔
اگلے کچھ دنوں میں شاید بہت انگلیاں اٹھیں گی۔ مگر کچھ بھی بتانے سے پہلے ذرا یہ گتھی تو سلجھا دیجیے کہ پہلے پانچ اوورز میں جیسی یلغار جنید خان اور شاہین آفریدی نے کی تھی، اس کے بعد کیونکر یہ ممکن ہو پڑا کہ بنگلہ دیش جیت گیا اور جنید خان ہار گئے۔
یقیناً اس بار تھنک ٹینک سے کوئی بڑی بھول ہوئی ہے۔









